45 برس میں سمندری مخلوق آدھی رہ گئی

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library
ایک تحقیق کے مطابق سنہ 1970 سے اب تک آبی جانوروں، پرندوں اور مچھلیوں کی آبادی میں 49 فیصد کمی آئی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ایسے جاندار جن پر انسان اپنی خوراک کے لیے انحصار کرتے ہیں ان کی بقا کو زیادہ خطرات لاحق ہیں۔ ٹُونا اور عمومی طور پر کھائے جانے والی میکرل مچھلیوں کی پیداوار میں 74 فیصد کمی آئی ہے۔
آبی حیات میں ہونے والی کمی کے پیچھے ماہی گیری میں اضافہ اور موسمیاتی تبدیلی جیسے عوامل شامل ہیں۔
آبی حیات سے متعلق یہ تحقیق ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) اور لندن کی زُوالوجیکل سوسائٹی کی مشترکہ کاوش کا نتیجہ ہے۔
بین الاقوامی ڈبلیو ڈبلیو ایف کے سربراہ مارکو لمبرچینی کہتے ہیں: ’جس رفتار سے مچھلیوں کی افزائش نسل ہوتی ہے اس سے زیادہ تیزی سے ماہی گیری کرنے سے سمندری زندگی کو نقصان پہنچا ہے جبکہ ان کی افزائش کے مسکن بھی تباہ ہو گئے ہیں۔‘
اس تحقیق کے مطابق ایشیا میں پرتعیش غذا کے طور پر استعمال ہونے والے سمندری کھیروں کی پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے۔ گذشتہ کچھ سالوں یہ کمی بحر اوقیانوس کے گیلاپیگس کے جزیروں میں 98 فیصد جبکہ بحیرۂ احمر میں 94 فیصد دیکھی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library
تحقیق میں آبی حیات کے قدرتی ماحول کو پہنچنے والے نقصان کا ذکر بھی کیا گیا ہے، جن میں مختلف آبی جانداروں کی پیدائش اور افزائش اور خوراک کے لیے ضروری سمندری گھاس اور مینگرو (سمندری جھاڑیاں) شامل ہیں۔
آبی حیات کی مجموعی طور پر ہونے والی کمی میں موسمیاتی تبدیلی کا بھی اہم کردار ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تحقیق کے مطابق سمندر میں کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب ہونے سے سمندر میں تیزابیت بڑھ رہی ہے جس سے مختلف آبی جانداروں کے لیے خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
اس تحقیق کے لیے سائنس دانوں نے گذشتہ 45 سالوں میں 12 سو سے زیادہ مختلف النوع آبی جانداروں کا تجزیہ کیا ہے۔







