مردانہ جین میں کم عمری درج

انسانی نطفہ
،تصویر کا کیپشننیا نر جین مردوں کی بڑی جسامت کا موجب بنتا ہے لیکن اس کی قیمت انہیں زندگی کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے: ماہرین

ایک نئی تحقیق کے مطابق مردوں کے نطفوں میں موجود جین میں ہی ان کی زندگی کے خاتمہ کا کوڈ بھی درج ہوتا ہے۔

سائنسدانوں کو چوہوں پر تجربات سے ایسے جین کا پتہ چلا ہے جو پایا تو مرد و خواتین دونوں میں جاتا ہے لیکن بظاہر متحرک صرف مردوں میں ہوتا ہے۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ مذکورہ جین مردوں کی بڑی جسامت کا موجب بنتا ہے لیکن اس کی قیمت انہیں زندگی کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔

ٹوکیو کی زرعی یونیورسٹی میں ہونے والی یہ تحقیق ’ہیومن ریپروڈکشن‘ نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔ حالانکہ یہ تحقیق صرف چوہوں پر کی گئی لیکن سائنسدانوں کا خیال ہے کہ بشمول انسانوں کہ یہ تمام دودھ دینے والے جانداروں پر صادق آتی ہے۔

سائنسدانوں نے اس تجربے کے لیے ایسے چوہوں کا مشاہدہ کیا جو دو مادہ چوہوں سے حاصل کیے گئے جین سے پیدا ہوئے تھے اور ان کی پیدائش میں نر چوہے کا عمل دخل نہیں تھا۔ سائنسدانوں نے ایسا چوہوں کے ڈی این میں ضروری تبدیلیاں کر کے ممکن بنایا۔

اس تجربے سے پیدا ہونے والے چوہے، جن کی پیدائش میں نر چوہوں سے مواد بالکل حاصل نہیں کیا گیا تھا، اوسطاً عام طریقے سے پیدا ہونے والے چوہوں کی نسبت تین گنا زیادہ دیر زندہ رہے۔

مادہ چوہوں سے حاصل ہونے والے مواد سے پیدا ہونے والے چوہے جسامت میں چھوٹے تھے لیکن ان کا نظام مدافعت کافی بہتر کام کر رہا تھا۔سائنسدانوں کا خیال ہے کہ عام چوہوں اور تجربے کے دوران پیدا کیے گئے چوہوں میں اس فرق کی وجہ وہ جین ہے جو نر چوہوں سے اگلی نسل تک پہنچتا ہے۔

انہوں نے کہا حالانکہ یہ جین نر اور مادہ بچوں دونوں کو باپ سے ملتا ہے لیکن مادہ چوہوں میں یہ بے اثر ہوتا ہے۔ تحقیق کرنے والی ٹیم میں شامل پروفیسر ٹوموہیرو کونو نے کہا کہ ہمیں کچھ عرصے سے معلوم تھا کہ تقریباً تمام ممالک میں خواتین کی عمر مردوں سے زیادہ ہوتی ہے اور نر اور مادہ کی عمروں میں یہ فرق دوسرے دودھ دینے والے جانداروں میں موجود ہے لیکن اس کی وجہ واضع نہیں تھی۔

برطانیہ میں مردوں کی اوسط عمر ستتر اعشاریہ چار اور خواتین میں اکیاسی اعشاریہ چھ سال ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عام حالات میں نر بڑی اور صحتمند جسامت کی طرف دھیان دیتے ہیں جو انہیں مادہ کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس مادہ افزائش نسل کے لیے توانائی محفوظ کرتی ہے۔

برطانیہ میں شیفیلڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ایلن پیسی نے کہا کہ مذکورہ تحقیق کے نتائج فکرانگیز ہیں اور یہ ایسا موضوع ہے جس پر مزید تحقیق کی ضٰرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس تحقیق کی بنیاد پر مستقبل میں انسانوں کی عمر میں طبی طریقے سے اضافے کے امکان کے بارے میں سوچنے سے باز رہیں گے۔ ڈاکٹر پیسی کے خیال انسانوں کو عمومی طور پر کھیلنے کےلیے زندگی کی ایک اچھی اننگز ملتی اور انہیں اسی پر اکتفا کرنا چاہیے۔