افریقہ:’ملیریا پھیلانے والے مچھر غائب‘

سنہ 2009 میں ٹیم صرف چودہ مچھر پکڑ پائی
،تصویر کا کیپشنسنہ 2009 میں ٹیم صرف چودہ مچھر پکڑ پائی

افریقہ کے کچھ حصوں سے ملیریا پھیلانے والے مچھر غائب ہوتے جا رہے ہیں لیکن سائنسدان اس کی وجہ جاننے میں ناکام رہے ہیں۔

ملیریا جرنل میں لکھے گئے ایک تحقیقی مضمون میں محققین نے کہا ہے کہ افریقہ کے ان حصوں سے بھی مچھر غائب ہو رہے ہیں جہاں ملیریا پر کنٹرول کے بہت زیادہ اقدامات نہیں کیےگئے ہیں۔

اعدادوشمار کے مطابق مچھرداني کے بڑھتے استعمال کی وجہ سے افریقہ کے کئی ممالک میں ملیریا کے مریضوں میں کافی کمی ہوئی ہے۔ ان ممالک میں تنزانیہ ، اريٹريا ، روانڈا ، کینیا اور زیمبیا شامل ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ ملیریا پر کنٹرول کے لیے اقدامات کا نتیجہ ہے لیکن ڈنمارک اور تنزانيہ کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ اصل وجہ نہیں ہے۔

سائنسدانوں کی یہ ٹیم گزشتہ دس برسوں سے تنزانیہ میں مچھروں کو پکڑ کر ان کے مطالعے میں مصروف ہے۔

اس ٹیم نے سنہ 2004 میں پانچ ہزار مچھر پکڑے تھے جبکہ سنہ 2009 میں یہ ٹیم صرف چودہ مچھر پکڑ پائی اور یہ مچھر ایسےگاؤں میں پکڑے گئے جہاں مچھرداني استعمال نہیں ہوتی۔

کچھ سائنسدانوں نے ماحولیاتی تبدیلی کو مچھروں کی تعداد میں کمی کی وجہ قرار دیا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں افریقہ میں بارش کے اوقات میں تبدیلی آئی ہے اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس سے مچھروں کے پیدا ہونے اور بڑھنے کا قدرتی نظام متاثر ہوا ہے۔

تاہم تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ اور کوپن ہیگن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈین ميروزوچ کہتے ہیں کہ وہ اس بات سے مطمئن نہیں ہیں کہ صرف ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ بارش کے بدلتے طریقوں کی وجہ سے ہو سکتا ہے لیکن یہ صرف ایک وجہ ہوگی۔ اس بات کو صحیح طریقے سے نہیں معلوم کیا جا سکا ہے کس طرح کچھ علاقوں سے مچھر پوری طرح غائب ہوگئے ہیں‘۔

ان کے مطابق ’ہو سکتا ہے مچھروں میں کوئی بیماری ہو، کوئی وائرس ہو۔ ہو سکتا ہے کہ ان علاقوں کی فضا میں ایسا کوئی تبدیلی ہوئی ہے جو مچھر برداشت نہیں کر پائے اور ختم ہو گئے‘۔

پروفیسر ڈین کہتے ہیں کہ ان علاقوں میں ملیریا کا ایک بھی مریض نہیں بچا ہے جس کی وجہ سے ملیریا کی دوائيوں کے تجربات میں بھی مسائل کا سامنا ہے۔