برطانیہ میں بڑے آپریشن میں 56 مشتبہ ہیکر گرفتار

،تصویر کا ذریعہPA
برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) جو سائبر کرائم یعنی انٹرنیٹ پر ہونے والے جرائم کے سدِباب کا ہفتہ منا رہی ہے نے ایک بڑے آپریشن کے نتیجے میں 56 مشتبہ ہیکروں کو گرفتار کیا ہے۔
اس سلسلے میں این سی اے کی نیشنل سائبر کرائم یونٹ (این سی سی یو) نے ملک بھر میں 25 مخلتف کارروائیاں کی ہیں۔
گرفتار کیے گئے افراد پر فراڈ، ڈیٹا کی چوری اور وائرس رائٹنگ جیسے سائبر جرائم میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔
بی بی سی کے سامنے کی جانے والی ایک کارروائی میں 2012 میں یاہو پر ہونے والے ایک سائبر حملے میں ملوث ہونے کے شبہ میں ایک شخص کو گرفتار کیا گیا۔
ایک ہفتہ جاری رہنے والی ان کارروائیوں میں این سی اے کے اہلکاروں کے علاوہ علاقائی پولیس کے افسران اور میٹروپولیٹن پولیس کے اہلکاروں نے بھی حصہ لیا۔
ویسٹ مڈلینڈز پولیس نے سٹن کوڈفیلڈ کے علاقے سے 23 سالہ شخص کو گرفتار کیا جس پر امریکی محکمہ دفاع کے نیٹ ورک میں ہیک کرنے کا الزام ہے۔
اس سلسلے کی سب سے بڑی کارروائی لندن اور ایسیکس میں کی گئی جہاں سے 25 افراد کو دھوکہ دہی، انٹرنیٹ کے ذریعے پیسے چوری کرنے اور منی لانڈرنگ کے شبہ میں گرفتار کیا گیا۔
کارروائی کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نامی گرامی ہیکر گروپوں سے وابستہ افراد کو بھی گرفتار کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیڈز میں لیزڈ اسکواڈ نامی ہیکر گروپ اور لندن میں D33Ds ہیکر گروپ سے منسلک مشتبہ افراد کو بھی گرفتار کیا گیا۔
خیال رہے کہ D33Ds ہیکر گروپ پر 2012 میں یاہو پر حملے جس میں بڑی تعداد لوگوں کا ذاتی ڈیٹا چوری کیا گیا تھا، میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
ملزمان کے بارے میں جاری تحقیقات میں ایف بی آئی نے بھی برطانوی اداروں کی معلومات فراہم کی تھیں۔
این سی سی یو کے ڈپٹی ڈائریکٹر اینڈی آرچی بولڈ کا کہنا ہے کہ ’مجرموں کو اب یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ آن لائن جرائم کر کے وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے گمنام نہیں رہ سکتے۔‘







