موت کا سبب بننے والے زہریلی مشروم کہیں آپ کی خوراک کا حصہ تو نہیں

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, شالنی کماری
- عہدہ, نمائندہ بی بی سی
انڈیا میں مشروم یعنی کھمبیاں کھانے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے اور یہ بہت سی گھر میں اگائی جانے والی سبزیوں کی جگہ لے رہا ہے۔ لیکن کچھ لوگ دکانوں سے کھمبیاں خریدنے کے بجائے خود جا کر جنگل سے لے آتے ہیں۔
ایسے میں کئی بار زہریلی کھمبی سے موت کی خبریں منظرعام پر آتی ہیں۔ ایسا ہی ایک تازہ معاملہ شمال مشرقی ریاست آسام سے سامنے آیا ہے جہاں زہریلی کھمبیاں کھانے سے 13 افراد ہلاک ہو گئے۔
آسام میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل (اے ایم سی ایچ) کے صدر ڈاکٹر پرشانت دیہنگیا نے کہا کہ تمام متاثرین نے اپنے گھروں میں جنگلی زہریلی کھمبیوں کو عام کھمبیوں کی طرح کھایا تھا۔
ڈاکٹر دیہنگیا کا کہنا ہے کہ ’ان سب کو اس مشروم کو کھانے کے بعد متلی، قے اور پیٹ میں درد کی شکایت تھی۔ جب ان کی صحت خراب ہونے لگی تو انھیں علاج کے لیے ہسپتال لایا گیا۔‘
انھوں نے بتایا کہ ایسے کیسز ہر سال آتے ہیں اور زیادہ تر کیسز چائے کے باغ کے علاقوں سے آتے ہیں۔ ’اکثر لوگ جنگلی کھمبیوں اور عام کھمبیوں میں فرق نہیں کر پاتے اس لیے وہ غلطی سے زہریلی کھمبیاں کھا لیتے ہیں۔‘
ڈاکٹر دیہنگیا نے کہا کہ اس بارے میں لوگوں میں آگاہی کی ضرورت ہے، لیکن فی الحال اس ضمن میں زیادہ کام نہیں ہو رہا ہے۔
جسم کا کون سا حصہ متاثر ہوتا ہے؟
زہریلی کھمبیاں کھانے سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر دیہنگیا نے کہا کہ ’کچھ مشروم ایسے ہوتے ہیں جو جگر اور گردے کو متاثر کرتے ہیں۔ بعض اوقات مریض بہت دیر سے ہسپتال پہنچتے ہیں اور ادویات لینے کے باوجود زندہ نہیں رہ پاتے۔‘
انھوں نے بتایا کہ بعض صورتوں میں مشروم کے زہر کا اثر جسم میں فوری طور پر نہیں ہوتا لیکن چار پانچ دن کے بعد اس کا اثر آہستہ آہستہ ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈین کاؤنسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) کے انڈین فارمرز ڈائجسٹ کے مطابق، زیادہ تر معاملات میں ایک جیسے رنگ اور شکل کی وجہ سے زہریلے مشروم کی شناخت کرنے میں غلطی ہو جاتی ہے۔
ان میں پایا جانے والا سب سے خطرناک مادہ ایمانیٹین ہے۔ یہ ڈیتھ کیپ اور ڈیسٹرائنگ اینجل نامی مشروم میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ چھوٹے بھورے مشروم میں بھی پایا جاتا ہے۔ زیادہ تر اموات مشروم میں موجود اس ایمانیٹین کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

زہریلی کھمبیوں کی شناخت میں غلطی کیوں ہوتی ہے؟
آئی سی اے آر کے مطابق زہریلے مشروم کی شناخت مشکل ہے۔ کھمبیوں سے متعلق کچھ مفروضے ہیں جن کی مدد سے لوگ عام طور پر زہریلی کھمبیوں کا پتہ لگانے میں کامیاب رہے ہیں لیکن مقالے کے مطابق ان مفروضوں کی بنیاد پر زہریلی کھمبیوں کا یقینی طور پر پتہ نہیں لگایا جا سکتا۔
ان میں سے ایک طریقہ یہ تھا کہ کھمبی کے رنگ سے یہ معلوم کیا جائے کہ کھمبی زہریلی ہے یا نہیں۔
خیال کیا جاتا ہے کہ چمکدار رنگ کے مشروم زہریلے ہوتے ہیں لیکن دنیا میں زیادہ تر زہریلی کھمبیاں بھوری یا سفید رنگ کی ہوتی ہیں۔ ڈیسٹرائنگ اینجل کا رنگ بالکل سفید ہوتا ہے۔ آیمانیٹین پر مشتمل مشروم کا رنگ روشن نارنجی یا سفید ہو سکتا ہے۔
لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب زہریلی کھمبیاں چاندی سے ملائی جاتی ہیں تو چاندی کا رنگ سیاہ پڑ جاتا ہے لیکن یہ بات ابھی تک ثابت نہیں ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ مشروم کیپ یعنی مشروم کا ٹوپی نما بالائی حصہ اگر نوکیلا ہو تو وہ زہریلی ہوتی ہے لیکن اگر ڈیتھ کیپ مشروم کی بات کریں تو اس کی شکل نوکیلی نہیں بلکہ گول ہوتی ہے۔
کن چیزوں کا خیال رکھا جا سکتا ہے؟
کلینکل نیوٹریشنسٹ ڈاکٹر نوپور کا کہنا ہے کہ بعض اوقات لوگ مشروم کو سٹارٹر کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور لوگ مشروم کے پکوان الکحل کے ساتھ کھاتے ہیں جو خطرناک ہو سکتا ہے۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ بعض اوقات عام کھمبیاں کھانے سے بھی فوڈ پوائزننگ ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'سات سال سے کم عمر کے بچوں کو مشروم نہیں دینا چاہیے کیونکہ ان میں ایسے انزائمز نہیں ہوتے جو اس وقت تک مشروم کو ہضم کر سکیں۔‘
ڈاکٹر نوپور بتاتی ہیں کہ اگر آپ بازار سے مشروم بھی خریدیں تو انھیں سخت ہونا چاہیے۔ اس میں کسی قسم کی نمی نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ مشروم کو پلاسٹک میں نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ یہ مشروم کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ اگر آپ تازہ کٹی ہوئی مشروم لائے ہیں تو اسے 48 گھنٹے کے اندر کھا لینا چاہیے۔
انھوں نے کہا: 'مشروم ہمیشہ ایک کنٹرول ماحول میں اگائے جاتے ہیں لہذا آپ جنگل سے توڑ کر کسی بھی مشروم کو نہیں کھا سکتے کیونکہ وہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مشروم اتنے خاص کیوں ہیں؟
اصل میں مشروم کیا ہے؟ ڈاکٹر نوپور نے بتایا کہ یہ ایک فنگس ہے جو بیکٹیریا پیدا کرتا ہے جو ہوا کے ذریعے پھیلتا ہے۔ مشروم مٹی یا لکڑی پر اگتا ہے۔
مشروم کئی سالوں سے کھائے جا رہے ہیں۔ ان دنوں یہ اور بھی زیادہ مقبول ہے کیونکہ اسے صحت کے لیے اچھا سمجھا جاتا ہے۔ اس میں کولیسٹرول اور چکنائی نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ پوٹاشیم، وٹامن ڈی، فائبر، سیلینیم جیسے غذائی اجزاء بھی مشروم کے اندر موجود ہوتے ہیں۔
یہ قوت مدافعت کو بہتر کرتا ہے۔ کچھ اقسام ایسے ہیں کہ جو ڈی این اے کو پہنچنے والے نقصان کو روک کر کینسر سے لڑنے والی دیوار بناتے ہیں۔
کچھ ایسے شواہد بھی ہیں جو بتاتے ہیں کہ کھمبیاں الزائمر جیسی بیماریوں سے لڑنے میں بھی کارآمد ثابت ہو سکتی ہیں۔
کھمبیوں کی 2000 سے زیادہ اقسام ہیں، لیکن ان میں سے صرف 25 انواع کو کھایا جا سکتا ہے۔ انڈیا میں مشروم کی پیداوار سنہ 1970 کی دہائی سے شروع ہوئی۔
سنہ 2012 کی ايگریکلچر ایئر بک کے مطابق، تقریباً 1000 سال پہلے، چین کے لوگوں نے مشروم کی کاشت شروع کی تھی لیکن جو لوگ اس کی تجارت کرتے تھے ان کا تعلق یورپ سے تھا۔ انھوں نے سولھویں اور سترہویں صدی میں بٹن مشروم اگانا شروع کیا۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
مشروم کی کاشت کیسے کی جاتی ہے؟
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2019-20 کے دوران انڈیا میں 201,088 ٹن کاشت کی گئی ہے۔ سب سے زیادہ کاشت ہریانہ میں ہوئی ہے (20050 ٹن)۔ ہریانہ کے بعد اوڈیشہ (پہلے اڑیسہ) اور مہاراشٹر جیسی ریاستیں بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
دنیا کی بات کریں تو بین الاقوامی تنظیم فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن کے 2018 کے اعداد و شمار کے مطابق مشروم کی کاشت کے معاملے میں چین سرفہرست ہے۔ اس کے بعد امریکہ اور ہالینڈ کا نمبر آتا ہے۔
بٹن مشروم اور اویسٹر مشروم انڈیا میں زیادہ مقبول ہیں۔ پیڈی سٹرا مشروم اور ملکی مشروم بھی یہاں پائے جاتے ہیں۔ اگر ہم بٹن مشروم کے بارے میں بات کریں تو نیشنل ہارٹیکلچر بورڈ کے مطابق یہ مشروم روایتی طور پر شمال مغربی علاقے یا انڈیا کے پہاڑوں میں سردیوں کے موسم میں اگائے جاتے ہیں۔
اس میں چھ سے نو ماہ لگتے ہیں۔ لیکن اب تکنیکی ترقی کی وجہ سے اسے کسی بھی موسم میں اور کہیں بھی اگایا جا سکتا ہے۔
اویسٹر مشروم ایک سال میں چھ سے آٹھ ماہ تک معتدل درجہ حرارت یعنی 20 سے 30 ڈگری سینٹی گریڈ پر اگایا جاتا ہے۔ اسے گرمیوں میں بھی اگایا جا سکتا ہے۔ ان کھمبیوں کی کاشت دیہی علاقوں میں بہت آسان اور سستی ہے جہاں خام مال اور ضروری سہولیات آسانی سے دستیاب ہیں۔
مشروم کی کاشت کے لیے کمپوسٹ یعنی کھاد تیار کرنا پڑتا ہے۔ یہ کھادیں خاص طریقے سے بنائی جاتی ہیں جن میں گندم کی چوکر اور چکن کی کھاد سمیت دیگر چیزیں بھی استعمال کی جاتی ہیں۔








