ایمیزون خلائی راکٹ بنائے گی

،تصویر کا ذریعہbbc
سائبر شاپنگ کمپنی امیزون کے بانی جیف بیزوس نے خلائی راکٹ بنانے اور لانچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ راکٹ فلوریڈاکی ’سپیس کوسٹ‘ سے لانچ کیے جائیں گے۔
بیزوس کی 20 کروڑ ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری کی مدد سے نئی فیکٹری تعمیر کی جائے گی۔ وہ کیپ کنیورل ایئر فورس سٹیشن کا لانچنگ پیڈ بھی خرید رہے ہیں۔
یہ اعلان انھوں نے منگل کے روز ایک پریس کانفرنس میں کیا۔
بیزوس اپنی خلائی سرگرمیوں کی زیادہ تشہیر نہیں کرتے، لیکن اس سلسلے میں پسِ پردہ خاصے مصروف نظر آتے ہیں۔
اپریل میں انھوں نے ٹیکسس میں ایک زیرِ مدار خلائی گاڑی کا تجربہ کیا تھا جسے ’نیو شیپرڈ‘ کا نام دیا گیا ہے۔
اس دوران آسمان میں ایک راکٹ عمودی سمت میں داغا گیا۔ اگرچہ ایندھن والا حصہ قابو سے باہر ہو گیا تھا لیکن کیپسول پیراشوٹ کی مدد سے آہستگی سے زمین پر اتر آیا۔
ایک سال قبل بیزوس کی کمپنی ’بلو اوریجن‘ کو یونائٹڈ لانچ الائنس کی جانب سے مائع میتھین سے چلنے والا ایک طاقتور راکٹ بنانے کا ٹھیکہ ملا تھا۔ یہ ادارہ امریکہ کی فوجی اور قومی سلامتی کے اکثر مشن خلا میں لے کر جاتا ہے اور وہ اس نئے راکٹ کو اپنے ولکن لانچر میں استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
امیزون ڈاٹ کام کے سربراہ کا کہنا ہے کہ وہ نئے انجن کا فلوریڈا میں تجربہ کریں گے۔ اس کا کوڈ نیم ’بلو انجن 4‘ رکھا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بلو اوریجن ویسے تو ریاست واشنگٹن کے شہر کینٹ میں قائم ہے لیکن اس کے کئی خلائی منصوبے فلوریڈا منتقل کیے جا رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں امریکہ کے سرکاری خلائی منصوبے ترک کیے جانے کی وجہ سے بہت سی ملازمتیں ختم ہو گئی تھیں۔
تاہم ایک بلاگ پوسٹ میں جیف بیزوس نے لکھا کہ وہ اس کی اور بھی وجوہات ہیں۔ انھوں نے لکھا: ’جب میں چھوٹا سا بچہ تھا تو مجھے یہاں کے ساحلوں سے اڑنے والے عظیم الجثہ سیٹرن وی راکٹ دیکھنے سے بڑی تحریک ملتی تھی۔
’اب ہم مہم جوئی کے ایک نئے عہد میں اس ریاست کا دوبارہ رخ کر رہے ہیں۔‘








