آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’آگاہ والدین‘ پروگرام جو حمل سے لے کر بچے کے سکول جانے تک تعلیم فراہم کرتا ہے
- مصنف, کاشان اکمل
- عہدہ, صحافی
’میں حمل کے دوران میڈیکل کی کتابیں زیادہ سے زیادہ پڑھ رہی ہوں کیونکہ میں چاہتی ہوں کہ ابھی جو بچہ میرے پیٹ میں پل رہا ہے وہ میڈیکل میں جائے۔‘
یہ کہنا ہے گلگت شہر کی خاتون سادھنا کا جو ایک غیر سرکاری تنظیم ’روپانی فاؤنڈیشن‘ کے ’آگاہ والدین‘ پروگرام کے تحت تعلیم و تربیت حاصل کر رہی ہے۔
سادھنا روزانہ دو گھنٹے کے لیے اپنے پہلے بچے کے ہمراہ قریبی ای سی ڈی سی (ارلی چائلڈ ھوڈ ڈویلپمنٹ سنٹر) آتی ہیں، جہاں انھیں یہ تعلیم و تربیت سائنسی و طبی بنیادوں پر فراہم کی جا رہی ہے۔
حمل سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ اُن کے بچے کے دنیا میں آنے اور پھر سکول جانے کی عمر تک جاری رہے گا۔
سادھنا بتاتی ہیں کہ انھیں روزانہ مختلف سیشنز میں حمل کے دوران زچہ و بچہ کے لیے بہترین خوراک، صحت، نشوونما اور اپنا رہن سہن پرسکون رکھنے کی تعلیم و تربیت دی جاتی ہے، جس کا بڑا مقصد اپنے بچے کا معاشرے میں ایک اچھا مستقبل محفوظ بنانے کی کوشش ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ حمل کے اس عرصے میں روزانہ کی بنیاد پر ریاضی اور سائنس کے سوالات حل کرتی ہیں اور ان سرگرمیوں میں اُن کے شوہر بھی ان کے ساتھ شامل رہتے ہیں۔
غیر سرکاری تنظیم روپانی فاؤنڈیشن ملک کے طول و عرض میں اپنے اس پروگرام کے ذریعے والدین کو بچوں کے بہتر مستقبل کے حصول میں کردار ادا کرنے کے لیے تعلیم و تربیت فراہم کر رہی ہے۔
تنظیم کی نمائندہ پری بانو کہتی ہیں کہ ’اگر کوئی بچہ پینسل نہیں پکڑ پاتا، زیادہ دیر تک لکھ یا رنگ نہیں بھر پاتا تو ہم اس کمی یا کمزوری کو اس کے تعلیم حاصل کرنے راہ میں حائل نہیں ہونے دیتے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’اگر کہیں کمزوری ہے تو کوئی صلاحیت زیادہ بھی ہو گی، بس اس کی کھوج اور اسی کو استعمال میں لا کر ہم بچے کو سکول جانے کی عمر تک بالکل تیار کر دیتے ہیں۔‘
والدین اور بچوں کو یہ تعلیم کیسے فراہم کی جاتی ہے؟
گلگت شہر سے تقریباً چالیس منٹ کی مسافت پر واقع علاقے چکاس کوٹ کے رہائشی ڈیری فارمر پیار علی اور ان کی اہلیہ اپنے تیسرے، چار برس کے بچے کے ہمراہ اس پروگرام میں شامل ہیں۔
پیار علی کی اہلیہ شاھینہ بتاتی ہیں کہ ’میں روزانہ بچے کے ہمراہ سنٹر جاتی ہوں جبکہ ہفتہ وار بنیادوں پر میرے شوہر بھی ایک دن ہمارے ساتھ مخصوص سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ اس میں بچوں کو ان کی ماؤں کے ساتھ اردو، انگریزی اور مقامی زبانوں میں ابتدائی دعا سلام اور بات چیت کی تعلیم دی جاتی ہے۔‘
شاھینہ بتاتی ہیں کہ بچوں کے رویے اور ذہنی نشوونما کو اس پروگرام میں خاصی اہمیت دی جاتی ہے۔
’ہمیں بچے کی ضد کے خاتمے کے لیے مار پیٹ اور ڈرانے دھمکانے کی بجائے، بین الاقوامی سطح پر ہونے والی ریسرچ کے ذریعے بتایا جاتا ہے کہ بچہ جذباتی اور نفسیاتی مراحل کیسے طے کرتا ہے اور اس دور میں والدین کیسے بچے کی شخصیت سازی میں کردار میں ادا کر سکتے ہیں۔‘
پری بانو کہتی ہیں کہ اس پروگرام میں ’ہماگیر نشوونما‘ (ہولسٹک ڈویلپمنٹ) پر کام کیا جاتا ہے۔
’اس میں بچے کی معاشرتی، سماجی، جذباتی، ذہنی اور جسمانی نشوونما پر کام کیا جاتا ہے۔ تحقیق کہتی ہے کہ زندگی کے پہلے ایک ہزار دن بچے کی نشو ونما کے لیے بہت اہم ہوتے ہیں تو ہم انھیں عمر کے اعتبار سے مختلف گروہوں میں بین الاقوامی سطح پر ہونے والی تحقیق کی روشنی میں ترتیب دی گئی سرگرمیوں سے گزارتے ہیں۔‘
چکاس کوٹ، گلگت کے رہائشی امین خان ٹریکٹر چلاتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہاں پر بچوں کے کھانے پینے، سونے جاگنے، عادات کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔
’میری بیوی ٹیچر ہیں، بچوں کو وہ بہت بڑا سہارا ہے۔ مجھ سے زیادہ جلدی وہ اس پروگرام کو سمجھ جاتی ہیں۔ میں چاہتا ہوں میرا بچہ بڑا ہو کر ڈاکٹر یا انجینیئر بنے۔ پڑھ لکھ جائے، جو بھی بننا چاہے میں پوری کوشش کروں گا کہ ویسا ہی ہو۔ بس ٹریکٹر ڈرائیور نہ بنے، اس میں بڑے مسائل ہیں، بڑی مشکلات ہیں، مالی بھی اور معاشرتی بھی۔‘
پاکستان میں بچوں کے ابتدائی عمر کی تعلیم کے اعدادوشمار
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے مطابق پاکستان میں اس وقت دو کروڑ اٹھائیس لاکھ سے زیادہ ایسے بچے ہیں جنھیں پرائمری تعلیم حاصل کر رہے ہونا چاہیے لیکن وہ سکولوں سے باہر ہیں۔
یونیسف کے مطابق تعلیمی دھارے سے باہر پانچ سے سولہ برس کے یہ بچے اپنی عمر کی کُل آبادی کا 44 فیصد بنتے ہیں۔
یونیسیف کے مطابق ملک میں پانچ سے نو برس کے بچوں کی کل آبادی کے بچے پرائمری سکولوں میں مقررہ عمر کی حد سے بڑی عمر میں پہنچتے ہیں۔ جن کی تعداد پچاس لاکھ سے زیادہ ہے۔
اسی طرح پاکستان میں دس سے 14 برس کی عمر کے وہ بچے جو روایتی تعلیم حاصل نہیں کر رہے ان کی تعداد ایک کروڑ چودہ لاکھ سے زیادہ ہے۔ سکولوں سے باہر بچوں کے علاوہ ایک بڑا مسئلہ پرائمری سطح میں ایسے بچوں کی بڑی تعداد ہے جو اگلی کلاس میں نہیں پہنچ پاتے ہیں۔
اس کی نشاندہی پاکستان میں 2016-17 کے تعلیمی اعدادو شمار میں کی گئی ہے۔ جو پرائمری سکولوں میں موجود بچوں کی کُل تعداد کا 45 فیصد بنتے ہیں جبکہ ’پری پرائمری‘ سطح پر یہ تناسب 31 فیصد ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اس پروگرام میں شامل اور دیگر بچوں میں کیا فرق ہے؟
امین خان خود تو انڈر میٹرک ہیں تاہم ان کا بڑا بچہ نویں، دوسرا بچہ پانچویں اور تیسرا دو برس کا بچہ ’آگاہ والدین‘ پروگرام کا حصہ ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ابتدائی طور پر میرے لیے بچے کو یہاں لانے کی بڑی وجہ ای سی ڈی سنٹر کا قریب ہونا تھا مگر اب میرا ذہن تبدیل ہوا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ بڑے دونوں بچوں کی عمر میں یہاں داخل بچے سے کافی فرق ہے مگر یہ دونوں بڑوں کے مقابلے ابھی دو برس کی عمر میں بہت زیادہ سیکھ چکا ہے۔ ان کے درمیان جب یہ گھر میں ہوتا ہے تو فرق بہت واضح ہوتا ہے۔‘
تنظیم کی نمائندہ پری بانو کہتی ہیں کہ ’سکول جانے کی عمر تک بچے کو مکمل حروف تہجی، رنگوں کی پہچان، مختلف اشکال یعنی دائر، مربع، تکون وغیرہ، اسلام کی بنیادی تعلیم جس میں کم از کم دو کلمے اور دو مسنون دعائیں بمعہ ترجمہ اردو، انگریزی کے یاد کروا دیا جاتا ہے۔‘
’کچھ بچے تو تین کلمے اور زیادہ مسنون دعائیں یاد کر لیتے ہیں اور جب یہ سب آپ کو وہ بچہ سنا رہا ہو جو جس کی عمر تین برس سے کم ہے تو یہ پاکستان جیسے معاشرے میں تعلیمی میدان میں مثالی ابتدا کا نمونہ ہی ہے۔‘
پروگرام کے آغاز اور جاری رکھنے میں مسائل
پری بانو بتاتی ہیں کہ گلگت بلتستان جیسے علاقوں میں جہاں خواندگی کی شرح خاصی نمایاں ہیں، وہاں بھی اس پروگرام کو ابتدا میں مسائل کا سامنا رہا۔ آغاز میں تنظیم نے ٹیچرز کی کمیونٹی سطح پر ٹیمیں تشکیل دینے کے بعد انھیں ٹریننگ فراہم کی۔ ٹریننگ کے بعد ٹیچرز نے گھر گھر جا کر لوگوں کو خاندان کے سربراہوں کو اس کے اغراض و مقاصد اور فوائد کے بارے میں بتایا۔
وہ بتاتی ہیں کہ ’میں خود بھی شروع میں گھر گھر جا کر آگاہی پر کام کرتی تھی۔ زیادہ خاندان کے بزرگ افراد اس کی مخالفت کرتے تھے۔ اس کی متعدد وجوہات تھیں، وہ بہو اور چھوٹی عمر میں بچے کو گھر سے باہر نہیں بھیجنا چاہتے تھے۔ لیکن سب سے بڑی وجہ اس پروگرام کا نیا ہونا تھا۔‘
اس مسئلے کے حل کے لیے روپانی فاؤنڈیشن نے پروگرام کو مزید وسعت دی اور پھر دادیاں، نانیاں بھی اپنے پوتوں پوتیوں، نواسے نواسیوں کے ساتھ روزانہ آنے لگیں۔ اس وقت تنظیم کے گلگت بلتستان میں قائم 77 سنٹرز میں آنے والی بزرگ خواتین کی تعداد درجنوں میں ہے۔
پری بانو کہتی ہیں کہ ’یہ تو ایک مسئلہ تھا مگر سب سے بڑا مسئلہ جس پر پورے پاکستان میں سرکاری و نجی سطح پر کام جاری ہے، وہ سکول سے باہر بچوں کو تعلیمی دھارے میں لانے کے لیے والدین کا قائل ہونا اور خواندگی بچے کے مستقبل کے لیے کس قدر ضروری ہے اس سے متفق ہونا۔‘
’اس مسئلے کی سنگینی بیان کرنے کے لیے پاکستان میں بہت سے مثالیں ہوں گی مگر اس کا اندازہ سندھ میں ہوا جہاں سات، سات برس کی عمر میں بچے سکول میں داخلے کے لیے ضروری بنیادی تعلیم کے لیے تنظیم کے ای سی ڈی سنٹرز میں آ رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ان حالات کے مدنظر تنظیم نے موبائل ای سی ڈی سنٹرز بھی شروع کیے ہیں جو دور دراز علاقوں، خصوصاً وہ علاقے جہاں بچوں کی ابتدائی تعلیم کا رجحان کم ہے، وہاں جاتے ہیں اور مقامی آبادی کے تعاون سے ہفتہ وار اور کہیں مہینے بعد جا کر بچوں اور والدین کو تعلیم کی آگاہی دینے کے لیے کوشاں ہیں۔