کافی اور کینسر کے تعلق پر تحقیق

کافی کی پیالی
،تصویر کا کیپشنکچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جائزے سے کافی پینے کا کیسنر سے تعلق ثابت نہیں ہوتا

ایک نئی تحقیق کے مطابق جـو خواتین روزانہ پانچ پیالی سے زیادہ کافی پیتی ہیں ان میں چھاتی کا کینسر ہونے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔

تاہم سویڈن کے ادارے کیرولینسکا انسٹیٹیوٹ میں ہونے والی اس تحقیق کے نتائج کے باوجود کینسر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے یہ واضح طور پر نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ کافی کا کینسر کے نہ ہونے سے واضح تعلق ہو اور اگر لوگوں کو کینسر سے بچنا ہے تو ان کی توجہ ایک صحتمند زندگی کزارنے پر ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا کہ یہ جائزہ نا کافی ہے اور اس کے نتائج کی تصدیق درکار ہے۔

کیرولینسکا انسٹیٹیوٹ کی یہ تحقیق بائو میڈ سینٹرء کے ریدے بریسٹ کینسر ریسرچ میں شائع ہوئی ہے۔ اس تحقیق میں تقریباً چھ ہزار خواتین کا جائزہ لیا گیا جو انتقاعِ حیض سے گزر چکی تھیں۔ ان میں سے کچھ میں سرطان کی تشخیص ہو چکی تھی اور کچھ میں نہیں۔ جائزے سے معلوم ہوا کہ جو خواتین سرطان کے امراض میں مبتلا تھیں انہوں نے ماضی میں دوسری خواتین کے مقابلے میں نسبتاً کم کافی پی تھی۔

پروفیسر پیر ہال نے کہا ’نتائج نے ہم کو کچھ حیران کیا لیکن یہ نتائج واضح تھے۔ جب ہم نے اس کو مزید تفصیلی طور پر دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک خاص قسم کے سرطان (اوسٹروجن ریسپٹر نیگاٹیو برسٹ کینسر) میں ان خواتین شامل تھیں جو بہت کم کافی پیتی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ کافی کا یہ اثر کیوں ہوا ہو۔

’اِن میں کیا تعلق ہے، یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے۔ کافی میں اتنے مختلف قسم کے کمپاؤنڈ ہوتے ہیں ان میں سے کسی ایک کا یہ اثر ہو سکتا ہے۔‘

تحقیق سے متعلق ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ جائزے میں یہ نہیں پوچھا گیا کہ یہ خواتین کس قسم کی کافی پیتی تھیں؟ کس نوعیت کی تھی، دودھ والی کافی تھی ایسپریسو تھی، کیا تھی۔ یہ اس لیے اہم ہے کہ مختلف قسم کی کافی میں مختلف اجزاء ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ کینسر کے ماہرین کو اس جائزے کے بارے میں تحفظات ہیں۔ برطانیہ میں کینسر ریسرچ کے یِنکا ایبو کہتے ہیں ’اس جائزے سے یہ واضح ثبوت نہیں ملتے ہیں کہ بہت سی کافی پینے سے کینسر کا امکان کم ہوتا ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ اس پر مزید کام کی ضرورت ہے۔