تین ہزار سال پرانی ممی کا سی ٹی سکین

تین ہزار سال پرانی ممی
،تصویر کا کیپشنمصر کی تین ہزار سال پرانی ممی کو سٹی سکین کے لیے پرتھ سے مانچسٹر روانہ کیا جا رہا ہے

آسٹریلوی شہر پرتھ کے عجائب گھر میں موجود تین ہزار سال پرانی ایک حنوط شدہ مصری لاش کو سی ٹی سکین کے لیے مانچسٹر بھیجا جا رہا ہے۔

یہ سی ٹی سکین مانچسٹر یونیورسٹی اور مانچسٹر چلڈرن ہسپتال کے مشترکہ پروگرام کے تحت کیا جائے گا۔

عجائب گھر کے عملے کا خیال ہے کہ اِس سے ممی کی زندگی اور موت کے بارے میں تفصیلات حاصل ہو سکیں گی۔

یہ حنوط شدہ لاش پرتھ کے عجائب گھر میں اس وقت سے ہے جب اسے الوآ میوزیم کے بند ہونے پر اسے بطور عطیہ دیا گیا تھا۔

ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ پرتھ میں موجود کسی ممی کی طبی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔

اس سے قبل میوزیم نے ایک حنوط شدہ آئیبس چڑیا کو گزشتہ سال جانچ کے لیے مانچسٹر بھیجا تھا۔ آئیبس لمبی دم والی ایک چڑیا ہے جسے قدیم مصر میں مقدس تصور کیا جاتا تھا۔

یہ جانچ اس منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت عالمی سطح پر انسانوں اور دوسرے جانوروں کی حنوط شدہ نعشوں یا ممیوں کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر اعدادوشمار اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

اس جانچ سے سائنسدانوں کو قدیم مصر کے باشندوں کی پسندیدہ خوراک اور اُنہیں لاحق ہونے والے بیماریوں کے بارے میں معلومات مل سکیں گی۔

مصری ممی کا سٹی سکین بین الاقوامی پروجکٹ کا حصہ ہے
،تصویر کا کیپشنمصری ممی کا سٹی سکین بین الاقوامی پروجکٹ کا حصہ ہے

مانچسٹر کے اپنے میوزیم کی کئی حنوط شدہ نعشوں پر کی گئی جانچ سے یہ پتا چلا تھا کہ ان میں سے بہت سی ممیوں میں خون کی کمی تھی اور بعض کو دانت کے امراض تھے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شاید وہ ریت کی آمیزش والی روٹی کھایا کرتے تھے۔

بعض ممیوں پر دھاتوں کے تعویذ بھی پائے گئے ہیں جو ان کی پٹیوں کے نیچے چھپے تھے۔

مانچسٹر یونیورسٹی میں بائیومیڈیکل مصریات کے شعبے کی ڈاکٹر لیڈیجا میک نائٹ کا کہنا ہے کہ سوال تو یہ ہے کہ کیا ان میں کوئی نعش ہے بھی یا نہیں؟ انھوں نے خیال ظاہر کیا کہ ’شاید ان میں نعش ہے کیونکہ پٹیوں سے پاؤں کی ہڈیاں نظر آتی ہیں۔‘

انھوں نے کہا ’ہمیں معلوم ہے کہ اس میں ایک خاتون ہے کیونکہ تابوت سے یہی لگتا ہے۔ ہم لوگ یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ آیا اس میں ایک خاتون کی ہی لاش ہے یا کسی مرد کی۔ اگر اس میں کسی مرد کی لاش ہوئی تو اس کا مطلب ہے کہیں کچھ گڑبڑ ہوئی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم لوگ عمر کا اندازہ لگائیں گے کہ آیا یہ کسی بالغ کی ہے نوعمر کی ہے یا پھر بچے کی لاش ہے اور ہم لوگ یہ جاننے کی بھی کوشش کریں گے کہ اسے کوئی بیماری یا زخم تو نہیں تھا۔‘

یہ سنہ 1908 میں شروع ہونے والے پروگرام کا حصہ ہے جب پہلی بار مانچسٹر میں ایک ممی کو کھولا گیا تھا۔