پیشاب کے وقت کی پیمائش پر ’نوبیل‘ انعام

 محققین نے اپنا تجربہ چوہوں، بکریوں، گائے اور ہاتھیوں پر کیا تھا

،تصویر کا ذریعہDILIP KUMAR SHARMA

،تصویر کا کیپشن محققین نے اپنا تجربہ چوہوں، بکریوں، گائے اور ہاتھیوں پر کیا تھا

امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی نے اس سال ایک ایسی تحقیق کو آئی جی نوبیل انعام سے نوازا ہے جس کے مطابق ممالیے یا دودھ پلانے والے تمام جانور پیشاب کرنے میں ایک جیسا وقت لگاتے ہیں۔

آئی جی نوبیل کے انعام کے ادارے ’اِمپروبیبل ریسرچ‘ کا کہنا ہے کہ ’ان کامیابیوں کو سراہا جاتا ہے جو پہلے تو لوگوں کو ہنساتے ہیں اور پھر سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔‘ یہ مزاحیہ انعام پچھلے 25 برس سے دیا جا رہا ہے۔

اس مطالعے کے محققین کا تعلق جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے ہے اور یہ انعام انھیں طبعیات کے زمرے میں دیا گیا ہے۔

ٹیم کے بقول انھوں نے اس مطالعے میں شامل جانوروں کے پیشاب کرتے وقت کی ویڈیو کی رفتار کو تیز کرکے دیکھا اور اس عمل کے دروان پیشاب کی سیال حرکیات کا تجزیہ کیا۔ اس طرح انھیں پتا چلا کہ تین کلوگرام سے زیادہ وزن کے تمام ممالیے اپنا مثانہ خالی کرنے میں 21 سیکنڈ لگاتے ہیں۔

محققین نے اپنا تجربہ چوہوں، بکریوں، گائے اور ہاتھیوں پر کیا تھا۔ انھوں نے مشاہدہ کیا کہ پیشاب کرنے میں جتنا وقت بڑے جانور لگاتے ہیں اتنا ہی چھوٹے جانور بھی لگاتے تھے۔

مگر ان کے بقول چھوٹے جانور مختلف انداز سے پیشاب کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر چوہے ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں پیشاب کر سکتے ہیں۔ اس لیے پیشاب کی تحقیقات میں چوہوں کے استعمال سے کوئی مدد نہیں ملی۔

جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے ڈیوِڈ ہو کو طبعیات کے زمرے میں انعام دیا گیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے ڈیوِڈ ہو کو طبعیات کے زمرے میں انعام دیا گیا

اس تحقیق کی ایک محقق پیٹرشیاینگ مکینکل انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ بڑے جانورں کے جسامت کے لحاظ سے اپنے نظام کو ڈھالنے کی صلاحیت سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مختلف جسامت کے تمام جانوروں کے بدن میں قدرتی طور پر ایک ہی قسم کا جسمانی نظام ہے۔ یہ بات حوصلہ افزا ہے کیونکہ ہم بھی ایک ایسا ڈیزائن تیار کر سکتے ہیں جو مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا سکے۔‘

پیٹرشیا اور ان کے تین ساتھیوں نے اپنی تحقیق گذشتہ سال ’پروسیڈنگز آف دا نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘ نامی جریدی میں شائع کی تھی۔

محققین کو ان کا انعام جمعرات کو آئی جی نوبیل کی تقریب میں دیا گیا۔

اس برس انعام وصول کرنے والے چھ برِ اعظموں سے گئے تھے۔

انعام جیتنے والی دوسری تحقیقوں میںایک ایسا کیمیائی نسخہ شامل ہے جو ابلے ہوئے انڈے کو پھر سے آدھی زردی کی صورت میں بدل سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک ایسی تحقیق کو بھی انعام سے نوازا گیا ہے جس کے نتائج میں یہ پتا چلا ہے کہ ہر زبان میں ’ ہہ؟‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔