ڈنمارک سے پتھر کے دور کی کلھاڑی دریافت

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ڈنمارک میں آثار قدیمہ کے ماہرین نے پتھر کے دور کی ایک کلھاڑی دریافت کی ہے۔
ساڑھے پانچ ہزار سال قدیم اس کلھاڑی کا دستہ لکڑی کا ہے۔
ماہرین آثار قدیمہ کو ڈنمارک کے جزیرے لولینڈ کے علاقے روڈبائی ہیون میں یہ غیر معمولی کامیابی اس وقت ملی جب وہ اربوں ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والی یورو سرنگ کے منصوبے سے پہلے علاقے کا سروے کر رہے تھے۔
ماہرین کے مطابق بظاہر یہ کلھاڑی کسی رسم کے دوران اس زمانے میں یہاں موجود سمندر کی تہہ میں دھنس گئی تھی۔
چکنی مٹی کے اندر آکسیجن نہیں تھی جس کی وجہ سے کلھاڑی کا دستہ اتنے عرصے تک محفوظ رہا۔
لولینڈ جزیرے کو ایک سرنگ کے ذریعے جرمنی کے جزیرے فہمارن سے جوڑا جانا ہے۔
ڈنمارک کے لولینڈ فالسٹر عجائب گھر میں آثارِ قدیمہ کے ایک ماہر سورن انکر سورنسن نے لکڑی کے دستے سمیت کلھاڑی کی محفوظ حالت میں دریافت کو حیران کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماہرین کو اس علاقے میں کھدائی کے دوران دیگر چیزیں بھی ملی ہیں جس میں ذخیرہ شدہ نامیاتی مواد، لکڑی کی چھڑیاں، چپو، غلیل اور کلھاڑیوں کے پھل یا ان کے سرے شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
کلھاڑی پتھر کے دور میں انسانوں کا اہم ترین ہتھیار ہوا کرتا تھا۔ اس وقت لوگ اس کو لکڑی کے کام میں استعمال کرتے تھے تاہم اس کے علاوہ یورپ میں اس وقت کھیتی باڑی میں بھی اس کا اہم کردار ہوتا تھا کیونکہ اس زمانے میں یورپ کا بڑا رقبہ گھنے جنگلات پر مشتمل تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ماہرین آثار قدیمہ کی رائے میں جنوبی لولینڈ میں جدید زمانہ پتھر کے دور کی آبادیاں ممکنہ طور پر اس ساحلی پٹی کو اپنی رسومات کے لیے استعمال کرتی تھیں۔
رواں ماہ کے آغاز پر فہمارن سرنگ کے منصوبے پر کام کرنے والے ماہرین آثار قدیمہ نے اعلان کیا تھا کہ کھدائی کے دوران انھوں نے انسان کا پانچ ہزار سال قدیم قدم کا نشان دریافت کیا تھا۔







