’دھمکیاں دو گے تو بلاک کر دیے جاؤ گے‘

،تصویر کا ذریعہgetty
سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر اپنی ویب سائٹ کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اب پر تشدد دھمکیوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔
ویب سائٹ نے تسلیم کیا ہے کہ اس کے پرانے اصول ’بہت مبہم‘ تھے۔ پرانے قواعد کے تحت دھمکیوں کے خلاف کارروائی صرف تب کی جاتی تھی جب کسی کو ’براہ راست‘ اور ’مخصوص‘ دھمکی دی جاتی تھی۔
اب بھی کسی کا اکاؤنٹ بلاک کرنے سے پہلے اس کی ٹویٹ کی شکایت لازمی کرنی ہو گی۔
لیکن ٹوئٹر کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ کوشش کر رہا ہے کہ وہ نا مناسب ٹویٹس کو کم دکھائے۔
یہ کارروائی انٹرنیٹ پر پریشان کرنے والے کچھ مشہور واقعات کے بعد ہو رہی ہے۔
اس ماہ کی ابتدا میں ٹی وی میزبان سو پرکنز نے یہ کہتے ہوئے ٹوئٹر پر پوسٹ کرنا چھوڑ دیا تھا کہ ان کی ٹائم لائن ’ان کی موت چاہنے والے لوگوں سے اٹی پڑی تھی۔‘
یہ کارروائی اس جھوٹی خبر کے بعد آئی تھی کہ سو پرکنز بی بی سی کے معروف پروگرام ’ٹاپ گیئر‘ کی میزبانی کریں گی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
مشہور وڈیو گیم مورٹل کامبیٹ کے پروڈیوسر شان ہمیرک نے بھی حال ہی میں یہ کہتے ہوئے ٹوئٹر چھوڑ دیا تھا کہ ان کی اہلیہ اور بیٹوں کو ٹوئٹر صارفین نے دھمکیاں دی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ مسئلہ صرف ٹوئٹر تک محدود نہیں ہے۔ مارچ میں براڈ بینڈ فراہم کرنے والی کمپنی یورو پاساٹ کی ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ 13 سے 17 سال کی عمر کے ایک ہزار افراد میں سے نصف کو انٹرنیٹ پر ہراساں کیا گیا ہے۔
فروری میں ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹیو ڈک کوسٹولو نے کمپنے کے عملے کو لکھا کہ ’ہم ٹرولز اور پریشان کرنے والے لوگوں کے ساتھ نمٹنے میں ناکام رہے ہیں۔‘
ٹوئٹر کے نئے قوانین کے تحت وہ ان صارفین کے خلاف کارروائی کرے گا جو اپنی ٹویٹس میں ’لوگوں کو تشدد کی دھمکیاں دیں گے یا پھر تشدد کو فروغ دیں گے۔‘
اس کے علاوہ کمپنی اپنی ویب سائٹ پر پریشان کرنے والے لوگوں کے اکاؤنٹ کچھ عرصے کے لیے منجمد کر دے گی اور متاثرین اپنا اکاؤنٹ بحال ہونے کی بقیہ مدت اپنی ایپ پر دیکھ سکیں گے۔







