مریخ کے سفر پر جانے کے لیے ’اڑن طشتری‘

،تصویر کا ذریعہNASA
امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے مستقبل میں مریخ پر جہاز اتارنے کی ٹیکنالوجی کا بڑی حد تک کامیاب تجربہ کیا ہے۔
ناسا نے اڑن طشتری کی طرح نظر آنے والے ایک جہاز کو ایک غبارے کی مدد سے فضا میں بھیجا۔
<link type="page"><caption> مریخ کی جانب انسانی مشن بھیجنے کا منصوبہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2013/02/130227_mars_mission_tito_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
اس جہاز میں ایک پیراشوٹ بھی نصب تھا اور تجربے کا مقصد سرخ سیارے مریخ پر جہاز اتارنے کے دوران پیراشوٹ کی مدد سے اس کی رفتار کو کم رکھنا تھا۔
اس خلائی گاڑی کا نام لو ڈینسٹی سپرسونک ڈی سیلیٹر’ایل ڈی ایس ڈی‘ ہے اور اس کو بحر الکاہل میں 35 کلومیٹر بلندی پر راکٹ سے الگ کیا گیا۔
علاقے میں ٹیموں کو روانہ کیا گیا تاہم جہاز کے فلائٹ ریکارڈ کو تلاش کر کے تجرنے کے دوران پیش آنے والے حالات کا جائزہ لیا جا سکے
سنیچر کو امریکی ریاست ہوائی میں کیے گئے اس تجرنے کے دوران تمام آلات نے صحیح کام کیا تاہم پیراشوٹ مکمل طور پر کھلنے میں ناکام رہا۔
ناسا نے امید ظاہر کی ہے کہ اس تجربے کی مدد سے مستقبل میں مریخ پر وزنی جہاز اتارنے میں مدد ملے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس وقت ناسا کے پاس مریخ پر ڈیڑھ ٹن وزنی خلائی جہاز لینڈ کرانے کی صلاحیت ہے۔
اگر مریخ پر انسان جاتے ہیں تو اس نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے دس ٹن تک وزنی جہاز کو مریخ پر اتارنا ممکن ہو سکے گا۔
اس سے پہلے ناسا نے سال 2012 میں مریخ پر اپنی روبوٹک گاڑی کیورسٹی اتاری تھی۔اس گاڑی کو یہ جاننے کے لیے مریخ پربھیجا گیا ہے کہ آیا جس جگہ یہ اتری ہے اس کے آس پاس ماضی میں خوردبینی حیات موجود رہی ہے یا نہیں۔







