چاند کی سطح سے ’جلے ہوئے بارود‘ جیسی پُراسرار بُو کیوں آتی ہے؟

چاند

،تصویر کا ذریعہSCIENCE & SOCIETY PICTURE LIBRARY

،تصویر کا کیپشنکچھ خلاباز کہتے ہیں کہ چاند پر سے ’جلے ہوئے بارود‘ کی سی بو آتی ہے
    • مصنف, لوشیا بلاسکو
    • عہدہ, بی بی سی نیوز ورلڈ

یہ کس طرح کا لگتا ہے؟ ’برف کی طرح ہموار، مگر عجیب طرح سے کھرچی ہوئی چیز۔‘ (جین سرنان، اپولو 17 کے خلاباز)

اس کا ذائقہ کس طرح کا ہے؟ ’برا نہیں ہے۔‘ (جان ینگ، اپولو 16 کے خلاباز)

اِس کی بُو کیسی ہے؟ ’جلے ہوئے بارود جیسی بُو ہے۔‘ (خلاباز سرنان)

نرم، ذائقہ دار اور بدبودار۔ چاند پر چہل قدمی کرنے والے کچھ خلابازوں نے چاند کی سطح پر موجود دھول کو بیان کرنے کے لیے جو صفتیں استعمال کیں وہ اس رومانوی اور پرانی تصویر کو جھٹلاتی ہیں جو ہم میں سے بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں چاند کے تصور سے متعلق موجود ہیں۔

لیکن خلابازوں نے چاند کی دُھول کو کیسے سونگھا؟ اور اس کی بدبو کے بارے میں ہمیں کیا معلوم ہے؟

یہ کوئی سائنس فکشن نہیں ہے۔ جس خلانورد نے بھی چاند پر قدم رکھا اسے ابتدائی چہل قدمی کے بعد چاند کی بُو سونگھنے کا موقع ملا۔

چہل قدمی کے بعد جب یہ خلاباز واپس اپنے خلائی جہازوں پر پہنچے اور اپنے ہیلمٹ اُتارے تو انھیں اندازہ ہوا کہ ان کے ہیلمٹ چاند کی سطح پر موجود اُس مادے کی بُو سے بھرے ہوئے تھے، جو کہ ’ناسا اپولو کرونیکلز‘ کے مطابق بہت زیادہ چمٹنے والا تھا، اس حد تک کہ وہ جوتوں، دستانوں یا کسی بھی چیز جو اس کی زد میں آئی اس سے جڑ گیا تھا۔

Gene Cernan was the eleventh person to walk on the Moon, in December 1972.

،تصویر کا ذریعہDONALDSON COLLECTION/GETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشنسنہ 1972 میں چاند پر قدم رکھنے والے 11 ویں شخص جین سرنان تھے

چاند پر ملنے والی اس دھول کا دوسرا سائنسی نام ’مون ڈسٹ‘ یا ’ریگولتھ‘ ہے اور ایسے لگتا ہے کہ یہ سیٹلائٹ کی سطح پر تیرتی رہتی ہے، اور کسی بھی شے سے جڑ جاتی ہے۔

ناسا کے سنہ 2013 میں شروع کیے گئے مشن لاڈی (ایل اے ڈی ای ای) پراجیکٹ کے نگران بٹلر ہائن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ زمینی دھول کی طرح نہیں ہے۔‘

سائنسدان نے یہ بھی وضاحت کی کہ چاند کی دھول ’کھردری‘ اور ’تھوڑی شیطان صفت‘ ہے، کیونکہ یہ برقی فیلڈ لائنوں کا پیچھا کرتے ہوئے ناممکن سوراخوں میں سرایت کر لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ خلابازوں کے لیے بہت ’چپکو‘ تھی۔

اس سے قطع نظر کہ خلابازوں نے بار بار اپنےخلائی سوٹ کو برش کرنے کی کتنی ہی کوشش کی، مگر جب بھی وہ خلائی جہاز کے کیبن میں داخل ہوتے تو وہاں ہمیشہ اس عجیب و غریب دھول سے کچھ (اور کبھی کبھی بہت کچھ) ساتھ آتا تھا جسے بعض نے ’بارود کی بُو‘ کے طور پر بیان کیا۔

چاند کی سطح پر اپنے دستانے اور ہیلمٹ اُتار کر 1969-72 کے چھ اپولو مشنوں کے 12 خلابازوں نے اسے محسوس کیا، اس کا ذائقہ چکھا اور اسے سونگھا بھی۔

At the end of the Apollo 17 mission in December 1972, space suits and helmets were covered in lunar dust.

،تصویر کا ذریعہPOT

،تصویر کا کیپشندسمبر 1972 میں اپولو مشن 17 کے اختتام پر خلانوردوں کے خلائی سوٹ اور ہیلمٹ چاند کی دھول سے اٹے ہوئے تھے

اپولو 11 کے پائلٹ بز ایلڈرین نے کہا کہ ان کے سوٹ کے ساتھ چمٹنے والی دھول میں ’جلتے ہوئے کوئلے یا چمنی کی راکھ جیسی خوشبو تھی، خاص طور پر اگر آپ اس پر تھوڑا سا پانی پھینک دیں تو۔‘

اپالو 16 کے پائلٹ چارلی ڈیوک نے اپریل 1972 میں ریڈیو پر کہا کہ ’یہ واقعی ایک تیز بو ہے۔ اس کا ذائقہ اور بو میرے لیے بارود کی طرح ہے۔‘

اپولو 17 مشن کے آٹھ ماہ بعد جین سرنان نے بھی ان زبردست الفاظ کے ساتھ ڈیوک کے تاثرات کی تصدیق کی: ’ایسی بُو ہے جیسے کسی نے کاربین (بندوق) سے یہاں فائر کیا ہو۔‘

یہ ایک بہت ہی مخصوص حوالے کی طرح لگتا ہے۔ تاہم، اپولو 17 کے عملے میں سے ایک اور ہیریسن (جیک) شمٹ نے بعد میں وضاحت کی کہ ’اپولو کے تمام خلاباز ہتھیاروں سے واقف تھے‘ اور اسی لیے ’جب انھوں نے کہا کہ چاند کی دھول سے بارود کے جلنے کی طرح کی بو آتی ہے، تو وہ جانتے تھے کہ وہ کیا کہہ رہے تھے۔‘

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے کہا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ وہ دھات کی بنی ہوئی یا کھٹی تھی، لیکن (جلا ہوا بارود) ہی قریب ترین چیز تھی جس سے ہم اس کا موازنہ کر سکتے ہیں۔‘

پاؤڈر۔۔۔ لیکن بارود نہیں۔

اور اگر اس کی بو بارود جیسی ہو اور اس کا ذائقہ بارود کی طرح ہو۔۔۔ تو کیا یہ بارود نہیں ہے؟

The trip to the Moon was not how the French director Georges Melies imagined it in 1902, but neither was it identical to how the Apollo Project planned it.

،تصویر کا ذریعہHULTON ARCHIVE/GETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشنچاند کا سفر ایسا نہیں تھا جیسا کہ 1902 میں فرانسیسی ڈائریکٹر جارجیز میلیز نے سوچا تھا، لیکن نہ ہی یہ ایسا تھا جس کی منصوبہ بندی اپولو پراجیکٹ میں کی گئی تھی

یہ وہ سوال تھا جو شاید بہت سے لوگوں نے خود سے پوچھا تھا اور ناسا نے اسے فوراً جھٹلا دیا تھا۔

خلائی ایجنسی ناسا نے اپولو کرونیکلز میں وضاحت کی ہے کہ ’چاند کی دھول اور بارود ایک جیسی چیز نہیں ہے۔ یہ کسی بھی طرح سے بارود کی طرح نہیں ہے۔‘

ناسا کے جانسن سپیس سینٹر میں موجود لونر سامپل لیبارٹری کے گیری لوفگرین کہتے ہیں کہ جن مالیکیولز سے بارود بنتا ہے وہ ’چاند کی مٹی میں نہیں پائے گئے۔‘

فلکیات کے پروفیسر تھامس گولڈ نے بھی سنہ 2004 میں اس بات کی تردید کی کہ چاند کی دھول دھماکہ خیز ہو سکتی ہے۔

ناسا کا کہنا ہے کہ مونڈسٹ یا چاند کی دھول زیادہ تر سلیکان ڈائی آکسائیڈ پر مشتمل ہے اور یہ شہابی پتھروں کے چاند سے ٹکرانے کے اثرات سے پیدا ہوتی ہے اور ٹکرانے کے بعد شہابی پتھر چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بکھر جاتے ہیں۔

اس میں آئرن، کیلشیم اور میگنیشیم اور معدنیات جیسا کہ اولیوائن اور پائروکسین بہت زیادہ ہوتی ہے۔

تو پھر اس کی بو بارود کی طرح کیوں ہوتی ہے؟

یہ ایک ایسا معمہ ہے جو ابھی حل نہیں ہے، لیکن اس کے بارے میں چند نظریات ضرور موجود ہیں۔

بین الاقوامی خلائی سٹیشن (آئی ایس ایس) پر طویل قیام کا تجربہ رکھنے والے کیمیکل انجینیئر اور خلا باز ڈونلڈ پیٹٹ نے اس کی ایک وضاحت پیش کی ہے۔

One possibility is that, as it mixes with the atmosphere of the space module, the lunar dust oxidizes.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناس کی ایک وضاحت یہ ہے کہ جیسے ہی یہ خلا کے موڈیول سے ملتی ہے تو چاند کی دھول آکسیڈائز ہو جاتی ہے

انھوں نے کہا کہ ’آپ تصور کریں کہ آپ زمین پر موجود کسی صحرا میں ہیں۔ اس کی خوشبو کیسی ہو گی؟ کچھ بھی نہیں۔ جب وہاں بارش ہوتی ہے تو ہوا اچانک میٹھی، گوندار مہکوں سے بھر جاتی ہے۔‘

پیٹٹ کہتے ہیں کہ ’چاند چار ارب سال پرانے صحرا کی طرح ہے۔ یہ انتہائی خشک ہے۔ جب چاند کی دھول قمری موڈیول میں نم ہوا کے ساتھ رابطے میں آتی ہے، تو آپ کو صحرا میں بارش کا اثر اور کچھ بدبو ملتی ہے۔‘

مزید پڑھیے

لوفگرین کہتے ہیں کہ یہ رجحان چاند کی دھول کی وجہ سے ہو سکتا ہے، جو سورج سے نکلنے والے آئنوں کے ساتھ مل کر سیٹلائٹ تک پہنچتے ہیں، اور کیبن کے اندر مکس ہو کر عجیب سی ’خوشبو‘ پیدا کرتے ہیں۔‘

سائنسدان یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک اور امکان یہ ہے کہ چاند کی دھول چاند کے موڈیول کے آکسیجن والے ماحول کے اندر آکسیڈیشن کے عمل کے ذریعے جل جاتی‘ ہے، جو بالکل کمبسشن کی طرح ہے، لیکن بہت آہستہ، اس لیے یہ شعلے پیدا نہیں کرتا۔

This small sample of lunar dust was collected by Neil Armstrong, the first human to walk on the Moon, on July 20, 1969.

،تصویر کا ذریعہLAURA MURRAY CICCO

،تصویر کا کیپشن20 جولائی 1969 کو چاند پر قدم رکھنے والے پہلے خلانورد نیل آرمسٹرانگ نے چاند کی دھول کا یہ نمونہ اکٹھا کیا تھا

لیکن شاید سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ چاند کی دھول جب زمین پر پہنچتی ہے تو اس سے بدبو غائب ہو جاتی ہے۔ خلانوردوں نے چاند کی دھول اور پتھروں کے کئی نمونے اکٹھے کیے ہیں۔

لوفگرین کہتے ہیں کہ ’ان سے بارود کی بو نہیں آتی۔‘

ناسا کا کہنا ہے کہ زمین پر آ کر وہ مادہ اپنی طاقت کھو بیٹھا تھا اور ہوا اور پانی سے ’آلودہ‘ ہو گیا تھا، جس نے خلابازوں کے زمین پر واپسی کے سفر کے دوران ’کسی بھی بدبودار کیمیائی رد عمل‘ کے اثرات کو کسی حد تک ختم کر دیا تھا۔

اس کا حل یہ ہو گا کہ چاند پر ہی اس دھول کا تجزیہ کیا جائے۔

لیکن چونکہ 1972 کے بعد سے چاند پر کوئی اور انسان بردار مشن نہیں بھیجا گیا، اس لیے اب بھی ایسے خلاباز نہیں ہیں جو یہ بتا سکیں کہ ہماری واحد قدرتی سیٹلائٹ کا ذائقہ اور خوشبو کیسی ہے۔