ماحولیاتی تبدیلیوں سے ملیریا میں اضافے کا خدشہ

برطانوی اور امریکی محققین نے خبردار کیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیاں مستقبل میں دنیا بھر، اور خصوصاً افریقہ اور جنوبی افریقہ کے گنجان آباد علاقوں میں ملیریا کے مرض کے پھیلاؤ میں تیزی سے اضافے کی وجہ بن سکتی ہیں۔
مچھروں سے پھیلنے والے اس مرض سے ایک اندازے کے مطابق ہر برس 22 کروڑ کے لگ بھگ افراد متاثر ہوتے ہیں۔
اس تحقیق میں پہلی مرتبہ اس بات کے ٹھوس ثبوت ملے ہیں کہ جن برسوں میں عالمی درجۂ حرارت میں اضافہ ہوا ملیریا کا مرض زیادہ بلندی والے علاقوں میں پایا گیا اور درجۂ حرارت میں کمی کی صورت میں اس کا اثر کم بلندی والے علاقوں میں زیادہ دیکھا گیا۔
بیس سال پر محیط یہ تحقیق ’سائنس‘ نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔
مرکزی محقق اور لندن کے سکول آف ہائیجین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن کے اعزازی استاد مینو بوما نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ نتائج اس بات کا اشارہ ہیں کہ بڑھتی ہوئی ماحولیاتی تپش کی وجہ سے ملیریا کا رخ پہاڑی علاقوں کی طرف ہوگا اور یہ زیادہ بلند علاقوں میں پھیلے گا۔
ان کے مطابق چونکہ ان علاقوں کے عوام کا واسطہ ابھی تک اس بیماری سے نہیں پڑا اور ان میں اس کے خلاف مدافعت موجود نہیں اس لیے ان کے اس سے زیادہ بری طرح متاثر ہونے اور ان میں اس مرض کے مہلک ہونے کے امکانات بھی کہیں زیادہ ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 2010 میں دنیا بھر میں 21 کروڑ 90 لاکھ افراد متاثر ہوئے جن میں سے چھ لاکھ 60 ہزار اپنی جان سے بھی گئے اور ان میں سے بیشتر کا تعلق ’سب صحارن‘ افریقہ سے تھا۔
مینو بوما نے کہا کہ ملیریا کی بیماری کا ماحولیاتی تبدیلی سے تعلق اسے لیے بھی گہرا ہے کیونکہ اس کی وجہ بننے والے جراثیم اور اسے پھیلانے والے مچھر گرم موسم میں پھلتے پھولتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تحقیق کے دوران بوما اور امریکہ کی ریاست مشی گن کی یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے افریقہ میں ایتھیوپیا سے جنوبی امریکہ میں کولمبیا تک سے 1990 سے 2005 کے دوران حاصل شدہ ڈیٹا کا جائزہ لیا۔
سائنس دان ملیریا پر قابو پانے کے پروگرام، اس کے انسداد کی ادویات اور بارش کی شرح میں تبدیلی جیسے عوامل کے اثرات کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچے کہ سرد علاقوں میں ملیریا کے مریضوں کی تعداد گرم برسوں میں بڑھی اور ان برسوں میں کم ہوئی جب موسم سرد رہا۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس سے ملیریا پر ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا ’ناقابلِ تردید‘ ثبوت مل گیا ہے۔
یونیورسٹی آف مشی گن کی پروفیسر مرسیڈیز پاسکل کے مطابق حاصل شدہ نتائج نہ صرف اس مسئلے کی نوعیت کا احاطہ کرتے ہیں بلکہ ان خطوں خصوصاً افریقہ میں ضروری اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہیں۔







