چینئی کا سیلاب: ماحولیاتی تبدیلی یا انسانی عوامل

 شہر کا ماسٹر پلان سنہ 2008 میں تیار ہوا تھا لیکن شہر کا بہت بڑا حصہ کسی منصوبے کے بغیر پھیلتا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن شہر کا ماسٹر پلان سنہ 2008 میں تیار ہوا تھا لیکن شہر کا بہت بڑا حصہ کسی منصوبے کے بغیر پھیلتا جا رہا ہے

بھارت کے شہر چینئی میں شدید بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب کے بعد شہر کی حالت دیکھ کر یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بارش، قحط، سمندری طوفان جیسی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیاریاں ناکافی ہیں۔

جون سے ستمبر کے مون سون کے موسم کے دوران بھارت کے کئی علاقوں میں ہر سال سیلاب آتے ہیں۔

43 لاکھ کی آبادی کے شہر چینئی میں گذشتہ کچھ دنوں میں ہونے والی بارش نے سو سالہ ریکارڈ توڑ دیا اور مجموعی طور پر 499 ملی میٹر بارش ہوئی۔اس سیلاب نے بھارت کے بڑے شہروں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

منصوبہ بندی کرنے والے، تعمیرات کے شعبے کے افراد، انتظامیہ اور یہاں تک کہ عام آدمی نے بھی ماحول سے ربط ختم کر دیا ہے۔

چینئی میں چینئی کارپوریشن اور میٹرو پولیٹن ڈیوپلیمنٹ اتھارٹی، شہر میں تعمیرات اور پلاننگ کے شعبے کی ذمہ دار ہیں۔ شہر کا ماسٹر پلان سنہ 2008 میں تیار ہوا تھا لیکن شہر کا بہت بڑا حصہ کسی منصوبے کے بغیر پھیلتا جا رہا ہے، نہ تو موسم کی شدت کا خیال کیا جا رہا ہے اور نہ ہی پانی کے بہاؤ کا۔

شہر میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

جیسے کہ بھارتی اخبار انڈین ایکسپرس کا کہنا ہے کہ ’20 سال پہلے جہاں نہریں تھیں، جھیلیں تھیں یا دریا تھے اب وہاں کثیر منزلہ عمارتیں ہیں۔

شہر کی بلدیہ کا کہنا ہے کہ ’ڈیڑھ لاکھ سے زائد غیر قانونی تعمیرات ہیں اور تین سو تالاب اور نہریں ختم ہو گئی ہیں۔‘

شہر میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ بھی جاری ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنشہر میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ بھی جاری ہے

شہر کا انفارمیشن ٹیکنالوجی پارک میں سیلابی پانی کھڑا ہے، یہ اُس جگہ بنایا گیا ہے جہاں دو جھیلوں کا پانی اکٹھا ہو کر ساتھ کے علاقے میں گرتا تھا۔ شہر میںانفارمیشن ٹیکنالوجی کے زیادہ تر ادارے آبی گزر گاہوں اور دلدلی علاقوں پر تعمیر کی گئی ہیں۔

گاڑیاں بنانے کے لیے شہر کا مشہور علاقہ بھی اُس جگہ بنایا گیا ہے جہاں سے پانی گزر کر جھیلوں میں جاتا تھا۔

مدارس میں انجینیئرنگ کی تعلیم کا اعلی ترین ادارے آئی آئی ٹی پر الزام ہے کہ اُس کی تعمیر کے لیے 52 ایکٹر کی اراضی پر جنگلات کو کاٹا گیا اور کیمپس میں نئی تعمیرات کے لیے سنہ 2001 سے 2013 کے دوران آٹھ ہزار درخت کاٹے گئے۔

اطلاعات ہیں کہ تعمیرات کے منصوبوں پر ماحولیاتی ادارے سے منظوری نہیں لی گئی۔

پلاسٹک ایک اور عنصر ہے، نومبر میں ہونے والی پہلی بارش میں پلاسٹک کا کچرا دریائے میں بہہ گیا اور سمندر میں پانی کی سطح بلند ہونے کے بعد دوبارہ ساحلِ سمندر آ گیا۔

شہر کے ساحلی علاقوں میں کئی جگہوں پر پلاسٹک کا کوڑا کرکٹ دکھائی دے گا۔ پلاسٹک ایسی چیز ہے جو کبھی بھی تلف نہیں ہوتی اور آبی گزر گاہوں، سیوریج کے نظام میں خلل کا باعث بنتی ہے۔