سرخ چقندر کے استعمال سے بلڈ پریشر میں کمی

سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق کے مطابق سرخ چقندر کے جوس کا ایک کپ پینے سے بلڈ پریشر کم کیا جا سکتا ہے۔
ہائپر ٹینشن نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ دو سو پچاس ملی لیٹر سرخ چقندر کا جوس پینے سے بلڈ پریشر میں دس ایم ایم آی جی کمی ہو سکتی ہے۔
اس تحقیق کے دوران پندرہ مریضوں پر تجربات کیے گئے۔ سائنسدانوں کے مطابق چقندر میں نائٹریٹ موجود ہوتی ہے جو خون کی شریانوں کو کھلا کرتی ہے جس سے خون کی گردش میں بہتری آتی ہے۔
دل کے عارضے میں مبتلا بہت سارے لوگ نائٹریٹ ملی دوا استعمال کرتے ہیں۔
لندن کے میڈیکل سکول اور این ایچ ایس ٹرسٹ کے محققین چقندر کے استعمال سے بلڈ پریشر میں کمی کے حوالے سے کئی سالوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اب بھی اس ضمن میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چقندر کا جوس پینے سے غیرمتوقع طور پر ایک نقصان بھی ہو سکتا ہے اور اس صورت میں جب آپ کے پیشاب کا رنگ گلابی ہو جائے۔
اس تحقیق میں شامل ڈاکٹر آمریتا اہلووالیا کے مطابق’ہمیں اس بات پر حیرانگی ہوئی کہ اتنے بڑے اثر کے لیے کتنی کم مقدار میں نائٹریٹ کی ضرورت ہوتی ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ’ہمیں امید ہے کہ خوراک میں ایسی سبزیاں استعمال کی جائیں جن میں نائٹریٹ شامل ہو اور اس میں سبز پتوں والی سبزیاں اور سرخ چقندر شامل ہے اور اسے معمولات زندگی کا حصہ بنانے سے ہم آسانی سے دل کی صحت کو بہتر کر سکتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’تاہم اس ضمن میں ہمیں مریضوں پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ آیا ایسی سبزیوں کے استعمال کے ذریعے لمبے عرصے تک بلڈ پریشر کو کم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔‘







