مردوں کے اوسط قد میں اضافہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ انیسویں صدی کے وسط سے مردوں کے اوسط قد میں گیارہ سینٹی میٹر کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اس تحقیق کے لیے پندرہ یورپی ممالک سے ہزاروں مردوں کے اعداد و شمار اکٹھے کیے گئے تھے۔

ایک اکیس سالہ برطانوی مرد کا اوسط قد سنہ اٹھارہ سو اکہتر- پچہتر میں 167.05 سینٹی میٹر (پانچ فٹ پانچ انچ) ہوا کرتا تھا جو سنہ انیس سو اکہتر - پچہتر میں بڑھ کر 177.37 سینٹی میٹر (پانچ فٹ دس انچ) ہوگیا ہے۔

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ قد ایک ’فائدہ مند پیمانہ‘ ہے لیکن صحت کے تمام عوامل پر توجہ دینا بہت ضروری ہے۔

آکسفورڈ اکنامک پیپر میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ملٹری ریکارڈ اور آبادی کے سروے سے اکٹھے کیے گئے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ اس تحقیق میں پندرہ یورپی ممالک سے سنہ اٹھارہ سو ستر اور سنہ انیس سو اسّی کے درمیانی عرصے کے اعداد و شمار استعمال کیے گئے۔

تحقیق میں صرف مردوں کے قد کا جائزہ لیا گیا ہے کیوں کہ اس عرصے کے دوران خواتین سے متعلق اعداد و شمار بہت کم ہیں۔

اس تحقیق کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ’عمومی طور پر قد میں اضافے کے وجہ جینز کو تصور کیا جاتا ہے، اگرچہ یہ انفرادی طور پر تو فرق ظاہر کرتے ہیں لیکن اس تحقیق کے مجموعی رجحان کی وضاحت نہیں کرتے۔‘

اس تحقیق میں شامل یونیورسٹی آف اسیکس کے پروفیسر ٹم ہیٹن کا کہنا ہے کہ اس تحقیق میں دیکھے گئے رجحان کی کوئی مخصوص وضاحت نہیں دی جا سکتی۔

ان کا کہنا ہے ’بیسویں صدی میں وہ لوگ بھی زندہ ہیں جن کی بقاء انیسویں صدی میں ممکن دکھائی نہیں دیتی تھی‘۔

محققین کا کہنا ہے کہ ’چار یا پانچ نسلوں میں اوسط قد کے بڑھنے میں جینز کا کردار اتنا زیادہ نہیں ہو سکتا۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ قد کے بڑھنے کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کی زندگی کے پہلے دو سال کیسے گزرتے ہیں۔

سانس کی بیماریاں اور اسہال سے کئی شیر خوار بچوں کی موت ہو جاتی ہے لیکن بچ جانے والوں کی نشو نما متاثر ہوتی ہے اور اس سے قد پر فرق پڑتا ہے۔

جس عرصے کا اس تحقیق میں جائزہ لیا گیا ہے اس دوران شیر خوار بچوں کی اموات میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔

ماہرین نے چھوٹے کنبے کے رجحان کو بھی اس کی ایک وجہ قرار دیا ہے کیوں کہ آپ کو کم لوگوں کو پالنا ہوتا ہے اور زیادہ توجہ دی جا سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ آمدنی، صفائی کی بہتر سہولیات اور صحت اور خوراک سے متعلق زیادہ آگاہی جیسے عوامل بھی بہتر نشو نما کا باعث ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مختلف ممالک میں قد کے حوالے سے مختلف رجحانات دیکھے گئے ہیں۔

برطانیہ میں صحت کے شعبے سے منسلک ڈاکٹر جان مڈلٹن کا کہنا ہے کہ ’کیا لمبا قد اس بات کی نشاندہی ہے کہ ہم صحت مند ہیں؟ اس دلچسپ تحقیق سے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک اہم عنصر ضرور ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’تاہم ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ چھوٹے قد کے مرد صحت مند نہیں ہوتے۔‘

’اوسط قد صحت کا ایک اہم پیمانہ ہے لیکن ہمارے لیے خراب صحت کی وجوہات کا مقابلہ کرنا ضروری ہے‘۔

’یہ روز گار کے مواقع پیدا کر کے کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے جہاں قوم کی صحت میں بہتری لانے کی بات ہوتی ہے وہاں صرف خوراک اور ورزش پر نہیں بلکہ روزگار پر بھی توجہ دینی ضروری ہے۔‘