خلائی دوربین سے بلیک ہول کی ’ڈکار‘ کا مشاہدہ

،تصویر کا ذریعہThinkstock
ماہرین فلکیات نے ایک قریبی کہکشاں کے قلب میں موجود بلیک ہول سے گیس کی دو لہریں خارج ہوتے دیکھی ہیں جسے وہ ’بلیک ہول کی ڈکار‘ سے تعبیر کر رہے ہیں۔
ناسا کی خلائی دوربین ’چندر‘ سے لی جانے والی ایکس رے تصاویر میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گرم گیسوں کے گچھے اپنے آگے ٹھنڈی ہائیڈروجن گیس کو بہاتے لے گئے ہیں۔
یہ ڈکار کے بڑے ہلکورے ’این جی سی 5194‘ نامی کہکشاں پر پیدا ہوئے ہیں اور یہ ’ورل پول‘ نامی کہکشاں کی جڑواں مگر قدرے نظر انداز کہکشاں ہے جو ہم سے دو کروڑ 60 لاکھ نوری سال کے فاصلے پر ہے۔
اس طرح یہ سب سے نزدیک کی بلیک ہولز میں سے ایک ہے جہاں سے گیس کےگچھے نکلے ہیں۔
یہ دریافت فلوریڈا میں منعقدہ امریکن ایسٹرنومیکل سوسائٹی (اے اے ایس) کے 227 ویں اجلاس میں پیش کی گئی ہے۔
اسے سائنسدانوں نے انتہائی بڑے بلیک ہول اور اس کو اپنے یہاں رکھنے والی کہکشاں کے درمیان ’فیڈ بیک سے تعبیر کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہOther
ہارورڈ سمتھ سونین میں ایسٹرو فزکس شعبے کی اس دریافت کی شریک مصنف میری ماچاسیک نے کہا: ’ہمارے خیال میں یہ فیڈ بیک کہکشاؤں کو بہت زیادہ وسیع ہونے سے روکتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ اعمال ستاروں کے پیدا ہونے کے ذمہ دار بھی ہو سکتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا: ’اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بلیک ہولز صرف برباد نہیں کرتے بلکہ بناتے بھی ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بلیک ہولز کے بارے میں یہ باتیں عام ہیں کہ یہ گیس اور ستاروں کو نگل جاتے ہیں لیکن سائنسدانوں کی ٹیم کا کہنا ہے کہ ان سے نکلنے والے گیس کے دو لہردار گچھے جو تصاویر میں نظر آئے ہیں وہ ایسے ہیں جیسے کہ بہت کھانے کے بعد ڈکار لی جائے۔

،تصویر کا ذریعہOther
کہکشاں این جی سی 5194 کے مرکز میں موجود بلیک ہول نے شاید چھوٹی کہکشاؤں اور ان کی پڑوسی بڑی اورگھماؤ دار کہکشاؤں کے اختلاط و ارتباط سے خارج ہونے والی گیسوں اور مادوں کو نگل لیا ہو اور جب یہ مادے بلیک ہول میں گئے ہوں تو انھوں نے زبردست توانائي پیدا کی ہو جس سے یہ چیزیں باہر نکلی ہیں جنھیں ڈکار سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔
اس مطالعے کے سرخیل ٹیکسس یونیورسٹی کے ایرک شلیگل نے وضاحت کی کہ اہم مشاہدہ نسبتاً زیادہ ٹھنڈی ہائڈروجن گیس کا گرم ایکس رے چھوڑتی لہر سے آگے آگے چلنا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ برف میں ہل جوتنے کی بہترین مثال ہے جو ابھی تک ہم نے دیکھی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اگر یہ ہائیڈروجن الفا تصویر نہیں ہوتی تو میں اس کے بارے میں قدرے مشکوک ہوتا۔ میں کہتا کہ ہو سکتا ہے یہ کوئی چیز ہے جو چلی جا رہی ہے یا نکل رہی ہے۔
’لیکن ہائیڈروجن کا دھبہ جو پتلے طور پر گرم گیس کی قوس کے آگے پھیل رہا تھا اور جسے ہم نے چندر ایکس رے تصاویر میں دیکھا اس سے اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ نگلنے کے بجائے بلیک ہول کا ڈکار لینا ہے۔‘







