کینسر سے بچاؤ میں ایسپرین کتنی کارآمد؟ برطانیہ میں کلینکل تجربے شروع

،تصویر کا ذریعہAFP
کینسر سے بچاؤ میں ایسپرین کتنی سود مند ہے اس حوالے سے برطانیہ میں کینسر کے مریضوں پر ایسپرین کا کلینکل تجربہ کیا جا رہا ہے۔
اس تحقیق میں چھاتی، معدے اور مثانے کے کینسر میں مبتلا 1100 مریضوں کو شاملِ تحقیق کیا جائے گا۔
حالیہ کچھ عرصے میں ایسپرین کے انسداد کینسر ہونے کے بارے میں طبی حلقوں میں بہت بحث ہوئی ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر دوائی کے استعمال سے کینسر کے مریضوں کو فائدہ ہوا تو یہ بہت ’بڑا تبدیلی‘ ہو گی اور کینسر کے مرض میں مبتلا افراد کو سستا اور سود مند علاج میسر ہو سکے گا۔
اس تحقیق کے دوران کینسر کے مریضوں کو ایسپرین کی ایک گولی روزانہ پانچ سال تک استعمال کرنا ہو گی۔
محقیق ایسپرین کی مختلف مقدار لینے والے مریضوں کا معائنہ کریں گے اور ان کا ایسے مریضوں کے ساتھ موازنہ کیا جائے جو مختلف ادویات استعمال کرتے ہیں۔
کینسر ریسرچ یو کے سے وابستہ ڈاکٹر فیونا کہتی ہیں کہ ’یہ تجربہ بہت دلچسپ ہے کیونکہ کینسر دوبارہ ہونے کے بعد اُس کا علاج کرنا مشکل ہے۔ اس لیے سستی اور موثر دوا مریضوں کے لیے بڑی تبدیلی ہو گی۔‘
برطانیہ میں یہ تجربہ کینسر کا علاج کرنے والے ایسے 100 سینٹرز میں کیا جائے گا جنھیں کم سے کم 12 سال کا پیشہ وارانہ تجربہ ہو لیکن سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ ایسپرین ہر ایک کے علاج میں فائدہ مند نہیں ہو سکتی ہے اس لیے طبی مشورے کے بغیر اس کا استعمال نہ کیا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایسپرین کے روزانہ استمال سے صحت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں جیسے السر، معدے یا دماغ سے خون رسنا وغیرہ
کینسر پر ایسپرین کی تحقیق کے اہم ریسرچر پروفیسر روتھ لینگلے کا کہنا ہے کہ ’بہت دلچسپ ریسرچ ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ کینسر کی ابتدائی سٹیج پر ایسپرین کے استعمال سے مرض کی شدت کو موخر کیا جا سکتا ہے لیکن اس کا کوئی واضح ثبوت نہیں ہے۔‘
’اس تجربے کا مقصد ان ہی سوالوں کے جواب تلاش کرنا ہے۔‘
یاد رہے کہ عارضہِ قلب میں مبتلا بہت سے مریضوں کو روزانہ کی بنیاد پر ایسپرین تجویز کی جاتی ہے۔







