نیوٹران ستارے: نئی خلائی دوربین سے دو مردہ سورجوں کے تصادم کا نظارہ

،تصویر کا ذریعہBBC News/Stelios Thoukidides
- مصنف, پیلب گھوش
- عہدہ, سائنس رپورٹر، لاپالما
ماہرین فلکیات پہلی بار ایک نئی طاقتور دوربین کی بدولت نیوٹران ستارے کہلانے والے دو مردہ سورجوں کے تصادم کا نظارہ کر پائے ہیں۔
نیوٹران ستاروں کا تصادم کائنات کو سمجھنے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ ان ستاروں نے بھاری دھاتیں تخلیق کیں، جس سے ستارے اور سیارے بنے جیسے اربوں سال پہلے ہمارے سیارے بنے تھے۔
اس تصادم سے پیدا ہونے والی روشنی صرف چند راتوں کے لیے نظر آتی ہے لہذا ٹیلی سکوپ کے ذریعے اس کا مشاہدہ کرنے کے لیے جلدی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
ماہرین فلکیات نے سنہ 2017 میں ایسے ہی ایک تصادم کا پتا لگا کر اس کا مشاہدہ کیا تھا لیکن زیادہ تر ایسے واقعات خوش قسمتی سے سامنے آئے ہیں۔
برطانیہ کے ماہرین فلکیات کی جانب سے تیار کردہ گریویٹیشنل ویو آپٹیکل ٹرانسینٹ آبزرور (GOTO)، جو کہ آتش فشاں ہسپانوی جزیرے لا پالما کے بلند پہاڑوں پر نصب ہے، اب منظم طریقے سے ایسے واقعات کی تلاش کر سکے گی۔
واروک یونیورسٹی کے پروفیسر ڈینی سٹیگس نے مجھے بتایا کہ ’جب واقعی کسی ایسے واقعے کے بارے میں پتا چلتا ہے تو اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے میں رفتار بہت اہم ہے، ہم بہت ہی قلیل مدتی چیز کی تلاش میں ہوتے ہیں کیونکہ اس کے ختم ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔‘
نیوٹران ستارے اتنے بھاری ہوتے ہیں کہ ان کے مادے کا ایک چائے کے چمچ جتنا حصہ بھی چار ارب ٹن وزنی ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ دوربین ماہر فلکیات کو مؤثر طریقے سے یہ دیکھنے میں مدد کرتی ہیں کہ خلا میں کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC News/Kevin Church
آسمان کا صاف نظارہ حاصل کرنے کے لیے دوربین ایک پہاڑی چوٹی پر نصب ہے، جس میں تمام اشکال اور سائز کے ایک درجن آلات ہیں۔
جب اس نئی ٹیلی سکوپ کے گنبد نما دو کور کھلتے ہیں تو اس میں سے سیلنڈر کی شکل کی آٹھ دوربینیں نمودار ہوتی ہیں جو دو بڑی کالی بیٹریوں کے ساتھ منسلک ہیں۔ ان کی ساخت خطرناک راکٹ لانچروں کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ ہر بیٹری عمودی اور افقی طور پر تیزی سے گھومتے ہوئے اپنے اوپر آسمان کے ہر حصے کا احاطہ کرتی ہے۔
نیوٹران ستارہ ایک مردہ سورج ہے جو اپنے بے تحاشہ وزن تلے دب گیا، یہ ان ایٹموں کو کچل رہا ہے جو کبھی اسے روشن کرتے تھے۔ ان ستاروں میں اتنی مضبوط کشش ثقل ہے کہ وہ ایک دوسرے کی طرف کھینچے چلے جاتے ہیں۔ آخر کار وہ ٹوٹ کر ایک دوسرے میں ضم ہو جاتے ہیں۔
جب ایسا ہوتا ہے، تو وہ روشنی کی چمک پیدا کرتے ہیں اور پوری کائنات میں ایک طاقتور شاک ویو جاتی ہے۔ یہ کائنات کی ہر چیز کو ہلا کر رکھ دیتی ہے، بشمول غیر محسوس طور پر ہمارے جسم میں موجود ایٹموں کو بھی ہلا کر رکھ دیتی ہے۔
شاک ویو، جسے کشش ثقل کی لہر کہا جاتا ہے، کو جب زمین پر محسوس کیا جاتا ہے یا پتا چلتا ہے تو یہ نئی دوربین تصادم کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی روشنی کے صحیح مقام کا پتا لگانے کے لیے حرکت میں آتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC News/Stelios Thoukidides
آپریٹرز کا مقصد کشش ثقل کی لہر پیدا ہونے کے گھنٹوں یا منٹوں بعد ہی اس تصادم کی جگہ کا پتا لگانا ہوتا ہے۔ اس کے لیے وہ آسمان کی تصاویر لیتے ہیں اور پھر ڈیجیٹل طریقے سے ستاروں، سیاروں اور کہکشاؤں کو ہٹاتے ہیں جو گذشتہ رات وہاں موجود تھے اور روشنی کے کسی نشان کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں جو پہلے وہاں نہیں تھا کیونکہ وہ ممکنہ طور پر ٹکرانے والے نیوٹران ستارے ہو سکتے ہیں۔
ماہر فلکیات پروفیسر ڈاکٹر جو لیمن کا کہنا ہے کہ ’اس میں عام طور پر دن اور ہفتے لگتے ہیں لیکن اب یہ فوری ہونا چاہیے۔ یہ کام کمپیوٹر سافٹ ویئر کے ذریعے کیا جاتا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’آپ سوچیں گے کہ یہ دھماکے بہت زور دار، بہت چمکدار ہوتے ہیں تو انھیں تلاش کرنا آسان ہونا چاہیے لیکن ہمیں سو ملین ستاروں میں سے اپنا مطلوبہ تصادم تلاش کرنا ہوتا ہے۔‘
’ہمیں یہ کام بہت تیزی سے کرنا ہوتا ہے کیونکہ یہ چیز دو دن میں غائب ہو جاتی ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہBBC News/Kevin Church
ایک بار جب ماہر فلکیات کو کائنات میں ایسے کسی تصادم کے درست مقام کی نشاندہی ہو جاتی ہے تو وہ دنیا بھر میں موجود زیادہ طاقتور دوربینوں سے اس کا مشاہدہ کرنے کے لیے رابطہ کرتے ہیں تاکہ اس تصادم پر زیادہ تفصیل سے اور مختلف زاویوں سے تحقیق کر سکیں۔
ڈاکٹر لیمن بتاتے ہیں کہ یہ عمل ہمیں طبیعیات (فزکس) کے بارے میں انتہائی حد تک معلومات فراہم کرتا ہے۔
پہاڑ کی چوٹی ماہرین فلکیات کو ستاروں کے تھوڑا سا قریب لاتی ہے۔ GOTO کی انسٹرومینٹیسن سائنسدان، ڈاکٹر کینڈل ایکلے کا کہنا ہے کہ دوربین کے ساتھ ان کے پاس کائنات میں جھانکنے کا ایک نیا طریقہ ہے۔
’اب ہم مزید نئی دریافتوں کی امید نہیں کر رہے ہیں۔ اس کے بجائے، ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ انھیں کہاں تلاش کرنا ہے اور کائنات میں جو کچھ موجود ہے، اس کا پردہ فاش کرنا ہے۔‘












