’عالمی جنگلی حیات میں چار دہائیوں میں 50 فیصد کمی‘

نیپال میں شیروں کی تعداد گذشتہ سو سال میں ایک لاکھ سے کم ہو کر صرف تین ہزار رہ گئی ہے
،تصویر کا کیپشننیپال میں شیروں کی تعداد گذشتہ سو سال میں ایک لاکھ سے کم ہو کر صرف تین ہزار رہ گئی ہے

کرۂ ارض کے حیوانات کے سلسلے میں ایک نئے اشاریے میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر جنگلی حیاتیات کی آبادی میں آنے والی کمی اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔

لندن زولوجیکل سوسائٹی (زیڈ ایس ایل) نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ چرند و پرند اور خشکی و آبی جانداروں کی آبادی گذشتہ 40 برسوں میں نصف ہو کر رہ گئی ہے۔

واضح رہے کہ اس کا اندازہ ایک جدید طریقۂ کار پر لگایا گیا ہے اور دو سال قبل کی رپورٹ کے برخلاف یہ انکشاف زیادہ تشویش ناک ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممالیہ جانداروں، پرندوں، رینگنے والے جانوروں، خشکی و پانی دونوں جگہ رہنے والے جانداروں اور مچھلیوں کی آبادی میں اوسطاً 52 فیصد کی کمی آئی ہے۔

تازہ پانیوں کے جانداروں کی آبادی میں سب سے زیادہ 76 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

عالمی سطح پر جانداروں کی اقسام میں آنے والی کمی کے اعداد و شمار اور ان کا اوسط نکالنے میں مختلف قسم کے اعداد و شمار کے پیچیدہ حساب کتاب اور تناسب شامل ہوتے ہیں۔

مغربی افریقہ میں ہاتھیوں کی تعداد اپنی روایتی تعداد کے مقابلے صرف چھ یا سات فی صد رہ گئی ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمغربی افریقہ میں ہاتھیوں کی تعداد اپنی روایتی تعداد کے مقابلے صرف چھ یا سات فی صد رہ گئی ہے

زیڈ ایس ایل کی ٹیم کا کہنا ہے کہ دو سال قبل کی اپنی رپورٹ کے مقابلے انھوں نے اس بار اپنے طریقۂ کار کو بہتر بنایا ہے لیکن نتائج بہت زیادہ تشویش ناک ہیں۔

گذشتہ رپورٹ کے مطابق جنگلی حیاتیات میں صرف 30 فیصد کمی کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق جنگلی حیاتیات کی آبادی میں کمی کی شرح خواہ کچھ بھی ہو ایک بات بہت واضح ہے اور وہ یہ کہ جاندار انسانی سرگرمیوں کے سبب مسلسل ختم ہوتے جا رہے ہیں۔

زیڈ ایس ایل کی رپورٹ کا کہنا ہے کہ انسان جس تعداد میں درخت کاٹ رہا ہے اس شرح سے دوبارہ شجر کاری نہیں ہو رہی جبکہ جتنی تعداد میں مچھلیوں کا شکار ہو رہا ہے سمندر میں اتنی تعداد میں مچھلیاں پیدا نہیں ہو رہیں۔

رپورٹ کے مطابق تازہ پانیوں کے جانداروں کی آبادی میں سب سے زیادہ 76 فی صد کی کمی واقع ہوئی ہے

،تصویر کا ذریعہZSL

،تصویر کا کیپشنرپورٹ کے مطابق تازہ پانیوں کے جانداروں کی آبادی میں سب سے زیادہ 76 فی صد کی کمی واقع ہوئی ہے

اس کے علاوہ ندیوں اور دوسرے آبی سرچشموں سے جس تیزی کے ساتھ پانی استعمال کیا جا رہا ہے، کم بارشوں کی وجہ سے وہ کمی پوری نہیں ہو رہی اور سمندر اور جنگلات جتنی کاربن جذب کر رہے ہیں اس سے کہیں زیادہ کاربن خارج ہو رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ 40 برسوں میں گھانا میں جنگلی جانوروں کی ایک پناہ گاہ میں 90 فیصد کی کمی آئی ہے۔

مغربی افریقہ میں جنگلوں میں آنے والی کمی سے وہاں ہاتھیوں کی تعداد اپنی روایتی تعداد کے مقابلے صرف چھ یا سات فیصد رہ گئی ہے۔

ہمالیائی ریاست نیپال میں جنگلی جانوروں کی پناہ گاہوں میں کمی اور شکار کی وجہ سے شیروں کی تعداد گذشتہ سو سال میں ایک لاکھ سے کم ہوکر صرف تین ہزار رہ گئی ہے۔

شکار اور جنگلوں میں لگاتار کمی کے سبب جنگلی حیاتیات کو زبردست خطرہ درپیش ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنشکار اور جنگلوں میں لگاتار کمی کے سبب جنگلی حیاتیات کو زبردست خطرہ درپیش ہے

برطانیہ میں حکومت نے وعدہ کر رکھا ہےکہ وہ جنگلی حیاتیات کی تعداد میں آنے والی کمی روکے گی لیکن وہاں بھی چڑیوں کی تعداد میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔