’جہادی جان ایک الگ تھلگ رہنے والا جنگجو تھا‘

،تصویر کا ذریعہAP
اسلامی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ایک سابق جنگجو کا کہنا ہے کہ برطانیہ سے تعلق رکھنے والا جنگجو ’جہادی جان‘ اکیلا رہنے والا شخص تھا۔
سابق جنگجو کی محمد ایموازی سے ملاقات دو سال قبل شام میں اس وقت ہوئی جب وہ شام پہنچا تھا۔
جنگجو کے مطابق دیگر برطانوی شہری دولت اسلامیہ کی ویڈیو میں آنے سے گریز کرتے تھے لیکن ایموازی نے ویڈیو میں آنے کی خود خواہش ظاہر کی۔
ایموازی کویت میں پیدا ہوئے جس کے بعد وہ برطانیہ منتقل ہوئے۔ ایموازی دولت اسلامیہ کی کئی ویڈیوز میں آ چکے ہیں جن میں یعڑمالیوں کو قتل کیا گیا ہے۔
پتلا دبلا بیس کے عشرے میں اپنا نام ابو ایمن بتانے والے جنگجو نے دولت اسلامیہ چھوڑ دی ہے۔
ابو ایمن نے بی بی سی سے ایمازی کے بارے میں بات کی۔
جب ان دونوں کی ملاقات ہوئی تو اس وقت دونوں اسلامی تنظیموں میں عام جنگجو تھے جو شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خلاف لڑ رہی تھیں۔
غیر ملکی جنگجو جن میں بہت سارے برطانیہ سے تھے شمالی شام کے قصبے اطمعہ میں جمع ہوئے۔ اطمعہ میں بہت بڑا پناہ گزین کیمپ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جنگجوؤں نے اس قصبے میں مکانوں پر قبضے کیے اور کچھ آرام دہ زندگی گزارنے لگے۔
’برطانوی جنگجو ہمیشہ ایک ساتھ پھرتے تھے لیکن ایموازی ان سے دور رہتا تھا۔‘
برطانوی شہری اس لڑائی کو ’فائیو سٹار جہاد‘ کا نام دیتے تھے اور وہ انسٹاگرام اور ٹویٹر پر تصویریں اپ لوڈ کرتے تھے۔
ابو ایمن کئی بار جہادیوں کے ’برٹش ہاؤس‘ گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایموازی سے جب پہلی بار ملاقات ہوئی تو وہ کچھ عجیب سے لگے۔
’وہ کم گو انسان تھا۔ وہ ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھتا تھا۔ وہ صرف اپنے دوستوں کے ساتھ نماز پڑھتا تھا ۔۔۔ فیگر برطانوی جنگجو ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے۔‘
’برطانوی جنگجو جب ہمیں باہر ملتے تھے تو وہ ’ہائی‘ بولتے تھے لیکن ایموازی منہ پھیر لیتا تھا۔‘
تو پھر میمد ایموازی ایک عام جنگجو سے ’جہادی جان‘ کیسے بنا جو دولت اسلامیہ کی بربریت کا نشان ہے؟
ابو ایمن کا کہنا تھا ’دولت اسلامیہ کے پاس پیشہ ورانہ نفسیاتی ماہرین ہیں۔ ان کو معلوم ہے کہ کن جنگجوؤں کو سلیکٹ کرنا ہے اور ان کو کیسے مشہور کرنا ہے۔‘
’لیکن پھر بھی ایموازی میں کوئی خاص بات نہیں تھی ۔۔۔ کوئی بھی اس جیسا بن سکتا تھا۔ امیر کی کی جانب سے حکم ہوتا ہے اور آپ کی ترقی ہو جاتی ہے۔‘
ابو ایمن نے مزید کہا ’بہت سارے جنگجو دولت اسلامیہ میں اس لیے شامل ہوئے کہ ان کو نیا اسلحہ، جدید بندوقیں، بہتر جیپیں مل جائیں گی۔‘
ابو ایمن کے مطابق انھوں نے دولت اسلامیہ کو خیر باد اس لیے کہا کہ ان کو عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ابو ایمن سے جب پوچھا گیا کہ جنگجوؤں کا ایموازی کے بارے میں کیا خیال ہے تو ان کا کہنا تھا ’کچھ کو وہ بہت پسند تھا۔ کچھ جنگجوؤں نے تو اس کو دیکھنے کے بعد دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کی۔‘
’دولت اسلامیہ اس کو پیانو کی طرح بجا رہے ہیں۔ وہ یورپ میں مسلمانوں کے لیے ایک سلیبرٹی ہے۔ لیکن کچھ کا خیال ہے کہ وہ شوخی مار رہا ہے اور دولت اسلامیہ اس کو استعمال کر رہی ہے۔‘
ابو ایمن کا کہنا ہے کہ بہت سارے جنگجو تنظیم کو چھوڑنا چاہتے ہیں اور جیسے ہی ان کو موقع ملا تو وہ بھاگ جائیں گے۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ دولت اسلامیہ ہی نے ایموازی کو قاتل ’جہادی جان‘ میں تبدیل کیا۔ ہو سکتا ہے کہ اس کی شخصیت میں یہ پہلو پہلے ہی سے ہو اور جنگ نے اس پہلو کو نمایاں کیا۔
متعدد ذرائع سے معلوم چلا ہے کہ دولت اسلامیہ اموازی کی حفاظت کو بہت اہمیت دے رہے ہیں اور وہ کس جگہ پر ہے اس کو بہت خفیہ رکھا جا رہا ہے۔







