فون کی بیٹری بڑھانے والی آئی ایپ

 فونوں میں کچھ ایسی شامل ہوتی ہے جو اپڈیٹ کر کہ بھی فون کو ’سلیپ سٹیٹ‘ میں نہیں جانے دیتی ہیں

،تصویر کا ذریعہthinkstock

،تصویر کا کیپشن فونوں میں کچھ ایسی شامل ہوتی ہے جو اپڈیٹ کر کہ بھی فون کو ’سلیپ سٹیٹ‘ میں نہیں جانے دیتی ہیں

امریکی محققین اب ان ایپس کی بیٹری لائف کو زیادہ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں جو سلیپ موڈ یعنی سونے کے دوران بھی اینڈرائڈ فون میں استعمال ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اینڈرائڈ فون پر جو ایپس باقاعدگی سے اپڈیٹ ہوتی ہیں وہ 30 فیصد زیادہ بیٹری کا استعمال کرتی ہیں۔

محققین نے ایک مفت ایپ ’ہش‘ بنائی ہے جو فون کے آف ہونے پر صرف ان ایپس کو اپڈیٹ کرتی ہے جو سب سے زیادہ استعمال ہوتی ہیں۔

اس ٹیم کا کہنا ہے ہش ان ایپس کی بیٹری کو تقریباً 50 فیصد تک بچاتا ہے جو سب سے زیادہ استعمال ہوتی ہیں۔

امریکی ریاست انڈیانا میں پرڈیو یونیورسٹی کے انجنیئر نے اینڈرائڈ فون کی توانائی کے استعمال کی تحقیق کرنے کے بعد یہ ایپ بنائی ہے۔

پرڈیو یونیورسٹی سے پروفیسر ای چارلی ہو نے کہا کہ 2000 ہینڈ سیٹ کی بیٹری کے استعمال کا جائزہ لے کر انھوں نے یہ پتہ لگایا ہے کہ فونوں میں کچھ ایپس شامل تھیں جو اپڈیٹ کر کے بھی فون کو ’سلیپ سٹیٹ‘ میں نہیں جانے دیتی تھیں۔ اس کا مطلب یہ کہ جب فون استعمال نہیں ہو رہا ہوتا تو یہ ایپس اس کی بیٹری تب بھی استعمال کر رہی ہوتی ہیں۔

پروفیسر ای چارلی نے کہا کہ ’سافٹ ویئر کے نقائص کی وجہ سے یہ ایپس فون کو واپس سلیپ موڈ میں نہیں جانے دیتیں۔

ٹیم کا کہنا ہے کہ ابتدائی نتائج کے مطابق ہش استعمال کرنے والے اینڈرائڈ فون کی بیٹری ان فونوں سے 15 فیصد زیادہ دیر لگاتی تھی جو ہش کا استعمال نہیں کرتے تھے۔

اب پرڈیو کے محققین اس ایپ کو بہتر بنا رہے ہیں تاکہ یہ فونوں میں استعمال ہونے والے دیگر فنکشن پر بھی نظر رکھے جو بیٹری کو کم کرتے ہیں۔

پروفیسر ہو کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم کا اہم مقصد ایک سمارٹ فون کی بیٹری لائف کو دگنا کرنا ہے۔