آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جیکب آباد جیسے گرم ترین علاقوں میں مردہ بچوں کی پیدائش اس قدر عام کیوں؟
- مصنف, سوامی ناتھن نتارنجن
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
زبیدہ کا کہنا ہے کہ 'اس طرح اپنے بچوں کو کھونا بہت تکلیف دہ اور خوفناک تھا۔‘ تیس سالہ زبیدہ دنیا کے گرم ترین علاقوں میں سے ایک پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع جیکب آباد سے 80 کلومیٹر دور ایک دیہات میں رہتی ہیں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دونوں مرتبہ مردہ بچوں کی پیدائش کے دوران ہمارے علاقے کی روایتی دائی نے ان کی مدد کی۔‘
ان کے شوہر عبدالعزیز اپنی اور زبیدہ کی تکلیف کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’گذشتہ برس جب میں نے اپنا دوسرا بچہ کھویا تو میں کئی دنوں تک مسلسل روتا رہا۔ نو ماہ کا حمل تقریباً مکمل ہو چکا تھا، لیکن میرا بچہ ماں کے رحم میں ہی دم توڑ گیا۔'
وہ مزید بتاتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد ان کی اہلیہ زبیدہ بہت پریشان اور فکرمند ہوئیں کہ وہ کبھی ماں نہیں بن سکے گی، میں نے انھیں تسلی دی اور ہمارے بہت سے رشتہ داروں نے بھی آ کر اس سے بات کی۔'
جیکب آباد کا شمار دنیا کے گرم ترین علاقوں میں ہوتا ہے جہاں موسم گرما میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔
گرم درجہ حرارت اور مردہ بچوں کی پیدائش
برطانوی میڈیکل جریدے میں شائع ہونے والی حالیہ ایک رپورٹ میں گرم موسم میں قبل از وقت زچگی کے خطرات، پیدائش کے وقت بچوں کا کم وزن یا مردہ بچوں کی پیدائش کے متعلق تحقیقی مقالوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
اس رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بظاہر جن علاقوں میں موسم زیادہ گرم ہوتا ہے وہاں مردہ بچوں کی پیدائش زیادہ ہوتی ہے۔
لیکن محققین نے یہ بھی کہا کہ اس بات کی نشاندہی کرنا مشکل ہے کہ کیسے گرمی مردہ بچوں کی پیدائش اور قبل از وقت پیدائش جیسے دیگر مسائل کا سبب بنتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
زبیدہ نے دونوں مرتبہ حاملہ ہونے کے بعد مناسب طور پر کوئی طبی مدد نہیں لی تھی یا کسی مستند ڈاکٹر کو معائنہ نہیں کروایا تھا جس نے یہ بات جاننا مزید مشکل بنا دیا ہے کہ اس کے ہاں مردہ بچوں کی پیدائش کی وجہ کیا ہے۔
ڈاکٹر سے معائنہ
اب وہ ڈاکٹر خورشید سے اپنا معائنہ کروا رہی ہیں تاکہ وہ ایک صحتمند بچے کو جنم دے سکیں۔ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ وہ ہر ہفتے کم از کم تین ایسی خواتین مریضوں کا معائنہ کرتی ہیں جن کے ہاں مردہ بچوں کی پیدائش ہوئی۔
جیکب آباد میں گذشتہ تین سے چار دہائیوں سے کام کرنے والی ڈاکٹر خورشید کہتی ہیں 'یہاں حمل ضائع ہونے یا مردہ بچوں کی پیدائش بہت عام ہے اور موسم گرما میں یہ تعداد بڑھ جاتی ہے۔'
ڈاکٹر خورشید کے ہاتھوں ہزاروں صحت مند بچوں کی پیدائش ہوئی ہے لیکن انھوں نے ایسے بہت سے تکلیف دہ واقعات کا بھی سامنا کیا ہے۔
اپنی سرکاری نوکری سے ریٹائر ہونے کے بعد ڈاکٹر خورشید اب اپنا نجی کلینک چلا رہی ہیں۔
وہ بتاتی ہیں کہ 'کچھ خواتین کا وزن کم ہوتا ہے، بہت سی خواتین میں شدید خون کی کمی اور دیگر کمزوریاں ہوتی ہیں۔بچے کی پیدائش سے قبل ماں کی صحت کے متعلق کوئی خیال نہیں کیا جاتا اور تقریباً یہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ یہ سب عوامل محفوظ حمل اور بچوں کی صحت پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
عزیز کہتے ہیں کہ 'طبی سہولیات تک رسائی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہماری ہاں عموماً دائیاں ہوتی ہیں جو بچوں کی پیدائش کے دوران مدد دینے کے لیے اچھی طرح تربیت یافتہ نہیں ہیں۔ آپ خوش قسمت ہیں اگر وہ صحت مند اور زندہ بچے کی پیدائش ممکن بنانے کے قابل ہو۔'
گرمی اور مردہ بچے
رواں برس یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے محققین نے دنیا کے چودہ کم آمدن اور متوسط آمدن والے ممالک میں مردہ بچوں کی پیدائش اور قبل از وقت پیدائش کے متعلق تحقیق شائع کی ہے۔
ان ممالک میں انگولا، بینن، بورونڈی، ایتھوپیا، ہیٹی، مالاوی، نیپال، نائجریا، فلپائن، جنوبی افریقہ، تاجکستان، مشرقی تیمور، یوگینڈا اور زمبابوے شامل ہے۔
ان ممالک کے محکمہ موسمیات کی رپورٹ اور خواتین سے متعلق خود کیے گئے سروے میں انھیں ایک رحجان نظر آیا ہے۔
اس تحقیق کی مرکزی مصنفہ سارہ میک الرائے نے بی بی سی کو بتایا کہ 'ہمیں معلوم ہوا کہ ان خواتین میں جو گرم علاقوں میں رہتی ہیں انھیں حمل کے آخری ہفتوں میں مردہ بچوں کی پیدائش کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔'
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ہم نے یہ بھی جانا کہ زیادہ درجہ حرارت کے اثرات کو موسم گرما ختم ہونے کے بعد بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ سخت گرمی کا سامنا کرنے کے تین سے پانچ دن بعد بھی مردہ بچے کی پیدائش ہو سکتی ہے۔
اس تحقیق میں یہ بھی کہا کہ خواتین جو دیہی علاقوں میں رہتی ہیں اور ان کا تعلق مالی طور پر خوشحال گھرانوں سے نہیں ہے اور وہ زیادہ تعلیم یافتہ بھی نہیں ہے ان میں بچوں کی قبل از وقت پیدائش اور مردہ بچوں کی پیدائش کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
دن اور رات کے درجہ حرارت میں فرق
اس تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان علاقوں میں جہاں دن اور رات کے درجہ حرارت میں 16 ڈگری سینٹی گریڈ سے سے کم کا فرق ہے وہاں بھی مردہ بچوں کی پیدائش کی زیادہ تعداد ہوتی ہے۔
عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ 'گرم موسم کے باعث صحت پر اثرات کے شواہد ہونے کے باوجود جیکب آباد میں چلچلاتی تپش اور گرمی سے بچاؤ کے کوئی انتظامات نہیں ہیں۔ انھیں یہاں ایک اچھا ہسپتال بنانا چاہیے۔‘
انھوں نے اپنے گھر میں بجلی جانے کی صورت میں متبادل توانائی کا انتظام کر رکھا ہے تاکہ اس دوران پنکھے چلتے رہیں۔
عزیز کہتے ہیں کہ یہاں درجہ حرارت 50 ڈگری تک بھی پہنچ جاتا ہے اور بہت زیادہ گرمی محسوس ہوتی ہیں اور حاملہ خواتین اور بھی زیادہ گرمی محسوس کرتی ہیں۔
رواں برس 14 مئی کو جیکب آباد کا درجہ حرارت 51 سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا اور اس نے اسے دنیا کا گرم ترین مقام بنا دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
گرمی مردہ بچوں کی پیدائش کی وجہ کیسے بنتی ہے؟
برطانیہ کے قومی محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ گرم دنوں کے دوران 'بچوں کی مردہ پیدائش کے واقعات میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور اس کی وجوہات کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔'
ایک وجہ جس کا علم ہے وہ گرم موسم کے باعث ماں کے رحم میں موجود پلیسنٹا میں مسائل کا ہونا ہے۔ یہ وہ عضو ہے جو ماں کے رحم میں بچے کو خون اور نشو و نما کے لیے خوراک مہیا کرتا ہے۔
ایک مفروضہ یہ ہے کہ گرمی کے باعث حاملہ ماں کے جسم میں پانی کی کمی کے باعث خون کی فراہمی جنین سے ماں کی جلد پر منتقل ہو جاتا ہے تاکہ جسم کے اندرونی درجہ حرارت کو ٹھنڈا رکھا جا سکے۔
میک ایلروئے کے ساتھ تحقیقی مقالے کی شریک مصنف ڈاکٹر سنڈانا ایلانگو کہتی ہیں ’شدید گرمی میں رہنے سے ہائپر تھرمیا (جسم کا غیر معمولی درجہ حرارت) بھی ہو سکتا ہے اور صحت مند پیدائش میں شامل خلیات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔'
ان کا مزید کہنا ہے کہ 'ایک اور مفروضہ یہ ہے کہ انتہائی گرمی خلیات کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جس کے نتیجے میں جنین کو ناکافی غذائیت فراہم ہوتی ہے۔'
موسمیاتی تبدیلیوں کا مطلب ہے کہ اب گرمی کی لہریں زیادہ اور شدید ہوں گی۔ امریکی محققین نے تجویز دی ہے کہ ہمیں عارضی ٹھنڈک کے شیلٹرز اور شدید گرمی کے متعلق وارننگ سسٹم بنانے ہوں گے۔
مردہ بچوں کی پیدائش سے متعلق اقوام متحدہ کی پہلی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سنہ 2019 میں دنیا بھر میں 19 لاکھ مردہ بچے پیدا ہوئے تھے۔ یعنی پر 16 سکینڈ بعد ایک مردہ بچہ پیدا ہوتا ہے۔
پاکستان میں تین فیصد سے زیادہ زچگیوں کے دوران مردہ بچوں کی پیدائش ہوتی ہے۔
امید
جیکب آباد میں ڈاکٹر خورشید کہتی ہیں کہ انھوں نے یہاں کے سرکاری ہسپتالوں اور نجی ہسپتالوں میں سہولیات میں بہتری دیکھی ہے۔ انھیں اس بات کی بھی خوشی اور تسلی ہے کہ اب یہاں زیادہ دیہی خواتین علاج معالجے کے لیے آ رہی ہیں۔
ڈاکٹر کو معائنہ کروانے کے بعد اب زبیدہ دن کے وقت باہر دھوپ اور گرمی میں جانے سے اجتناب کر رہی ہیں۔ انھیں یقینی طور پر یہ نہیں پتا کہ ان کے ہاں مردہ بچوں کی پیدائش کی وجہ کیا تھی لیکن وہ اور ان کے شوہر بچے کے لیے بے چین ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ 'ہمیں امید ہے کہ مناسب علاج سے ہم والدین بن سکتے ہیں۔'
زبیدہ اب اچھی خوراک اور زیادہ پھل کھا رہی ہیں اور جہاں تک ممکن ہو سکے کمرے میں رہتی ہیں۔ جبکہ ان کے شوہر عزیز کا کہنا ہے کہ 'میں امید کرتا ہوں کہ خدا اسے بچے دے گا اور وہ دوبارہ خوش ہو جائے گی۔'
ڈاکٹر خورشید کو زبیدہ کے معائنے کے دوران ایسی کوئی طبی وجہ نہیں ملی جو ایک صحت مند بچے کی نشو ونما میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ 'بس وہ تھوڑی کمزور تھی میں نے کچھ دوائیں اور فوڈ سپلمنٹ تجویز کیے ہیں، میں نے اسے باقاعدگی سے معائنے کے لیے بھی آنے کو کہا ہے اور اگر خدا نے چاہا تو جلد میں اس کا حمل ٹھہر جائے گا اور وہ ماں بن جائے گی۔