کیلی فورنیا:خود سے چلنے والی گاڑیاں بھی حادثات کا شکار

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکہ کے ڈیپارٹمنٹ آف موٹر وہیکلز کے مطابق ریاست کیلی فورنیا میں گذشتہ آٹھ ماہ کے دوران 48 میں سے چار خود سے چلنے والی گاڑیاں سڑکوں پر حادثات کا شکار ہوئی ہیں۔
ستمبر 2014 میں خود سے چلنے والی گاڑیوں کی ٹیسٹنگ کے لیے پرمٹس کا اجرا شروع کیا تھا۔
حادثات کا شکار ہونے والی تین گاڑیاں گوگل کی ہیں جبکہ چوتھی گاڑی ڈیلفی کی تیارکردہ ہے۔
ان دونوں کمپنیوں نے اس امر کو رد کیا ہے کہ ان کی گاڑیوں میں کوئی نقص موجود تھا۔
کیلی فورنیا کے قوانین کے مطابق کار حادثات کی تفصیلات منظرعام پر نہیں لائی جائیں گی۔
بہرحال، گوگل کا کہنا ہے کہ ان کی ڈرائیور کے بغیر گاڑیاں کبھی کسی حادثے کا سبب نہیں بنی ہیں، اور بیشتر ’معمولی بے ضرر ٹکریں‘ دوسرے ڈرائیوروں کی جانب سے گاڑی کے پچھلے حصے سے ٹکرانے کی صورت میں ہوئی ہیں۔
گوگل کے ترجمان کا کہنا ہے: ’تحفظ ہماری سب سے پہلی ترجیح ہے۔ چھ سال قبل اس پروگرام کے آغاز سے ہم نے تقریباً دس لاکھ میل کا سفر خود سے چلنے والی گاڑیوں پر کیا ہے، فری ویز اور شہر کی سڑکوں دونوں پر، ایک بھی حادثے کے بغیر۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
ڈیلفی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی گاڑی ایک چوک پر کھڑی ہوئی تھی اور اس وقت کو ڈرائیونگ کے مینول موڈ پر تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ترجمان کا کہنا تھا: ’پولیس رپورٹ کے مطابق حادثے میں غلطی ڈیلفی کی نہیں دوسری گاڑی کی تھی۔ اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا تھا۔‘
ایک نامعلوم ذرائع نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ دوحادثات اس وقت پیش آئے جب گاڑیاں انسانی ڈرائیور چلا رہے تھے، اور حادثات کے وقت تمام چاروں گاڑیاں بہت آہستہ چل رہی تھیں۔
گوگل کے خود سے چلنے والی گاڑیوں کے پروگرام کے ڈائریکٹر کرس ارمسن نے اپنے بلاگ پر لکھا کہ چھ سال قبل اس پراجیکٹ کے آغاز سے اب تک گوگل کی گاڑیوں پر مشتمل 11 حادثات میں کوئی بھی حادثہ ان کی گاڑی کی وجہ سے نہیں ہوا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’گاڑی کے پچھلے حصے پر ٹکر لگ جانے جیسے حادثات امریکہ میں سب سے زیادہ ہوتے ہیں اور ایسی صورت میں اگلی گاڑی میں بیٹھا ڈرائیور حادثے سے بچنے کے لیے بہت کم کردار ادا کر سکتا ہے۔‘







