مریخ کے یک طرفہ ٹکٹ کی مانگ

کون کون ہے جو مریخ جانا چاہتا ہے؟ ولندیزی تنظیم ’مارز ون‘ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی مریخ کے یک طرفہ ٹکٹ جاری کر رہی ہے۔ کمپنی وہاں آبادکاروں کا ایک گروہ بسانا چاہتی ہے۔

دور دراز سرزمینیں، نامعلوم سمندر اور نادریافت شدہ جزیرے ہمیشہ ہی سے مہم جوؤں کو اپنی طرف کھینچتے رہے ہیں۔ تاریخ کی کتابیں ایسے سرپھرے مہم جوؤں کے واقعات سے بھری پڑی ہیں جو شدید خطرات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے انجانی منزلوں کے سفر پر نکل جاتے تھے۔ کولمبس اور مجیلن ایسے ہی دو نام ہیں (مجیلن نے دنیا کے گرد پہلا چکر لگایا تھا۔)

اس لیے شاید یہ بات زیادہ حیران کن نہیں ہے کہ مارز ون کو ٹکٹ کھلنے سے پہلے ہی ہزاروں امیدوار درخواستیں بھیج چکے ہیں، حالانکہ یہ وہ سفر ہے جس میں واپسی کی گنجائش نہیں ہے۔

ایسے مہم جوؤں کی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:

وہ مستقل مزاج ہوں، خود کو حالات میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، باتدبیر ہوں اور دوسروں کے ساتھ مل جل کر کام کرنے کے اہل ہوں۔ آغاز سے ابتدا تک اس تمام سفر کی فلم بندی ریئلٹی ٹی وی کے انداز میں کی جائے گی۔

لندن میں بی بی سی کے دفتر کے دورے میں مارز ون کے شریک بانی بیس لینڈورپ نے تفصیل بتائی کہ یہ سفر یک طرفہ کیوں ہو گا۔

وہ کہتے ہیں کہ مریخ کے سات سے آٹھ ماہ تک کے سفر میں خلابازوں کی ہڈیوں اور پٹھوں کی کمیت کم ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ مریخ کی کم کششِ ثقل میں رہنے کے بعد ان کے لیے زمین کی زیادہ طاقت ور کششِ ثقل میں اپنے آپ کو دوبارہ ڈھالنا تقریباً ناممکن ہو گا۔

کامیاب امیدواروں کو جسمانی اور ذہنی تربیت دی جائے گی۔ ٹیم اس منصوبے کے تمام پہلوؤں کے لیے موجودہ ٹیکنالوجی ہی استعمال کرے گی۔ توانائی شمسی پینلوں سے حاصل کی جائے گی، پانی زمین سے نکالا جائے گا اور آباد کار اپنی خوراک خود پیدا کریں گے۔

تاہم کیا یہ سوچنا حقیقت مندانہ ہے کہ انسان مریخ پر بس سکتا ہے؟

مریخ سورج سے خارج ہونے والے طاقت ور ذرات کی مسلسل بمباری کی زد میں ہے، جسے شمسی ہوا کہا جاتا ہے۔ مریخ کی فضا بہت پتلی ہے کیوں کہ خیال ہے کہ شمسی ہوا نے اس فضا کے بڑے حصے کو ختم کر دیا ہے۔

آبادکار دو یونٹوں میں رہیں گے جب کہ بقایا یونٹوں میں امدادی سازوسامان رکھا جائے گا۔ منصوبے کے مطابق اس مریخی بستی میں ہر دو سال کے بعد چار مزید افراد شامل ہوتے رہیں گے۔
،تصویر کا کیپشنآبادکار دو یونٹوں میں رہیں گے جب کہ بقایا یونٹوں میں امدادی سازوسامان رکھا جائے گا۔ منصوبے کے مطابق اس مریخی بستی میں ہر دو سال کے بعد چار مزید افراد شامل ہوتے رہیں گے۔

زمین کا طاقت ور مقناطیسی میدان ہمیں شمسی ہوا سے بچائے رکھتا ہے، ورنہ زمین پر زندگی بہت دشوار ہوتی۔

یونیورسٹی آف ایریزونا کی ڈاکٹر ویرونیکا برے کہتی ہیں کہ مریخ کی سطح زندگی کے لیے انتہائی ناسازگار ہے۔ انھیں اس منصوبے کے بارے میں شکوک و شبہات ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ وہاں مائع پانی نہیں پایا جاتا، ہوا کا دباؤ تقریباً خلا کے برابر ہے، تابکاری بہت زیادہ ہے اور درجۂ حرارت میں انتہائی تبدیلیاں ہوتی ہیں۔

’تابکاری بہت بڑا خدشہ ہے، خاص طور پر سفر کے دوران۔ اس سے سرطان کا خطرہ بڑھ جائے گا، قوتِ مدافعت کمزور ہو جائے گی اور ممکنہ طور پر بانجھ پن پیدا ہو جائے گا۔‘

تابکاری کے خطرے کو کم کرنے کے لیے مریخی آبادکاروں کو اپنے ٹھکانوں کو کئی میٹر موٹی مٹی کی تہہ سے ڈھانپنا پڑے گا۔

ڈاکٹر برے کہتی ہیں، ’مجھے اس بات میں شک نہیں ہے کہ ہم مریخ پر انسان کو بھیج سکتے ہیں۔ لیکن کیا وہ وہاں لمبے عرصے تک رہ پائیں گے؟ اس میں شک ہے۔‘

ناسا کے خلاباز سٹین لو ان مشکلات کو اچھی طرح جانتے ہیں کیوں کہ ان کے ساتھی زمین کے نچلے مدار میں بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر ان کا تجربہ کر چکے ہیں۔

وہ آلات جو انسانی آلائشوں کو ری سائیکل کرتے ہیں اور ’گذشتہ کل کی کافی کو آئندہ کل کی کافی میں ڈھالتے ہیں، انھیں مستقل دیکھ بھال کی ضرورت پڑتی ہے۔ قرینِ قیاس یہ کہ یہ ٹیکنالوجی مریخ پر لمبے عرصے تک کام نہیں کر پائے گی۔‘

لو حال ہی میں انٹارکٹیکا کے برفستان سے لوٹے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انٹارکٹیکا ’مریخ کے مقابلے پر پکنک کی طرح ہے۔‘

’انٹارکٹیکا پانی سے مالامال ہے۔ آپ کھلی فضا میں جا کر سانس لے سکتے ہیں۔ یہ مریخ کے مقابلے پر جنت ہے، لیکن اس کے باوجود آج تک وہاں پر کوئی مستقل طور پر جا کر آباد نہیں ہوا۔‘

لیکن اس کے باوجود لو مارز ون پراجیکٹ کو سراہتے ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ نجی کمپنیاں اس بارے میں لوگوں کی معلومات میں اضافہ کر سکتی ہیں اور ممکنہ طور پر کوئی ایسی ٹیکنالوجی ایجاد کر سکتی ہیں جو مستقبل میں مریخ پر انسانوں کو بسانے میں معاون ثابت ہو سکے۔

’ہم پچھلے 50 برسوں سے یہ خواب دیکھ رہے ہیں۔ چاند کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ مریخ جانے کے لیے درمیانی منزل ثابت ہو گا۔ لیکن جب آپ اس مسئلے پر غور کرتے ہیں تو آپ کو احساس ہوتا ہے کہ یہ بےحد مشکل کام ہے۔‘

اس منصوبے کے تحت لوگوں کی پہلی کھیپ بھیجنے پر چھ ارب ڈالر خرچ آئے گا۔

آکسفرڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر کرس لینوٹ کہتے ہیں کہ اگرچہ تکنیکی طور پر یہ منصوبہ ممکن ہے، لیکن اس کے لیے رقم اکٹھی نہیں ہو سکے گی:

’اس مقصد کی تکمیل کے لیے سیاسی عزم اور مالی وسائل درکار ہیں۔ یہ وہ مسئلہ ہے جسے آج تک کوئی حل نہیں کر سکا۔‘

لیکن لینڈورپ کو رقم کی فراہمی میں کوئی مشکل نطر نہیں آتی۔ وہ اولمپکس کی عالمی براڈکاسٹ کے حقوق سے پیدا ہونے والے سرمایے کی مثال پیش کرتے ہیں۔

’یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا کارنامہ ہو گا۔ اسے لوگ 15 سال بعد بھی دیکھ رہے ہوں گے۔

’زمین اور زمین سے باہر کی دنیاؤں کا کھوج لگانا انسان کے ڈی این اے میں ہے۔ ان مہم جوؤں کے مریخ جانے کا خواب ایک دن پورا ہو کر رہے گا۔‘

آیا یہ مشن اپنے مقصد میں کامیاب ہو گا یا نہیں، ٹیلی ویژن پر درخواست دینے والوں کے براہِ راست دکھائے جانے سے اتنی تشہیر ضرور ہو گی کہ دنیا کی آنکھیں اس مشن پر لگی رہیں گی۔