ناسا کی ایک بار پھر خلائی سفر کی تیاری

،تصویر کا ذریعہnasa
امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے ایسی کمپنیوں کا انتخاب کیا ہے جو ملک کے خلابازوں کو ایک بار پھر خلا میں واپس لے جاسکیں گی۔
اس سلسلے میں بوئنگ اور سپیس ایکس کمپنیوں کو ناسا 2۔6 ارب امریکی ڈالر کی امداد فراہم کر رہا ہے تاکہ یہ کمپنیاں نئی خلائی گاڑیوں کی تیاریاں مکمل کر سکیں۔
واضح رہے کہ امریکی سنہ 2011 میں اپنی خلائی گاڑیوں کے ریٹائر کیے جانے کے بعد سے خلائی سٹیشنوں پر جانے کے لیے روس اور اس کی سویوز گاڑیوں کا سہارا لے رہے تھے اور اسی پر ان کا انحصار ہے۔
اطلاعات کے مطابق بوئنگ اور سپیس ایکس کی خلائی گاڑی جس میں سات افراد کو خلا میں لے جانے کی استعداد ہوگی وہ سنہ 2017 تک اپنی پرواز کے لیے تیار ہوگی۔
ناسا کے منتظم چارلس بولڈ کا کہنا ہے کہ ’یہ ناسا کی تاریخ میں سب سے دلچسپ اور سب سے زیادہ حوصلہ مند باب ہے۔‘
مبصرین کا کہنا ہے کہ یوکرین میں ماسکو کے اقدامات پر اختلافات نے واشنگٹن کے لیے سویوز کے انتظامات کو بہت حد تک ناقابل عمل بنا دیا ہے۔
ابھی تک اس گاڑی پر ایک امریکی خلاباز کو لے جانے کے لیے سات کروڑ امریکی ڈالر لیا جاتا تھا جسے امریکی حکام بہت زیادہ تسلیم کر تے ہیں۔
اوباما انتظامیہ نے سنہ 2010 میں ناسا کو اس کام کی ذمہ داری سونپی تھی کہ وہ ایسی مقابلہ جاتی کمپنیوں کو تیار کرے جو خلا میں لے جانے کی امریکی صلاحیتوں کو بحال کردے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے بعد سے ایجنسی نے ڈیڑھ ارب امریکی ڈالر کی فنڈنگ کی ہے اور زیادہ تر رقم ٹیکسس کی بوئنگ کمپنی، کیلیفورنیا کی سپیس ایکس اور کولوراڈو میں قائم تیسری کمپنی سیئیرا نیویدا کو دی ہے۔
اصولی طور پر ان تینون کمپنیوں کو اخیر تک رقم دی جانی تھی لیکن ناسا کے پاس بجٹ کی کمی کی وجہ سے اسے ان کمپنیوں میں بعض کمپنیوں کو منتخب کرنا پڑا۔
بوئنگ کارپوریشن کو کمرشیئل کریو انٹگریٹیڈ صلاحیت (سی سی ٹی کیپ) کو فروغ دینے کے لیے 2۔4 ارب امریکی ڈالر کا کانٹریکٹ دیا گیا ہے جبکہ سپیس ایکس کو اس سے کم 6۔2 ارب امریکی ڈالر کا کانٹریکٹ ملا ہے۔
واضح رہے کہ یہ رقم انھیں مرحلہ وار طور پر ادا کی جائیں گی اور ہر قسط کے لیے ان کمپنیوں کو تکنیکی سنگ میل عبور کرنا ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہspacex
ناسا کے منتظم چارلی بولڈن نے نمائندوں کو بتایا: ’پہلے دن سے ہی اوباما انتظامیہ نے اسے واضح کردیا تھا کہ زمین پر موجود عظیم ترین ملک کو خلا میں جانے کے لیے کسی دوسرے ملک پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’ہم صدر اوباما کی قیادت اور ناسا کی سخت کوش ٹیم کے شکرگذار ہیں کہ ہم آج امریکی سرزمین سے اپنے خلاباز کو خلا میں بھیجنے کے مزید ایک قدم قریب آ گئے ہیں اور سنہ 2017 تک روس پر انحصار کو ختم کر دیں گے۔‘
ناسا کے ذریعے فراہم کی جانے والی رقم سے بوئنگ کمپنی اپنی سی ایس ٹی-100 خلائی گاڑی کو حتمی شکل دے گی اس کے لیے سیفٹی سرٹیفیکیٹ بھی فراہم کرے گی۔
اس فنڈنگ میں شروعاتی چھ خلا بازوں کو لے جانے کا کرایہ بھی شامل ہے۔
بعض لوگوں کا خیال تھا کہ سپیس ایکس کو یہ کانٹریکٹ ملے گا لیکن ایسا نہ ہو سکا۔







