تھری جی نیلامی: ہیکروں سے بچاؤ کے لیے سکیورٹی سخت

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
حکومت نے پاکستان کی تاریخ کی سب بڑی آن لائن نیلامی کو ہیکروں کے حملوں سے بچانے کے انٹرنیٹ سیکیورٹی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔
پاکستان میں بدھ سے تھری اور فور جی لائسنسوں کی فروخت کے لیے نیلامی کا آغاز ہوا ہے جس میں ایک ارب ڈالر تک کی بولی آنے کی توقع ہے۔
پاکستان میں ٹیلی کام شعبے کے ریگولیٹری ادارے پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ اس آن لائن نیلامی میں چار کمپنیاں حصہ لے رہی ہیں جن کے نمائندے اپنے اپنے دفتروں سے ہی انٹرنیٹ کے ذریعے بولی دیں گے۔
اس مقصد کے لیے بولی میں شامل ہونے کے لیے ان کمپنیوں کو خصوصی لاگ ان اور پاس ورڈ جاری کیے گئے ہیں۔
انٹرنیٹ سکیورٹی کے ماہر جاوید بشیر کے مطابق دنیا بھر میں انٹر نیٹ کے ذریعے ہونے والے مالی سودوں پر ہیکر حملے کرتے رہتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں انٹرنیٹ کا سرکاری نظام ویسے ہی زیادہ محفوظ نہیں ہے۔ ایسے میں ہیکروں کی جانب سے بولی کے اس عمل پر حملہ ہونا انہونی بات نہیں ہو گی۔ اور اگر پی ٹی اے کی طرف سے اسے محفوظ بنانے کے مناسب اقدامات نہیں کیے گئے تو یہ حملہ کامیاب ہونا بھی کچھ زیادہ مشکل نہیں ہوگا۔‘
اسی خدشے کے پیش نظر حکام نے ہیکنگ کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ’ٹیلی سیک کارپ‘ نامی کمپنی کی خدمات حاصل کی ہیں۔
اس پاکستانی کمپنی کے سربراہ افنان اللہ خان کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے آن لائن سودے میں ’مخالفین‘ کی جانب سے رخنہ ڈالنے کی کوشش کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے مطابق ’جب تک نیلامی جاری رہے گی، ان کی ٹیم اس سارے عمل کی نگرانی کرے گی اور اس دوران ہیکروں کے حملوں کو روکنے کے لیے ہر دم تیار اور مستعد رہے گی۔‘
افنان اللہ خان کی ٹیم اس نیلامی کے عمل کی حفاظت کے لیے تعینات کی گئی ہے اور وہ ان خطرات سے آگاہ بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہیکر مختلف طریقوں سے نیلامی کے عمل پر حملہ آور ہو سکتے ہیں۔
’حملہ آور یا ہیکر نیلامی کے پورے عمل ہی کو مفلوج بنا سکتے ہیں، نیلامی میں شامل مختلف پارٹیوں کی پیش کردہ بولی کی تفصیل معلوم کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے، اس کے علاوہ بولی دہندگان کے لاگ ان اور پاس ورڈ چوری کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ان کی ٹیم کے پاس ان تمام حملوں کو پسپا کرنے کی حکمت عملی موجود ہے: ’میں اس بارے میں ابھی زیادہ تفصیل میں تو نہیں جا سکتا لیکن ہیکروں کو اس عمل میں رخنہ ڈالنے سے روکنے کے لیے ہمارے پاس بہت سے آپشن ہیں جن میں بعض ملکوں کی اس عمل تک رسائی روکنا اور بعض سرور کو بند کر دینا بھی شامل ہیں۔‘
تھری اور فور جی لائسنس جاری کرنے کے لیے ہونے والی یہ نیلامی اربوں، بلکہ کھربوں کا سودا ہے اور ایسے میں اس سودے میں ذرا سی بھول چوک یا گڑ بڑ حکومت کے لیے کسی بڑے مالیاتی سکینڈل کا باعث بن سکتی ہے۔
ایسے میں افنان اللہ خان اور ان کی ٹیم کے کاندھوں پر نہ صرف بولی کے عمل بلکہ حکومت کی ساکھ کو بچانے کی ذمہ داری بھی آن پڑی ہے۔







