قدرت کی سالانہ ’آتش بازی‘ کا نظارہ

،تصویر کا ذریعہEPA
ستاروں کے نظاروں کے شوقین افراد نے اتوار کی رات شہابیوں کی سالانہ بارش کا دیدار کیا ہے۔
ماہر فلکیات کا کہنا ہے کہ سالانہ جوزائیہ (جیمنائی) شہابیوں کی بارش اتوار کی رات یہ اپنے عروج پر رہی۔
اپنے عروج پر جوزائیہ ہر گھنٹے 50 سے 100 شہاب ثاقب چھوڑتے ہیں۔ ان سے بیک وقت مختلف قسم کی روشنی نکل سکتی ہے اور کبھی کبھی یہ جلدی جلدی یا بیک وقت دو تین کی تعداد میں پھوٹ پڑتے ہیں۔
ماہر فلکیات کا کہنا ہے کہ اسے دیکھنے کا بہترین وقت صبح دو بجے ہے جب نقطۂ نور بالکل سر پر اور جوزائیہ ستاروں کی کہکشاں کے پاس ہوتا ہے اور یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ شہابیے وہیں سے پھوٹتے ہیں۔
ماہر فلکیات کے مطابق اس کا نقطۂ عروج دن میں گیارہ بجے تھا لیکن دن کی روشنی کے سبب اسے دیکھا نہیں جا سکا تاہم یہ رات بھر جاری رہا اور اسے رات میں 10 بجے کے بعد کہیں بھی دیکھا جا سکتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہNasa Jimmy Westlake
سوسائٹی آف پاپولر ایسٹرونومی کے صدر روبن سکیجیل نے کہا کہ ’جھرمٹ آسمان میں بہت اونچائی پر ہوگا اور چاند وہاں سے گذر چکا ہوگا۔ ہر منٹ ایک شہابیہ اچھی شرح ہوگی اور یہ ممکن بھی ہے۔ آپ ایک ساتھ دو تین شہابیوں کے چھوٹنے کے منظر سے بھی لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ شہابیوں کی بارش اس وقت ہوتی ہے جب زمین دم دار تاروں کی دھول کے راستے سے گذرتی ہے اور بعض چھوٹے عناصر جو ریت کے ذرے کے برابر ہوتے ہیں وہ زمین کے ماحول میں آ کر جل اٹھتے ہیں۔
جوزائیہ اس معاملے میں مختلف ہیں کہ وہ مکمل طور سے برفیلے دم دار تارے سے جھڑے ہوئے نہیں ہوتے لیکن وہ دم دار تارے اور شہابیے کی ایک انجمن ہوتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہPaul
جوزائیہ شہابیے کی بارش کی پہلی بار سنہ 1860 کی دہائی میں نشاندہی کی گئی اور وقت کے ساتھ اس میں تیزی آتی گئی۔
سنہ 1920 کی دہائی کے دوران اس کی رفتار 20 شہابیے فی گھنٹے ہو گئی جبکہ کہ سنہ 1930 کی دہائي میں یہ 50 شہابیے فی گھنٹے تک پہنچ گئی اور پھر سنہ 1970 کی دہائی تک یہ 80 شہابیہ فی گھنٹے تک پہنچ گئي۔
ان کی رفتار 22 میل یعنی تقریبا 35 کلو میٹر فی سیکنڈ ہوتی ہے اور یہ زمین سے 24 میل یعنی تقریبا ساڑھے 38 کلو میٹر کے فاصلے پر فروزاں ہوتے ہیں۔







