ملیریا اور طُفیلی کیڑے پر تحقیق کے لیے نوبیل انعام

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library
اس سال فزیالوجی یا طب کے شعبے کا نوبیل انعام طفیلی جراثیم کے باعث پھیلنے والی بیماریوں پر اہم تحقیق کرنے کے اعتراف میں سائنس دانوں کے دو گروپوں کو دیا گیا ہے۔
آئرلینڈ کے ولیم سی کیمبل اور جاپان کے ساتوشی اومورا نے ان خوردبینی جانوروں سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک نیا طریقۂ علاج دریافت کیا تھا۔
نوبیل انعام کی شریک فاتح چین کی پروفیسر یویو تو ہیں، جنھوں نے ملیریا کے خلاف ایک نئی دوا ایجاد کی تھی۔
نوبیل کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس تحقیق نے ان امراض سے متاثر ہونے والے کروڑوں لوگوں کی زندگیاں بدل دی ہیں۔
مچھروں کے باعث پھیلنے والی بیماری ملیریا کے ہاتھوں ہر سال ساڑھے چار لاکھ افراد موت کے منھ میں چلے جاتے ہیں، جب کہ اربوں مزید افراد کو اس بیماری سے خطرہ لاحق ہے۔
طفیلی کیڑے دنیا کی ایک تہائی آبادی کو متاثر کرتے ہیں اور دریائی اندھا پن اور لمفیٹک فلیریاسس جیسی کئی بیماریاں پھیلاتے ہیں۔
عشروں کی سست رفتار پیش رفت کے بعد دو نئی ادویات کی دریافت نے ان امراض کے علاج کی کایا پلٹ دی۔ یہ ادویات دریائی نابیناپن اور لمفیٹک فلیریاسس کے لیے ایورمیکٹِن اور ملیریا کے لیے آرٹیمیسینن تھیں۔
ملیریا کا علاج کرنے والی ادویات غیر موثر ہوتی جا رہی تھیں اور بیماری پھیل رہی تھی۔ پروفیسر یویو تو نے اس مرض سے نمٹنے کے لیے روایتی چینی طب میں استعمال ہونے والی ایک بوٹی سے دوا بنائی جو بےحد موثر ثابت ہوئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آج یہ دوا دوسری ادویات کے ساتھ ملا کر دنیا بھر میں استعمال ہوتی ہے اور اس سے صرف افریقہ میں ہر سال ایک لاکھ افراد کی زندگیاں بچائی جاتی ہیں۔
یویو تو اس شعبے میں نوبیل انعام جیتنے والی 13ویں خاتون ہیں۔
ان کے علاوہ یہ انعام دو سائنس دانوں کو کیچوے نما جانور راؤنڈورم سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا علاج ڈھونڈنے پر دیا گیا ہے۔
جاپانی سائنس دان ساتوشی اومورا اور آئرش سائنس دان ولیم کیمبیل نے مشترکہ طور پر ایورمیکٹن نامی دوا دریافت کی جو اس قدر موثر ہے کہ اب راؤنڈ ورم سے پیدا ہونے والی بیماریاں معدوم ہونے کے قریب ہیں۔







