شہاب ثاقب کی بارش کا دوسرا دن

امریکہ اور یورپ بھر میں آسمانی منظروں کا مشاہدہ کرنے اور لطف اٹھانے والوں نے سنیچر اور جمعرات کی درمیانی راتوں میں ستاروں کے ٹوٹنے اور شہاب ثاقب کے وہ منظر دیکھے جو دلکش تو ہوتے ہی ہیں لیکن اس بار انتہائی دلکش تھے۔
جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب بھی لوگوں نے شہاب ثاقب کے یہ مناظر دیکھے تھے لیکن جمعے اور سنیچر کی درمیانی رات رنگ اور روشنی کی یہ بارش اپنے عروج کو پہنچ گئی۔
<link type="page"><caption> شہاب ثاقب اور دمدار ستاروں کی بارش</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2010/08/100814_meteor_pics.shtml" platform="highweb"/></link>
امریکہ میں خلائی امور کے ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ وہ اسی شہاب ثاقب فی گھنٹہ کی توقع کر رہا تھا۔
اس امریکی ادارے کا کہنا ہے کہ ’آسمان پر ہر سال شہابِ ثاقب کا یہ منظر دیکھنے والوں کے لیے پہلی تاریخ کے تھوڑی ہی دیر کے لیے دکھائی دینے والے چاند نے شہاب ثاقب کے خوشنما منظر کی راہ ہموار کر دی تھی‘۔
ان منظر کو نہ صرف یورپ اور امریکہ میں آسمان کا مشاہدہ کرنے والوں نے دیکھا بلکہ تصویرین بھی بنائیں۔

خلانوردی کی برطانوی ایسوسی ایشن سے وابستہ جان میسن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ موسم بھی ان لوگوں کے لیے مدد گار ثابت ہوا جو آسمان پر ہر سال پیدا ہونے والے ان منظروں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’یہ سلسلہ یوں تو ہفتے بھر جاری رہتا ہے لیکن اس بار پہلے دو دنوں ہی میں انتہائی چمک دار ستاروں کو ٹوٹتے اور دمدار ستاروں کو گرتے ہوئے دیکھا گیا‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ شہاب ثاقب کے یہ مناظر ان دم دار ستاروں کے ملبے کے نتیجے میں دکھائی دیتے ہیں جو سورج کے گرد باقاعدہ مدار بناتے ہیں یہ ملبہ گیسوں اور منجمد برفیلے کنکروں پر مشتمل ہوتا ہے اور جب دم دار ستارے گزرتے ہیں تو ان کی دم سورج کی مخالف سمت نکلتی اور پھیلتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہر ایک سو تینتیس سال کے بعد ایک بہت بڑا دم دار ستارہ ہمارے نظام شمشی کے اندرونی حصے میں لہراتا ہو داخل ہوتا ہے اور اپنے پیچھے گرد اور کنکروں کی ایک قطار سی چھوڑتا ہوا گزر جاتا ہے۔

اس کے بعد جب زمین اس ملبے کے پاس سے گزرتی ہے تو یہ کنکر یا ذرات ایک سو چالیس ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہماری فضا میں گرتے ہیں اور روشنی کے جھماکوں کی صورت پھیلتے اور ہمیں گرتے ہوئے ستاروں کی صورت دکھائی دیتے ہیں۔







