ملیریا سے لڑائی میں نر مچھر ’مددگار‘

،تصویر کا ذریعہAFP
سائنسدانوں نے ملیریا پر قابو پانے کے مقصد کے تحت مچھروں کی ایسی اقسام تخلیق کی ہیں جن کے 95 فیصد بچے نر ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ عام مچھروں میں یہ نیا ’سٹرین‘ کی تعارف کروانے سے مادہ مچھروں کی تعداد میں کمی ہوگی جو مچھروں کی آبادی میں کمی کی بھی وجہ بنے گی۔
اس نظام کے تحت ایکس کروموسومز کے سپرمز میں کمی لائی جاتی ہے تاکہ مادہ مچھروں کی پیدائش کے امکانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
نیچر کمیونیکیشنز نامی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق قدرتی ماحول میں پلنے والے مچھروں میں اس طریقے سے ملیریا پھیلانے والے مچھروں کی تعداد کم کی جا سکتی ہے۔
اگرچہ اس تحقیق کے عام تجربات میں ابھی کئی برس لگ سکتے ہیں لیکن دیگر محققین کا کہنا ہے کہ یہ جینیاتی کنٹرول کی حکمتِ عملی کی کوششوں کے سلسلے میں ایک اہم قدم ہے۔
ملیریا کی بیماری مچھروں کے کاٹنے سے پھیلتی ہے اور اس سے بچاؤ کے اقدامات کے باوجود ہر برس دنیا میں دسیوں ہزاروں افراد اس کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔
ان نئے مچھروں میں سپرم کی تخلیق کے عمل کے دوران ایکس کروموسوم کو نشانہ بنانے والا مادہ شامل کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں نر مچھروں کے سپرم میں تقریباً نہ ہونے کے برابر ایکس کروموسوم رہ جاتے ہیں اور یوں ان کے 95 فیصد بچے نر ہی پیدا ہوتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ سپرم میں یہ تبدیلی وراثت میں منتقل ہو سکتی ہے اور نر مچھر اپنی اولاد میں سے نصف میں یہ اثر منتقل کر سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مصنوعی سٹرین اگر مچھروں کی آبادی میں پھیلا دیا جائے تو اس کے نتیجے میں ایسا وقت آ سکتا ہے کہ جب نر مچھر صرف نر بچے ہی پیدا کریں گے جس سے ان کی آبادی کے ختم ہونے کا امکان ہو سکتا ہے۔
محقق پروفیسر کریسانتی کا کہنا ہے کہ یہ اثر فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ صرف مادہ مچھر ہی انسانوں کو کاٹتی ہیں اور ملیریا پھیلاتی ہیں اور اگر مادہ مچھروں کی تعداد میں کمی آئے تو اس سے ملیریا کے پھیلاؤ میں بھی کمی آئے گی۔







