افریقی ہاتھیوں کی بقاء کو خطرہ

،تصویر کا ذریعہAP
ایک رپورٹ کے مطابق افریقی ہاتھیوں کی زندگی خطرے میں ہے کیونکہ گذشتہ سال ایک تخمینے کے مطابق 20،000 سے زیادہ ہاتھی مارے جا چکے ہیں۔
ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار جاندار کے متعلق بین الاقوامی ضابطہ کار ادارے سائٹس کے دفتر کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر جانوروں کا شکار ان کی پیدائش کی شرح سے زیادہ ہے۔
بہرحال رپورٹ میں یہ بھی کہا گيا ہے کہ گذشتہ دو برسوں کے مقابلے غیرقانونی طور پر جانوروں کے شکار میں قدرے کمی آئی ہے۔
اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے پس پشت قومی سرحدوں سے ماورا منظم جرائم پیشہ شامل ہے۔
جینوا میں قائم ادارہ سائٹس بین الاقوامی سطح پر 35 ہزار سے زیادہ اقسام اور نسلوں کے پودوں اور جانوروں کی تجارت کے ضابطوں کے لیے ذمہ دار ہے۔
بی بی سی ماحولیات کے ہمارے نمائندے میٹ میک گرا کا کہنا ہے کہ تازہ اعداد و شمار میں دلچسپ اشارے ملتے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سائٹس کے سخت موقف کا نتیجہ سامنے آ رہا ہے۔
پہلی بار ایشیا کے بجائے افریقہ میں ہاتھی دانت کے بڑے مال پکڑے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ان کا مزید کہنا ہے کہ کینیا، تنزانیہ اور یوگانڈا میں سخت نگرانی کے نتیجے میں اور چین جیسے اہم بازاروں سے مانگ میں کمی کے باعث ان میں کمی آئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ چین میں قانونی ہاتھی دانت کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے جو کہ روس سے برآمد کیا جاتا ہے۔
سائٹس کے جنرل سیکریٹری جون ای سکینلن نے کہا: ’افریقی ہاتھیوں کے سامنے ان کی بقا کا مسئلہ ہے کیونکہ ان کے دانت کے لیے بڑے پیمانے پر ان کا شکار کیا جا رہا ہے۔‘
رپورٹ میں سنہ 2013 میں 500 کلو گرام سے زیادہ مقدار میں ہاتھی دانت کے سامان پکڑے جانے کے واقعات میں اضافے کا بھی ذکر ہے۔
پہلی بار ایشیا سے زیادہ افریقہ میں غیرقانونی مال پکڑے گئے ہیں جن میں 80 فی صد مال کینیا، تنزانیہ، اور یوگانڈا میں پکڑے گئے۔
ہاتھیوں کے تحفظ کے لیے جدجہد کرنے والوں کا خیال ہے کہ ہاتھی دانت کے غیر قانونی مال کے پکڑے جانے میں اضافہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کے متعلق قانون کو نافذ کیا جا رہا ہے اور اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہاتھی دانت کی مانگ کتنی زیادہ ہے۔
سائٹس نے غیرقانونی طور پر جانوروں کے مارے جانے کے اعداد و شمار افریقہ میں 51 مقامات سے حاصل کیے جہاں مجموعی طور پر تقریبا 30 سے 40 فی صد ہاتھی پائے جاتے ہیں۔







