کیوروسٹی ماؤنٹ شارپ کی جانب روانہ

انجینئرز نے کیوروسٹی کو آئندہ چند ہفتوں میں ماونٹ شارپ پہاڑی کی طرف لے جانے کا منصوبہ بنایا ہے
،تصویر کا کیپشنانجینئرز نے کیوروسٹی کو آئندہ چند ہفتوں میں ماونٹ شارپ پہاڑی کی طرف لے جانے کا منصوبہ بنایا ہے
    • مصنف, جوناتھن آموس
    • عہدہ, نمائندہ برائے سائنس

امریکی خلائی ایجنسی ناسا مریخ پر بھیجے جانے والے روبوٹ کیوروسٹی کو بالآخر گیل نامی گڑھے میں تحقیقی مرکز کی طرف لے جانے کا سوچ رہی ہے۔

کیوروسٹی نے گذشتہ چھ مہینے ایک چھوٹے گڑھے میں پتھروں میں ڈرلنگ کرکے ان کے اجزا کا تجزیہ کرتے گزارے ہیں۔

لیکن ناسا کا کہنا ہے کہ کیوروسٹی جلد ہی اپنی موجودہ جگہ سے آٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ماونٹ شارپ نامی پہاڑی کی طرف روانہ ہو جائے گی۔

اس لمبی چوٹی پر پہنچنا کیوروسٹی کے مشن کا بنیادی مقصد ہے جہاں اسے مریخ کے ماحولیاتی تاریخ کے بارے میں معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے۔

انجینئرز نے کیوروسٹی کو آئندہ چند ہفتوں میں ماؤنٹ شارپ پہاڑی کی طرف لے جانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

کیوروسٹی کے پروجیکٹ مینیجر جم اریکسن کا کہنا ہے ’ہم دریافت کے لیے ایک مشن پر ہیں۔ اگر ہمیں راستے میں سائنسی تحقیق کے لحاظ سے کوئی دلچسپ علاقہ ملتا ہے تو ہم وہاں مطالعے کے لیے رکیں گے۔‘

کیوروسٹی کو اپنے سفر پر روانے ہونے سے پہلے کچھ کام ختم کرنے ہیں۔

اس روبوٹ پر واقع تجربہ گاہ میں یلو نائف بے سے ملنے والے کمبرلینڈ نامی پتھروں سے لیے گئے نمونوں کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔

ان نمونوں کے تجزیے سے جان کلائن نامی پتھروں سے لی گئی معلومات کی تصدیق ہوگی۔

کمبرلینڈ پتھروں کے تجزیے سے معلوم ہوا تھا کہ یہ پتھر اربوں سال پہلے ایک جھیل میں پڑے تھے۔

کیوروسٹی کے لیبارٹری میں تجربات تو ہو رہے ہیں لیکن یہ کچھ دوسرے پتھروں کی طرف چل پڑی ہے جو اسے یلو نائف بے کے راستے میں دکھائی دیے تھے۔

یہ پتھر پوائنٹ لیک کے نام سے جانے جاتے ہیں جو سویز چیز کی طرح سوراخ دار دکھائی دیتے ہیں۔ سائنس دانوں کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ یہ پتھر آتش فشاں کے لاوے سے بنے ہیں یا قدرتی طور پر پانی کی حرکت سے وجود میں آئے ہیں۔

پوائنٹ لیک کے نامی پتھر سویز چیز کی طرح سوراخ دار دکھائی دیتے ہیں
،تصویر کا کیپشنپوائنٹ لیک کے نامی پتھر سویز چیز کی طرح سوراخ دار دکھائی دیتے ہیں

کیوروسٹی کے ڈپٹی پروجیکٹ سائنسدان ڈاکٹر جوئے کریسپ نے کہا ’ایک خیال یہ ہے کہ یہ لاوا کے بنے ہونگے جس کے اندر سوراخ دوسرے معدنیات سے بھر گئے ہونگے۔ یہ ایک امکان ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’دوسرا امکان یہ ہے کہ یہ سیڈی مینٹری پتھر کی طرح کسی اور قسم کے بڑے پتھر ہوں۔‘

مشن کی ٹیم یہ بھی چاہتی ہے کہ وہ شالر نامی ایک اور ابھار کا ایک بار پھر معائنہ کریں۔

کیوروسٹی کا ایک آخری کام اپنے نیچے میدان کا ڈان نامی اوزار سے سروے کرنا ہے۔

جب یہ سب کام ختم ہو جائیں گے تو کیوروسٹی جنوب مغرب میں واقع ماؤنٹ شارپ کی طرف روانہ ہو جائے گی۔

انجنیئرز سیٹیلائٹ تصویروں کے ذریعے کیوروسٹی کے لیے محفوظ راستے کا نقشہ تیار کر رہے ہیں جبکہ ریسرچرز راستے میں سائنسی لحاظ سے دلچسپ جگہوں کی تلاش کر رہے ہیں جہاں کیوروسٹی رک سکے۔