عالمی تپش میں کمی ماحولیاتی رپورٹ کا اہم حصہ

مادی سائنسز پر پالیسی سازوں کے لیے نئی سمری کی رپورٹ سٹاک ہوم میں جمعہ کو شائع کی جائے گی
،تصویر کا کیپشنمادی سائنسز پر پالیسی سازوں کے لیے نئی سمری کی رپورٹ سٹاک ہوم میں جمعہ کو شائع کی جائے گی

ماحولیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل سویڈن میں منعقد ہونے والے اپنے اجلاس میں ماحولیاتی تپش کے بارے میں پیش کی جانے والی اہم رپورٹ پر غور کرے گا۔

اس اجلاس میں سائنسدان دنیا میں بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت میں انسانی سرگرمی کی اہمیت کو اجاگر کریں گے۔

دوسری جانب متعدد حکومتیں سنہ 1998 سے درجۂ حرارت میں اضافے کے بارے میں واضح تشریح کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

ماحولیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل کے ساتھ کام کرنے والے پوری دنیا کے محققین نے ماحولیاتی تپش کے بارے میں ایک ہزار مستند مطالعات کا جائزہ لیا۔

ماحولیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل کی سنہ 2007 میں پیش کی جانے والی رپورٹ نے اسے رواں برس کے نوبل امن انعام دلوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

فزیکل سائنسز پر پالیسی سازوں کے لیے نئی سمری کی رپورٹ سٹاک ہوم میں جمعے کو شائع کی جائے گی۔

اس رپورٹ میں فضا، سمندر اور قطبین کے درجۂ حرارت پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

اس رپورٹ میں ماحولیاتی تبدیلی کی وسعت، سمندر کی سطح، گلیشیئروں اور برف کی تہوں پر ہونے والے اثرات کا نیا تخمینہ پیش کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ماحولیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل کی سنہ 2007 میں پیش کی جانے والی رپورٹ کےمطابق ماحولیاتی نظام کی تپش شک و شبے سے بالاتر ہے اور بیسویں صدی کے وسط سے لے کر اب تک مشاہدے میں آنے والی ماحولیاتی کا باعث بڑی حد تک انسانوں کی جانب سے گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہے، یا دوسرے الفاظ میں اس کا باعث انسان کی جانب قدرتی گیس اور پٹرولیم جیسے ایندھنوں کا استعمال ہے۔

نیدرلینڈ میں ماحولیاتی تیش کی جانچ پڑتال کرنے والا ادارے کے چیف سائنس دان پروفیسر آرتھر پیٹرسن ماحولیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل کی رپورٹ کا جائزہ لیں گے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’متعدد حکومتیں درجۂ حرارت میں اضافے کے بارے میں واضح تشریح کا مطالبہ کر رہی ہیں اور میرا خیال ہے کہ یہ اس رپورٹ کا مرکزی نقطہ ہو گا۔‘