سچ بولنے کی دوا

فلموں اور ٹی وی ڈراموں میں سوڈیم تھیوپینٹل کو اکثر ایک ایسی دوا کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس کی خوراک پلا کر قیدیوں سے صحیح معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔
سائنس کے نامہ نگار مائیکل موزلی نے ایک ذاتی سائنسی تجربے کے بعد کہا ہے کہ سچ بولنے پر مجبور کرنے کی کوئی قابل اعتماد دوا ابھی نہیں بنائی جا سکی ہے۔
ہماری روزہ مرہ زندگی میں جھوٹ اور سچ میں امتیاز کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
جھوٹے کا پتہ لگانے کے بارے میں کئی روایات ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جھوٹ بولتے وقت جھوٹا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے سے گریز کرے گا، اپنے پاؤں ہلائے گا یا پھر اپنی ناک کھجائے گا۔ اس کے باوجود ہم اکثر جھوٹ بولتے ہیں اور ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کب ہم سے جان بوجھ کر دیدہ دانستہ جھوٹ بولا جا رہا ہے۔
بے شمار تجزیوں کے بعد یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ پشیہ وار لوگ جیسا کہ پولیس کے تفتیشی افسران جھوٹوں کا پتہ لگانے میں کسی عام شخص سے بہتر نہیں ہوتے۔ لہذا یہ بات کسی طور پر بھی حیران کن نہیں ہے کہ سائنسدان ایک عرصے سے اس بات کی کوشش میں ہیں کہ کوئی ایسی دوا ایجاد کی جائے جس سے انسان سے سچ اگلوایا جا سکے۔
اس طرح کی دواؤں میں سب سے پرانی اور مقبول دوا سوڈیم تھیوپینٹل ہے۔ گو کہ یہ سنہ انیس سو تیس میں بنائی گئی تھی لیکن یہ آج بھی بہت سی جگہوں اور صورتوں میں استعمال کی جاتی ہے اور چند ملکوں میں اسے پولیس اور فوج کے تفتیشی ادارے بھی استعمال کرتے ہیں۔
میرے لیے یہ کافی حیران کن بات تھی لیکن میں اس بارے میں شک میں بھی مبتلا تھا کہ سوڈیم تھیو پیٹل جسے بنیادی طور پر ایک بے ہوشی طاری کرنے والی یا درد سے نجات کی دوا کے طور پر بنایا گیا تھا لوگوں سے سچ اگلوانے میں مدد گار ہو سکتی ہے۔ اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ ادویات کی تاریخ کے بارے میں اپنی سیریز کے دوران اس دوا کا بھی تجربہ کروں۔

سوڈیم تھیوپیٹل دواوں کے ’برابیٹیوریٹس‘ گروپ سے تعلق رکھتی ہے جس کو انیس پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں لوگ پرسکون نیند کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اب اسے اس مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا ہے کیونکہ لوگ اس کے عادی ہو جاتے ہیں اور یہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ مارلن منرو باربیٹوریٹس کی دوا زیادہ مقدار میں لینے سے ہی ہلاک ہوئی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میں نے سوڈیم تھیوپیٹل کی ایک ہلکی خوارک لینے کا فیصلہ کیا اور اس دوران ’اینس تھیسیا‘ کے ایک ماہر ڈاکٹر اہم اعضاء کی نگرانی کرتے رہے۔ باربیٹوریٹس آپ کے اعصابی نظام کو سست کر دیتی ہے اور ذہن کے ایک حصے سے پیغامات کی دوسرے حصوں تک ترسیل کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔
آپ کے سوچنے کی رفتار کم ہو جاتی ہے حتی کہ آپ پر غنودگی طاری ہو جاتی ہے۔ تھیو پینٹل سے یہ عمل بہت تیزی سے ہوتا ہے۔
مشاہدے سے معلوم ہوا اس کے دوا کے اثر میں جب انسانی نیم غنودگی کی حالت میں ہوتا ہے وہ بولنے لگاتا ہے اور جب دوا کا اثر ختم ہوتا ہے تو اس کو یاد نہیں رہتا ہے کہ وہ نیم غنودگی کی حالت میں کیا کہتا رہا ہے۔
اس بنا پر فیصلہ کیا گیا کہ اس دوا کو سچ اگلوانے کی دوا کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ایک واقعی کارگر دوا ہے؟
یہ سوچ کے کہ میں سائنس کے نامہ نگار مائیکل موزلی کے بجائے میں ایک سرجن ڈاکٹر مائیکل موزلی ہوں۔ ہم نے بڑی ہلکی خوراک سے شروع کیا۔ فوری طور پر میں سر چکرانے لگا اور نشہ کی کیفت طاری ہو گئی۔ لیکن کیا اس وجہ سے میں سچ بولنے پر مجبور ہوا؟
انگریزی کی ایک مشہور کہاوت ہے کہ وائن میں سچ ہوتا ہے۔ الکحل یا شراب میں بھی اس طرح کا اثر ہوتا ہے۔ شراب بھی ذہن کے ان حصوں پر اثر انداز ہوتی ہے جہاں سے ہم اپنی سوچ اور فکر کو کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ ہمارے تحفظات ختم کر دیتی ہے اور سوچنے سمجھنے کے عمل کو بھی سست کر دیتی ہے جس سے واضح طور پر سوچنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ایک رومی تاریخ دان کےمطابق جرمن قبائل شراب پی کر اپنی کونسل کے اجلاس کیا کرتے تھے کیونکہ ان کے خیال میں نشے کی حالت میں جھوٹ بولنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ایک مفروضہ ہے کہ سوڈیم تھیوپیٹل اس طرح ہی اثر انداز ہوتی ہے۔ جھوٹ بولنا سچ بولنے سے زیادہ مشکل اور پیچیدہ عمل ہے اور اگر آپ اپنے ذہن کے ’ہائر کورٹیکل‘ نظام کو سست کر دیں گے تو آپ کے سچ بولنے کا امکان بڑھ جائے گا اس لیے کہ سچ بولنا آسان ہوتا ہے۔
میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ میں جھوٹ بولنے یا سچ کو چھپانے میں کس حد تک کامیاب رہا لیکن مجھے یہ معلوم ہو گیا کہ میں اس کے باوجود جھوٹ بول سکتا ہوں۔
’میں امراض قلب کا ۔۔۔ہا ہا ہا۔۔۔ امراض قلب کا سرجن ہوں دنیا کا مشہور سرجن ۔۔میں چلایا جب ڈاکٹر لیچ نے مجھے سے غنودگی کے عالم میرے پیشے کے بارے میں سوال کیا۔
انھوں نے پوچھا کہ میں نے آخری آپریش کس کا کیا تھا۔ میں نے جواب گھڑا کہ یہ ایک بائی پاس کا آپریشن تھا۔
’یہ ایک شاندار آپریشن تھا۔‘
یہ کوئی بہت متاثر کن کارکردگی نہیں تھی لیکن میں اپنی بنائی ہوئی کہانی پر قائم رہا۔ لیکن دوا بڑھانے کی صورت میں کیا ہوا۔
اس موقع میں مجھے کچھ گھبراہٹ محسوس ہوئی۔ خطرہ اس بات کا تھا کہ میں کہیں وہ سب کچھ نہ کہہ دوں جو دنیا سننا چاہتی ہے۔ اپنے جھوٹ بولنے کی صلاحیت پر بھروسہ کرتے ہوئے میں نے ڈاکٹر لیچ سے کہا کہ خوراک میں اضافہ کریں۔
مجھے ذرا زیادہ مقدار میں دوا دی گئی۔ اس مرتبہ میں زیادہ متین ہو گیا۔ لیکن اس کے بعد کیا ہوا وہ واقعی حیران کن تھا۔
ڈاکٹر لیچ نے مجھ سے میرے نام اور پیشے کے بارے میں دریافت کیا۔ اس مرتبہ کوئی شرم یا ہچکچاہٹ نہیں تھی۔
’میں ٹی وی پیش کار ہوں۔ اصل میں ایکزیکیٹو پروڈیوسر اور پیش کار اصل میں ان تینوں کا ملا جلا کردار۔‘
لہذا دل کے آپریشن کرنے کا آپ کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ انھوں نے بڑے پیار سے سوال کیا۔ ’نہیں کوئی نہیں‘ میں نے جواب دیا۔
میرے خیال میں میرے سچ بولنے کی وجہ یہ تھی کہ اس مرتبہ مجھے جھوٹ بولنا کا خیال ہی نہیں آیا۔
تو کیا یہ دوا کارگر ہے؟ اس تجربے اور ماہرین سےبات چیت کے بعد میں اسی نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اس دوا کے زیر اثر آپ ایسی حالت میں ہوتے ہیں کہ جو کچھ آپ کے تفتیش کار جو سننا چاہتے ہیں آپ وہی کہنے پر آمادہ ہوتے ہوتے ہیں نہ کہ سچ۔
لہذا سچ یہی ہے کہ ایسی کوئی قابل اعتماد دوا نہیں ہے جو سچ اگلوا سکے۔ اور اگر ایسی کوئی دوا بنا بھی لی گئی ہے تو کوئی بتانے کو تیار نہیں ہے۔







