مردوں میں مثانہ کے سرطان کا علاج

سائنسدانو نے مردوں میں غدود مثانہ کے بننے کو کنٹرول کرنے والے جینز کا مطالعہ کیا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنسائنسدانو نے مردوں میں غدود مثانہ کے بننے کو کنٹرول کرنے والے جینز کا مطالعہ کیا۔

برطانیہ میں ایڈنبرا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک ایسی جین دریافت کی ہے جس کے ذریعے مردوں کے مثانہ میں غدود کے سرطان کی تشخیص اور علاج میں مدد مل سکتی ہے۔

سائنسدانوں کی ٹیم نے مردوں کے مثانہ میں غدود کے بننے کو کنٹرول کرنے والے جینز کا مطالعہ کرتے ہوئے ڈیکورین نامی جین کی نشاندہی کی ہے۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ جین سرطان کی رسولی کی نشونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

محقق ڈاکٹر ایکسل تومسن نے کہا کہ’ ہم نے ان جینز کی نشاندہی کی جو غدود کے پلنے میں کارآمد تھے اور پھر اس کا موازنہ انہی جینز کی مثانہ میں سرطان پیدا کرنے کے کردار کے ساتھ کیا اور اس عمل کے دوران پتہ چلا کہ ڈیکورین جین کا وجود سرطان ذدہ غدود کی بہ نسبت نارمل غدود مثانہ کے خلیوں میں گھٹا ہوا تھا‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ مشاہدات سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید ڈیکورین جین سرطان کے نشونما کو روکنے میں مددگار ہو۔

ڈاکٹر ایکسل تومسن کا کہنا ہے کہ ’اگر ہماری تحقیق کی مکمل طور پر تصدیق ہو گئی تو اس کا مطلب ہے کہ مستقمل میں ڈیکورین کی پیمائش غدود مثانہ کا سرطان معلوم کرنے میں اہم ذریعہ ہوگا اور یہ اندازہ بھی لگایا جا سکے گا کہ مرض کس سطح پر ہے‘۔

یہ دریافت سرطان کے گرد خلیوں کے ماحول اور سرطان کی رسولی کی نشونما پر اثر معلوم کرنے کے لیے ایک ریسرچ کے دوران ہوئی۔

برطانیہ کے پروسٹیٹ سنٹر سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر کیٹی ہومز کا کہنا ہے ’اس قسم کی ابتدائی تحقیق ہمیں غدود مثانہ کے سرطان کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے جس سے ہمیں آگے مرض کی تشخیص اور علاج میں آسانی پیدا ہو سکی ہے‘۔

انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ’سالانہ ایک لاکھ مرد مثانہ میں غدود کے سرطان کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں لیکن ہمارے پاس ابھی تک سرطان کی رسولی کے نشونما کے بارے میں بہت کم علم ہے اس پر مزید تحقیق کی اشد ضرورت ہے‘۔

ریپرڈکٹیو ہیلتھ سینٹر کی اس تحقیق کے لیے برطانیہ کے پروسٹیٹ سینٹر اور میڈیکل ریسرچ سینٹر نے رقم فراہم کی ہے۔

یہ تحقیق پلوز ون نامی سائنسی جریدے میں چھاپی جا رہی ہے۔

.