اوباما کو انعام دینے پر نوبیل کمیٹی کے سیکریٹری کو افسوس

،تصویر کا ذریعہ getty images
امریکی صدر براک اوباما کو 2009 میں امن کا نوبیل دینے کا فیصلہ توقعات پر پورا نہیں اتر سکا۔ اس بات کا انکشاف نوبیل کمیٹی کے سابق سیکریٹری نے کیا ہے۔
اپنی خودنوشت سوانح میں سیکریٹری آف پیس گیئر لُنسٹا نے کہا کہ کمیٹی کو امید تھی یہ انعام صدر اوباما کے لیے تقویت کا باعث ہو گا۔
اس کی بجائے الٹا اس فیصلے کو امریکہ میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ بہت سے لوگوں کے خیال میں اوباما نے ایسا کوئی کام نہیں کیا تھا جس کے لیے انھیں اس انعام سے نوازا جاتا۔
لنسٹا نے کہا کہ صدر اوباما نے خود کہا تھا کہ انھیں اس فیصلے پر حیرت ہوئی تھی اور ان کے بعض حمایتیوں تک نے اسے غلط قرار دیا تھا۔
امریکی صدر نے اس بات پر غور کیا تھا کہ وہ ایوارڈ وصول کرنے کے لیے ناروے کے دارالحکومت اوسلو نہیں جائیں گے۔
تاہم انھیں معلوم ہوا کہ شاذ و نادر ہی ایسا ہوا ہے کہ کسی نوبیل انعام یافتہ شخص نے اوسلو جا کر خود ایوارڈ وصول نہ کیا ہو۔ عام طور پر ایسے لوگ وہ ہوتے ہیں جن کی حکومتیں انھیں اس بات کی اجازت نہیں دیتیں۔
لنسٹا نے لکھا: ’وائٹ ہاؤس میں انھیں جلد ہی معلوم ہو گیا کہ (صدر اوباما کو) اوسلو جانا پڑے گا۔‘
لنسٹا ووٹنگ میں حصہ نہیں لیتے تھے لیکن پھر بھی وہ کمیٹی کے بااثر سیکریٹری تھے۔ وہ 1990 سے 2015 تک اس عہدے پر فائز رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے اپنی سوانح میں وہ روایت توڑ دی ہے جس کے تحت کمیٹی کے ارکان نوبیل انعام کی کارروائی کی تفصیل ظاہر نہیں کرتے۔
اس واقعے کے علاوہ انھوں نے اپنی کتاب میں دیگر واقعات کے بارے میں بھی لکھا ہے جس میں فلسطینی رہنما یاسر عرفات کے بارے میں بھی ایک مضحکہ خیز قصہ شامل ہے۔
انھوں نے لکھا کہ 1994 میں جب یاسرعرفات کو نوبل کا امن انعام دیا گیا تھا تو وہ انھیں اپنے ہوٹل کے کمرے میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے دیگر اراکین کے ساتھ ’ٹام اینڈ جیری‘ کارٹون دیکھتے ہوئے ملے۔
لنسٹا لکھتے ہیں کہ ’انھوں نے کہا کہ وہ کارٹون آخر تک دیکھیں گے۔‘
اس سال نوبل کے امن انعام کا اعلان نو اکتوبر کو کیا جائے گا۔







