’مانع حمل تدابیر سے لاکھوں جانیں بچانا ممکن‘

ایک اندازے کے مطابق مانع حمل تدابیر دنیا بھر میں ہر سال ڈھائی لاکھ ایسی خواتین کی جان بچانے کی وجہ بنتی ہیں جو ان کی عدم موجودگی میں زچگی کے دوران یا پھر غیر محفوظ اسقاطِ حمل کے نتیجے میں ہلاک ہو سکتی ہیں۔
برطانوی طبی جریدے لینسٹ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ایسی ادویات اور طریقوں تک پہنچ آسان بنانے سے دنیا میں ماؤں کی ہلاکتوں کی شرح میں ایک تہائی کمی ممکن ہے۔
امریکی محققین کے مطابق مانع حمل تدابیر بنیادی طور پر ترقی پذیر ممالک کی ان خواتین کے لیے فائدہ مند ہیں جو حمل یا پھر اسقاطِ حمل کے دوران طبی پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتی ہیں۔
برطانیہ میں منگل کو خاندانی منصوبہ بندی کے موضوع منعقدہ عالمی کانفرنس کے موقع پر شائع کی گئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں سنہ دو ہزار آٹھ کے دوران تین لاکھ پچپن ہزار خواتین زچگی یا اسقاطِ حمل کے دوران ہلاک ہوئیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ مانع حمل تدابیر استعمال کرنے کی وجہ سے ڈھائی لاکھ سے زیادہ خواتین ان چاہے حمل سے محفوظ رہیں۔
لندن میں اس کانفرنس کے انعقاد کی وجہ یہ خدشات ہیں کہ دنیا میں حد سے زیادہ خواتین زچگی کے دوران ہلاک ہو رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ’اگر ترقی پذیر ممالک کی وہ تمام خواتین جو حاملہ نہیں ہونا چاہتیں، ایک مؤثر مانع حمل طریقہ استعمال کرتی ہیں تو ماؤں کی ہلاکتوں میں مزید تیس فیصد کمی ممکن ہے‘۔
اس تحقیق کے کلیدی کردار اور لندن سکول آف ہائجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کے پروفیسر جان کلیلینڈ کا کہنا ہے کہ ’گزشتہ بیس برس کے دوران ترقی پذیر ممالک میں مانع حمل طریقوں کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ماؤں کی ہلاکتوں میں چالیس فیصد کمی آئی ہے‘۔
اقوامِ متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا کی آبادی سات ارب کے ہندسے کو چھو چکی ہے اور اندازوں کے مطابق سنہ دو ہزار پچاس میں دنیا کی آبادی نو ارب تیس کروڑ جبکہ سنہ اکیس سو میں دس ارب سے زیادہ ہوگی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







