’حنوط شدہ بودھ بھکشو مرا نہیں مراقبے میں ہے‘

،تصویر کا ذریعہOther
منگولیا میں گذشتہ ہفتے دریافت کیے جانے والے حنوط شدہ بودھ بھکشو نے اسے منظر عام پر لانے والوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے۔
ایک سینیئر بودھ پیروکار کا کہنا ہے کہ آلتی پالتی مار کر بیٹھا ہوا یہ شخص مردہ نہیں بلکہ گہرے مراقبے میں ہے۔
یہ شخص جانور کی کھال میں لپٹا ہوا ملا اور منگولیا میں اس کے جسم کا فورینسک معائنہ کیا جا رہا ہے۔
سائنسدان اس بات پر تحقیق کر رہے ہیں کہ اس بودھ بھکشو کو اتنی اچھی طرح حنوط کیسے کیا گیا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ منگولیا کا سرد موسم اس کی ایک وجہ ہو سکتا ہے۔
تبت کے روحانی پیشوا دلائی لاما کے معالج ڈاکٹر بیری کیزن نے سربیئن ٹائمز اخبار کو بتایا کہ یہ بودھ بھکشو مراقبے کی نایاب حالت میں ہیں جسے ’تکدم‘ کہا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا ’اگر یہ مراقبہ اسی طرح جاری رہا تو یہ شخص بدھا بن جائے گا۔‘
یہ بودھ بھکشو اس وقت دریافت ہوا جب ایک شخص اسے چُرا کر بیچنے والا تھا۔
منگولیا کی پولیس نے اس شخص کو گرفتار کر لیا ہے اور اب یہ حنوط شدہ بودھ کے نیشنل سنٹر آف فورنسک ایکسپرٹیز میں محفوظ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس بودھ کی شناخت تاحال واضح نہیں ہے لیکن ایسی قیاس آرائیاں ہیں کہ یہ ’لاما داشی دورزو ایٹیگیلو‘ کے استاد ہیں جو اس سے پہلے حنوط شدہ دریافت ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہOther
سنہ 1927 میں ہمسایہ ریاست بُریاٹیا اس وقت کے سویت یونین میں مقیم بودھ پیشوا ایٹیگیلو نے اپنے شاگردوں کو بتایا تھا کہ وہ مرنے والے ہیں اور 30 سال بعد ان کی قبر کشائی کر لی جائے۔
اس کے بعد لاما آلتی پالتی مار کر مراقبے میں بیٹھ گئے اور اسی حالت میں انتقال کر گئے۔ جب ان کی قبر کشائی کی گئی تو ان کی لاش اس وقت بھی محفوظ تھی۔
سویت حکام کی جانب سے دخل اندازی کے ڈر سے ان کے پیروکاروں نے انھیں دوبارہ دفن کر دیا۔ اس کے بعد سنہ 2002 میں ان کی دوبارہ قبر کشائی کی گئی تو اس وقت بھی ان کی لاش محفوظ تھی۔
اس کے بعد لاما کو ایک بودھوں کے ایک مندر میں رکھ دیا گیا جہاں ان کی پوجا کی جانے لگی۔







