گوگل کے کمپیوٹرز اب میمری سِٹک جتنے

 ہائیر کروم بک 11 اور ہیسینس کروم بک پہلے ہی مارکیٹ میں متعارف کرادیے گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن ہائیر کروم بک 11 اور ہیسینس کروم بک پہلے ہی مارکیٹ میں متعارف کرادیے گئے ہیں

گوگل نے متوسط طبقے کے صارفین اور سکولوں کے لیے کروم آپریٹنگ سسٹم والے کمپیوٹرز مارکیٹ میں لانے کا اعلان کیا ہے۔

گوگل نے جن نئی مصنوعات بنانے کا اعلان کیا ہے ان میں کروم بِٹ نامی آلہ بھی شامل ہے جو ایک بڑی میمری سِٹک جیسا دکھائی دیتا ہے۔

کروم بِٹ کو ٹی وی اور مانیٹرز کی ایچ ڈی ایم آئی پورٹ میں لگا کر انھیں کمپیوٹرز میں بدلا جا سکتا ہے۔

گوگل کے مطابق سب سے سستے کروم بک لیپ ٹاپ تقریباً 150 ڈالر میں دستیاب ہوں گے۔

گوگل کی جانب سے نئی مصنوعات کے اعلان سے مائیکرو سوفٹ کے ساتھ اس کا مقابلہ سخت ہونے کی امید ہے۔

خیال رہے کہ گوگل نے کروم کمپیوٹرز بنانے کا اعلان مائیکروسافٹ کی جانب سے نئے سستے ہائیبرڈ لیپ ٹاپ مارکیٹ میں لانے کے اعلان کے ایک دن بعد کیا ہے۔

مائیکرو سافٹ کے ’سرفس تھری لیپ ٹاپ‘ کی قیمت تقریباً 500 ڈالر ہے لیکن اس پر ونڈوز پلیٹ فارم کے لیے بنائے جانے والے بہت سے سافٹ وئیر دستیاب ہیں۔

 کروم بیٹس تائیوان کی کمپنی ایسوسس بنائے گی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن کروم بیٹس تائیوان کی کمپنی ایسوسس بنائے گی

ٹیکنالوجی کے تجزیہ کار ڈیویز مرفی کا کہنا ہے کہ ’اس طرح کی مصنوعات کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے سکول والدین سے توقع کرتے ہیں کے وہ اپنے بچوں کو ذاتی لیپ ٹاپ لے کر دیں۔‘

’ اسی وجہ سے کمپنیاں کم قیمت لیپ ٹاپ بنا رہی ہیں تا کہ والدین اپنے بچوں کو وہ خرید کر دیں اور اپنے لیے بھی لے سکیں۔‘

گوگل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شروع میں کروم بُکس اور کروم بِٹس صرف امریکہ ہی میں دستیاب ہوں گے، لیکن ہم امید کر تے ہیں کہ مستقبل میں یہ دیگر ممالک میں بھی دستیاب ہوں گے، تاہم اس وقت ہم مزید تفصیلات نہیں دے سکتے۔‘

دونئے لیپ ٹاپ ہائیر کروم بُک 11 اور ہیسینس کروم بُک پہلے ہی مارکیٹ میں متعارف کرادیے گئے ہیں۔

ہائیر کروم بُک 11 صرف ایمازون پر دستیاب ہے جبکہ ہیسینس کروم بُک ’والمارٹ ڈاٹ کام‘ پر بیچی جا رہی ہے۔

اسوسس کروم بُک فلپ بھی جلد ہی بازار میں دستیاب ہوگی۔

کروم بِٹس تائیوان کی کمپنی اسوسس بنائے گی۔ گوگل کا کہنا ہے کہ وہ اگلے سال کے اختتام سے پہلے مارکیٹ میں دستیاب ہو گی اور اس کی قیمت ایک سو ڈالر سے کم ہو گی۔