’ٹوئٹر پر دولتِ اسلامیہ کے کم از کم 46 ہزار حمایتی اکاؤنٹ‘

دولتِ اسلامیہ کے حامی اکاؤنٹ میں ہر پانچ میں سے ایک پر انگریزی زبان کو استعمال کیا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشندولتِ اسلامیہ کے حامی اکاؤنٹ میں ہر پانچ میں سے ایک پر انگریزی زبان کو استعمال کیا جاتا ہے

ایک حالیہ امریکی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے حامی اکاؤنٹس کی تعداد کم ازکم 46 ہزار ہے۔

امریکی تھنک ٹینک بروکنگ انسٹی ٹیوٹ کی معاونت سے دولتِ اسلامیہ کے ٹوئٹر اکاؤنٹس کی تعداد سے متعلق یہ رپورٹ 2014 کے آخری تین ماہ میں مرتب کی گئی۔

بتایا گیا ہے کہ دولت اسلامیہ کے حامی عمومی طور پر شام اور عراق کی حدود میں ہی بستے ہیں۔

ان میں سے 75 فیصد ایسے ہیں جو ٹوئٹر پر پیغام لکھتے ہوئے عربی زبان استعمال کرتے ہیں جبکہ دولتِ اسلامیہ کی حمایت کرنے والے ان اکاؤنٹس میں ہر پانچ میں سے ایک اکاؤنٹ پر انگریزی زبان استعمال ہو رہی ہے۔

یاد رہے کہ اپنے نظریات کی ترویج کے لیے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے استعمال کرتی ہے۔

اس امریکی رپورٹ کو’ آئی ایس آئی ایس مردم شماری‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس کی تحریر کا فریضہ بروکنگ انسٹی ٹیوٹ کے ایم جے برجر اور جوناتھن مورگن نے سرانجام دیا ہے۔

برجر سمجھتے ہیں کہ ’جہادی کسی بھی قسم کی ٹیکنالوجی کا استعمال یں گے جو ان کے کام میں فائدہ مند ہوگی۔‘ ان کی نظر میں دولتِ اسلامیہ تمام شدت پسند گروہوں سے زیادہ کامیاب ہے۔

اس تحقیق میں انھیں معلوم ہوا کہ ٹوئٹر پر دولتِ اسلامیہ کے 46 ہزار حمایتی اکاؤنٹس کے فالوورز کی اوسط تعداد 1000 کے قریب تھی۔ مائکرو بلاگنگ کی کسی بھی ویب سائٹ پر کسی اکاؤنٹ کے فالورز میں اس تعداد کو کافی بڑا سمجھا جاتا ہے۔

یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ان اکاؤنٹس میں سے زیادہ ترگذشتہ برس ہی بنائے گئے تاہم ٹوئٹر کی انتظامیہ کی جانب سے سال 2014 کے آخری مہینوں میں دولتِ اسلامیہ کے حامی ایک ہزار سے زائد اکاؤنٹس کی بندش کے باوجود اکاؤنٹس کی موجودہ تعداد سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس تنظیم کی حمایت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

ایم جے برجر نے دورانِ تحقیق دولتِ اسلامیہ کے حمایت یافتہ اکاؤنٹس کی زیادہ سے زیادہ تعداد 90 ہزار تک پائی تاہم نتائج مرتب کرتے ہوئے موثر اکاؤنٹس کی تعداد 46 ہزار بتائی گئی۔

جہادی گروہوں پر نظر رکھنے والے تجزیہ نگار ایرن زیلن کے مطابق رپورٹ میں بتائے گئے کم سے کم اکاؤنٹس کی مدد سے بھی دولتِ اسلامیہ کے حامیوں کی تعداد لاکھوں تک رسائی ہو گی۔

مگر ساتھ ہی ساتھ انھوں نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ دولتِ اسلامی کے کسی ایک حامی کے پاس ایک سے زیادہ ٹوئٹر اکاؤنٹس ہوں۔

دولتِ اسلامیہ کے 20 ہزار سے زائد غیر ملکی جنگجوؤوں میں بڑی تعداد نوجوانوں کی بھی ہے جن کا تعلق تقریباً 50 ممالک سے بتایا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہThinkstock

،تصویر کا کیپشندولتِ اسلامیہ کے 20 ہزار سے زائد غیر ملکی جنگجوؤوں میں بڑی تعداد نوجوانوں کی بھی ہے جن کا تعلق تقریباً 50 ممالک سے بتایا جاتا ہے

تجزیہ نگار ایرن زیلن نے یہ بھی بتایا کہ ان اکاؤنٹس کے ذریعے دولتِ اسلامیہ کے حامی زیادہ تر تنظیم کی جانب سے بھجوائے گئے پیغامات اور ان کے طرز زندگی اور کارروائیوں کے حوالے سے سامنے آنےوالی ویڈیوز کی ترویج ہی کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ آپ ان ٹوئٹر اکاؤنٹس چلانے والوں کے بارے میں حتمی طور پر یہ ثبوت نہیں پا سکتے کہ آیا وہ اس تنظیم میں براہ راست بھرتی ہو چکے ہیں۔

ایرن زیلن کے مطابق بھرتی کا عمل ٹوئٹر پر تو نہیں ہوتا تاہم یہ ابتدائی رابطوں اور لوگوں کو انتھاپسندی کی جانب مائل کرنے کے لیے استعمال ہوسکتا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے نئے سربراہ جنرل کارٹرکی جانب سے بھی اس دولتِ اسلامیہ کے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہونے کو ایک خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اب تک دولتِ اسلامیہ میں 20 ہزار سے زائد غیر ملکی جنگجو شریک ہو چکے ہیں جن میں سے بیشتر کا تعلق مشرقِ وسطیٰ سے بتایا جاتا ہے۔

حال ہی میں برطانیہ سے تین طالبات مبینہ طور پر ترکی کے راستے شام پہنچیں جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے ٹوئٹر کے ذریعے اس سے قبل شام پہنچنے والی طالبہ سے رابطہ کیا تھا۔