پاکستان میں زچگی کے بعد ماؤں کا آرام کرنا مشکل کیوں اور انھیں کتنے آرام کی ضرورت ہوتی ہے؟

    • مصنف, منزہ انوار
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

’میری نند 12 گھنٹے لیبر میں رہنے اور بچے کی پیدائش کے بعد گھر آئی تو سسرال والوں نے بریانی پکانے کی فرمائش کی۔ جب ہم بچہ دیکھنے گئے تو اسے کچن میں دیکھ کر حیران رہ گئے۔ اس کی ساس نے کہا ’ارے بچہ پیدا کرنا کوئی انہونی بات تھوڑی ہے؟‘ میں آج بھی اس دن کو بھول نہیں پاتی۔۔۔‘

’مجھے دورانِ حمل کئی پیچیدگیوں کا سامنا تھا اور ڈاکٹروں نے مجھے خبردار کیا تھا کہ سوائے باتھ روم جانے کے بستر سے نہ اٹھوں۔ میرے سابق شوہر نے کہا ’یہ ملکہ رانی بن کر رہنا ہے تو سامان سمیٹو اور گھر جاؤ اپنے، ہماری ماں نے بھی بچے پیدا کیے ہیں، کوئی کام نہیں رکا۔ میں نے اپنا بچہ کھو دیا۔ 12 سال ہو گئے مگر یہ سب میرے دل پر نقش ہے۔۔۔۔‘

’میری اکلوتی بہن یہی سب برداشت کرتی رہی، دوسرے حمل میں اسے پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا اور اس کی موت ہو گئی۔۔۔‘

بچے کی پیدائش کے فوراً بعد خواتین کو کیا کچھ سننا اور سہنا پڑتا ہے۔۔۔ پاکستان میں سوشل میڈیا پر کئی خواتین ایسی ہولناک کہانیاں سنا رہی ہیں۔

ہر انسان کا جسم دوسرے سے مختلف ہوتا ہے اور ہم سب میں درد برداشت کرنے اور ہمارے جسموں کے دوبارہ تندرست ہونے کے دورانیے میں بھی فرق ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق بچے کی پیدائش ایک زندگی بدل دینے والا تجربہ ہے، بچے کی پیدائش کے وقت عورت جسمانی اور ذہنی طور پرایک مشکل مرحلے سے گزرتی ہے۔ اور پیدائش کے بعد اس نئے تعلق کو سمجھنے (ذہنی اور جذباتی طور پر) اور اس کے ساتھ ایڈجسٹ ہونے کے لیے خواتین کو وقت، ہمدردی اور سپورٹ سسٹم کی ضرورت ہوتی ہے۔

جہاں پاکستان کے اکثر دیہات میں آج بھی خواتین بچہ پیدا کرنے کے 40 دن تک کمرے میں بند بستر پر وقت گزارتی ہیں (کئی علاقوں میں اسے ’چھلہ‘ بھی کہا جاتا ہے) اور اس دوران ماں کے کسی قسم کی ورزش سے لے کر نہ نہانے تک کا رواج ہے، وہیں دوسری جانب دنیا کے بیشتر ممالک میں خواتین بچے کی پیدائش کے دو سے چار ہفتوں کے دوران اپنے زندگی کے معمول پر واپس آ جاتی ہیں اور روزمرہ کام کاج کا آغاز کر دیتی ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق خواتین کا حاملہ ہونا ایک قدرتی عمل ہے اور بچہ پیدا کرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ عورت صرف بستر پر رہ کر مستقل آرام کرے۔

سوشل میڈیا پر چند خواتین کی جانب سے اوپر بیان کیے گئے تجربات شئیر کیے جانے کے بعد ایک بحث کا آغاز ہوا جس میں شوہروں کے کردار اور سسرال کے ظالمانہ رویے پر تنقید کے ساتھ ساتھ اکثر لوگ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ کسی بھی خاتون کے بچہ پیدا کرنے کے بعد صحت یاب یا تندرست ہونے کے لیے کتنا وقت اور کس قسم کی دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنی زندگی کے معمول کے واپس آ سکیں۔

انھی سوالات کے جوابات کے لیے بی بی سی نے طبی ماہرین ذچہ و بچہ (گائناکالوجسٹس) سے بات کی ہے۔

ڈیلیوری کتنی اقسام کی ہوتی ہے اور ہر ڈیلیوری کے بعد کتنا آرام ضروی ہے؟

گائناکالوجسٹ ڈاکٹر سلمہ کفیل قریشی کے مطابق پیدائش کی چار اقسام ہیں۔

نارمل ڈیلیوری:

پہلی قسم نارمل ڈیلیوری ہے۔ ڈاکٹر سلمہ کے مطابق کسی پیچیدگی اور آپریشن کے بغیر ہونے والی ’نارمل ڈیلیوری‘ کے بعد عموماً خواتین کو کسی قسم کے طبی مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ بچہ پیدا کرنے کے بعد وہ بس اٹھ کر کام کاج شروع کر دے۔

وہ کہتی ہیں کہ نارمل ڈیلیوری کے ذریعے بچہ پیدا کرنے کے کم از کم ایک ہفتے تک ماں کے آرام اور خوراک کا اسی طرح خیال رکھنا چاہیے جس طرح دورانِ حمل رکھا جا رہا تھا تاکہ وہ بچے کو اپنا دودھ پلانے کے ساتھ ساتھ دوبارہ تندرست ہو کر نارمل روٹین کی طرف واپس آ سکے۔

ڈاکٹر سلمہ کفیل کا کہنا ہے کہ عورت نو ماہ تک بچے کو اپنے جسم میں رکھتی ہے، پھر اسے پیدا کرتی ہے، اس کے جسم کو واپس اپنی جگہ پر آنے اور نئی حقیقت کو ذہنی طور پر قبول کرنے کے لیے آرام، مناسب خوراک اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے لہذا پیدائش کے فوراً بعد ہی اسے کام کاج پر لگا دینا ’بہت ظلم‘ ہے۔

تاہم ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ سارا وقت بستر پر لیٹے رہیں بلکہ اٹھ کر چہل قدمی کی کوشش کریں۔

ایپیسیٹومی (episiotomy) ڈیلیوری یا چھوٹا آپریشن:

بچے کی پیدائش کی دوسری قسم ایپیسیٹومی (episiotomy) ڈیلیوری یا چھوٹا آپریشن ہے۔ ڈاکٹر سلمہ کے مطابق بعض خواتین میں اندام نہانی تنگ ہونے کے باعث بچے کی پیدائش میں مشکلات ہوتی ہیں جس کے لیے متعلقہ جگہ پر چیرا دے کر بچے کی پیدائش کے عمل کو آسان بنایا جاتا ہے اور بعدازاں وہاں ٹانکے لگائے جاتے ہیں۔ اس عمل کو ایپیسیٹومی کہا جاتا ہے۔

ڈاکٹر سلمہ کفیل کے مطابق اگر یہ عمل جراثیموں سے پاک ماہر ڈاکٹر کی نگرانی میں کیا جائے تو خواتین کو کم پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کے بعد انفیکشن وغیرہ کے خطرات بھی کم ہوتے ہیں مگر یہ ایک تکلیف دہ عمل ہے اور episiotomy سے بچے کی پیدائش کے بعد ماں کو دوائیوں کے ساتھ ساتھ کم از کم 10 دن تک آرام، مناسب دیکھ بھال اور خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔

Forceps ڈیلیوری:

تیسری قسم فورسیپس ڈیلیوری ہے جسے انسٹرومینٹل یا اسسٹڈ ڈیلیوری بھی کہا جاتا ہے جس کے دوران Forceps (ایک دھاتی آلہ) یا کسی اور آلے کے ذریعے بچے کے سر کو برتھ کینال سے باہر نکالا جاتا ہے۔

ڈاکٹر سلمہ کفیل کے مطابق یہ ایک پیچیدہ ڈیلیوری ہوتی ہے جس میں ماں کو Forceps لگانے کی ضرورت پڑتی ہے جو برتھ کینال میں مزید تکلیف کا باعث بنتا ہے جس کے بعد ماں کو آرام کرنا چاہیے اور اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ اس ڈیلیوری کے دوران اسے جسمانی طور پر کتنا نقصان پہنچا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ اس ٹراما سے صحت یاب ہو کر کے نارمل ہونے کے لیے ماں کو کم از کم تین ہفتے آرام اور دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔

سی سیکشن ڈیلیوری یا بڑا آپریشن:

چوتھی قسم میں ماں کے پیٹ کو کاٹ کر بچہ باہر نکالا جاتا ہے اور اگر یہ آپریشن ماہر گائناکالوجسٹ کی نگرانی میں صاف ستھرے ماحول میں کیا جائے تو عورتوں کو پیچیدگیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے مگر یہ ایک تکلیف دہ سرجری ہے اور سی سیکشن سے گزرنے والی خواتین کو زیادہ دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔

ڈاکٹر سلمہ کفیل کے مطابق ایسی ماؤں کو چھ ہفتوں تک آرام، مناسب خوراک اور وقت پر دوائی کی ضرورت ہوتی ہے اور اس سب کے ساتھ ساتھ انھیں خاندان کی جانب سے بہتر دیکھ بھال اور سپورٹ سسٹم کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

گذشتہ مہینے میری ایک دوست نے ایک بچی کو جنم دیا، جب دوسرے دن میں اسے ملنے گئی تو میں نے ڈاکٹر کو کہتے سنا ’انھیں اٹھا کر واک کروائیں‘ میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ اسے تو ابھی ٹانکے لگے ہیں اور بہت درد بھی ہے۔ جس پر ڈاکٹر نے بتایا کہ اگر یہ ابھی اٹھ کر چلیں گی نہیں تو بعد میں مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس حوالے سے ڈاکٹر سلمہ کفیل کہتی ہیں کہ سی سیکشن کے دوسرے دن ماؤں کو اٹھا کر ورزش کا مشورہ اس لیے دیا جاتا ہے تاکہ ان کے ان کے جسم میں بلڈ کلاٹ (خون جمنا) نہ بنیں جو خواتین کی صحت کے لیے بہت خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔

’چھلہ‘ کا رواج اور طبی مشورے

پاکستان کے اکثر دیہات میں آج بھی خواتین بچہ پیدا کرنے کے 40 دن تک کمرے سے نہیں نکلتیں جسے عرفِ عام میں ’چھلہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔

خواتین کے بچہ پیدا کرنے کے چالیس دن تک ’چھلہ‘ میں رہنے کے متعلق ڈاکٹر سلمہ کفیل کا کہنا ہے کہ یہ اچھی بات ہے کہ ماں آرام کر رہی ہے، لیکن اگر بچے کی پیدائش کے وقت اسے ٹانکے نہیں لگے یا وہ پیچیدہ آپریشن سے نہیں گزری تو 40 دن بغیر کسی ورزش کے بستر پر پڑے رہنا اور خود کو الگ تھلگ کر لینا ایک سماجی مسئلہ بننے کے ساتھ ساتھ صحت کے خطرات کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

بغیر کسی پیچیدگی کے بچہ پیدا کرنے والی خواتین کے لیے ان کا مشورہ ہے کہ سات دن بعد اٹھ کر کام کاج شروع کریں۔

طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد خواتین کو آرام اور مناسب خواراک کے ساتھ ساتھ دیکھ بھال اور سپورٹ کی ضرورت اس لیے بھی ہوتی ہے تاکہ وہ پوسٹ پارٹم جیسی بیماری کا شکار نہ ہو سکیں۔

پوسٹ پارٹم ڈپریشن ایک ایسی بیماری ہے جس کا دورانیہ ہر خاتون میں مختلف ہوتا ہے۔ اس ڈپریشن میں عورت اپنے پیدا ہونے والے بچے کی خوشی منانے یا اس وقت سے لطف اندوز ہونے کے بجائے الٹا اداسی اور دکھ کی کیفیت میں چلی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق عموماً خواتین کو بچے کی پیدائش کے بعد پہلے چھ ہفتے میں پوسٹ پارٹم ڈپریشن کا سامنا ہو سکتا ہے تاہم اگر کبھی یہ شدت اختیار کر لے تو یہ ڈپریشن لمبا بھی ہو جاتا ہے۔

پوسٹ پارٹم ڈپریشن کی وجوہات کے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد خواتین کے جسم میں ہونے والی تبدیلیاں تو شامل ہیں ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ سماجی وجوہات بھی اس کا مؤجب بن سکتی ہیں مثلاً دوران حمل شوہر اور سسرال والوں کی طرف سے خواتین کا خیال نہ رکھا جائے اور شوہر سے وابستہ توقعات پوری نہ ہوں تو ایسی خواتین کے پوسٹ پارٹم ڈپریشن کا شکار ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔