گاؤں میں کینسر کلینک بنانے کے لیے

،تصویر کا ذریعہOther
سرطان میں مبتلا بچوں کے علاج کے لیے رقم اکٹھی کرنے کے لیے موٹر سائیکل پر اکیس ممالک کا سفر کرنے والے فلسطینی موٹرسائیکل سوار پاکستان میں پہنچ چکے ہیں۔ وہ جمعرات کو بلوچستان سے پنجاب کی طرف روانہ ہوئے۔
سینتیس سالہ ویسام الیوسی متحدہ عرب امارت سے سنگاپور تک سفر کے دوران اکھٹی ہونے والی رقم سے فلسطین کے علاقے بیت جالا میں بچوں کے لیے ایک کلینک قائم کرنا چاہتا ہے۔
ویسام کا دو دن قبل لورالائی سے روانہ ہونے کے بعد بلوچستان اور پنجاب کی سرحد پر پٹ منڈو کے مقام پر اپنی تنظیم سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ وہ موٹر سائیکل سے گر کر زخمی ہو گئے تھے۔
کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق فلسطین میں بچوں کی فلاح وبہبود کے لیےکام کرنے والے ایک برطانوی غیر سرکاری تنظیم ’گڈ وِل جرنی‘(خیرسگالی کا سفر) کے مالی تعاون سے موٹرسائیکل پر دنیا کاسفرکرنے والے فلسطینی رضاکار کو قلعہ سیف اللہ کی انتظامیہ نے براستہ ژوب لاھور کی طرف روانہ کر دیا۔
ڈپٹی کمشنر لورالائی عبد المتین اچکزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ چند روز قبل جب ویسام کوئٹہ سے براستہ زیارت لورالائی آرہے تھے تو زیارت کے علاقے میں وہ موٹرسائیکل سے گر کرزخمی ہو گئے تھے اور لورالائی پہنچنے کے بعد انہیں موٹرسائیکل سمیت روانہ کردیاگیا تھا لیکن پنجاب کی سرحد پر پولیس نے انہیں روک لیا اور یہ کہہ کر واپس کر دیا تھا کہ سفری دستاویزات کے مطابق انکا پنجاب میں داخلہ براستہ ڈیرہ اسماعیل خان ہونا تھا۔
لیویز نے انہیں دوبارہ لورالائی پہنچایا اور جمعرات کی صبح انہیں قلعہ سیف اللہ کی انتظامیہ کے حوالے کردیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہOther
ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ حمیداللہ ناصر نے بتایا کہ ویسام لاپتہ نہیں ہوئے تھے بلکہ مقامی لیویز نے حفاظتی اقدام کے طور پر ان سے سیٹ لائیٹ فون لیا تھا جو اب ان کے حوالے کردیاگیا۔
حمید اللہ نے بتایا کہ فلسطینی رضاکار کو موٹرسائیکل سمیت ٹرک میں سخت حفاظتی انتظامات میں آج ژوب روانہ کردیا جہاں وہ ڈیرہ اسماعیل خان سے ہوتے ہوئے پنجاب میں داخل ہوجائیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وسیم کے صحت کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ کا کہناتھا کہ وہ معمولی زخمی تھے تاہم ان کی موٹرسائیکل چلانے کا قابل نہیں تھی اور نہ ہی قلعہ سیف اللہ میں اس کی مرمت کے لیے کوئی مستری دستیاب تھا۔
فلسطینی رضا کار نے دبئی سے موٹرسائیکل پر سفرکا آغاز کیا تھا اوراومان اور ایران سے ہوتے ہوئے وہ تفتان کے مقام پر پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔
پروگرام کے مطابق وہ لاھورسے ہندوستان ، بنگلہ دیش اور دیگراشیائی میں ممالک کاسفرکریں گے۔اور ساٹھ ہزار کلومیٹر کا راستہ وہ ایک سو تیس دنوں میں طے کر کے سنگاپور پہنچیں گے۔







