رکھ جھوک: جنگل 'سمارٹ' کیسے بنتا ہے اور اس حکومتی منصوبے سے پاکستان کو کیا فائدہ ہو گا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عمر دراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی اردو لاہور
پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان نے گذشتہ روز لاہور میں ایک ’سمارٹ جنگل‘ کا افتتاح کیا ہے۔ اس منصوبے کے حوالے سے فراہم کی جانے والی تفصیلات کے مطابق اس جنگل میں ایک کروڑ پودے لگائے جائیں گے اور ان پودوں کی نگرانی سینسرز کی مدد سے کی جائے گی۔
سینسرز کی مدد سے اُن کی بڑھوتری پر نظر رکھی جا سکے گی اور یہ بھی پتہ چلایا جا سکے گا کہ کوئی ان پودوں کو نقصان یا اکھاڑ تو نہیں رہا۔
یہ جنگل راوی ریور فرنٹ منصوبے کا حصہ ہو گا۔ راوی ریور فرنٹ وہ جدید شہر ہے جو دریائے راوی کے کنارے 46 کلومیٹر کے علاقے پر آباد کیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ حالیہ حکومت نے باقاعدہ طور پر حال ہی میں شروع کیا ہے۔
راوی ریور فرنٹ شہر میں ’رکھ جھوک‘ کے مقام پر سمارٹ جنگل تقریبا تین ہزار ایکڑ سے زیادہ رقبے پر اُگایا جائے گا۔ جنگل اگانے کے لیے راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (آر یو ڈی اے) نے چینی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے۔
آر یو ڈی اے کے ترجمان شیر افضل نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ معاہدہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ہے جس کے تحت ’ہواوے ایک کروڑ پودے لگائے گا اور ان کی نگرانی کی ذمہ داری بھی اس کی ہو گی۔‘ نگرانی کے اس عمل کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔
یہی وجہ ہے کہ اس جنگل کو ’سمارٹ‘ کہا جا رہا ہے۔ رکھ جھوک کے مقام پر پہلے بھی جنگل موجود تھا۔ ترجمان کے مطابق سمارٹ جنگل میں بوٹینیکل گارڈنز، پرندوں کے لیے پناہ گاہیں، دریا کنارے پارکس، پیدل چلنے کے ٹریک اور باغات وغیرہ بنائے جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہPunjab Govenament
سمارٹ جنگل کے منصوبے کو چار زونز میں تقیسم کیا گیا ہے جن میں پہلے سے موجود جنگل کی بحالی اور اسے محفوظ بنانا بھی شامل ہے۔ باقی تین زونز میں اربن فاریسٹ اور باغات شامل ہوں گے۔
آر یو ڈی اے کے چیئرمین عمران امین نے بدھ کے روز لاہور میں منعقدہ سمارٹ جنگل کی افتتاحی تقریب کے موقع پر بتایا تھا کہ ٹینکالوجی کمپنی ہواوے پودوں کی نگرانی سمارٹ سینسرز کے ذریعے کرے گی۔ ’فضائی نگرانی سے اس بات کا پتہ چلایا جائے گا کہ جنگل میں کٹائی تو نہیں کی جا رہی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم یہ کیسے پتہ چلے گا کہ کون سا پودا کتنا بڑھ رہا ہے یا اس کی صحت کیسی ہے؟
کیا ایسا ممکن تھا کہ ایک ہی وقت میں ہزاروں ایکڑ پر اگائے جانے والے لاکھوں پودوں کی بڑھوتری کے بارے میں معلوم کیا جا سکے؟
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین کے مطابق ایسا ممکن ہے۔ پاکستان ہی میں نجی اور سرکاری سطح پر اس نوعیت کے چند منصوبے آزمائے جا چکے ہیں۔
سمارٹ جنگل میں سمارٹ کیا ہے؟
کراچی میں ’اون اِٹ‘ کے نام سے ایک غیر سرکاری تنظیم اربن فاریسٹ اُگانے یا شہر میں جنگلات لگانے کے حوالے سے کام کر رہی ہے۔ حال ہی میں انھوں نے ’گرین سٹی پلانٹیشن‘ نامی ایک تنظیم کے ساتھ مل کر کراچی میں ’سمارٹ اربن فاریسٹ‘ کے نام سے ایک منصوبہ شروع کیا تھا۔
اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں انھوں نے ایک نجی اراضی پر پانچ سو پودے لگانے تھے جن کی افزائش یا بڑھوتری کی نگرانی انٹرنیٹ سے منسلک سمارٹ آلات کے ذریعے کی جانی تھی۔
اون اٹ کے سربراہ کلیم اللہ عمر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے کچھ حصے پر شجرکاری کی تھی اور سمارٹ آلات بھی نصب کیے تھے۔
'انسانی عمل دخل کم ہوتا ہے۔ اس میں صرف ٹیکنالوجی ہی کی مدد سے نہ صرف آپ کو گھر بیٹھے معلوم ہوتا رہتا ہے کہ کس پودے کو کب پانی کی ضرورت ہے بلکہ آپ وہیں سے پودوں کو پانی اور کھاد وغیرہ بھی دے سکتے ہیں۔‘
آگے چل کر ان کا ارادہ تھا کہ ایک ایسی موبائل ایپلیکیشن بنائی جائے جس کی مدد سے گھر بیٹھے معلوم ہوتا رہے کہ کس نے کہاں پودا لگایا تھا اور اس کو کس وقت پانی یا کھاد کی ضرورت تھی۔
تاہم منصوبے پر کام شروع کرنے کے کچھ ہی عرصہ بعد کورونا کی وبا پھیلنے کے باعث لاک ڈاؤن ہو گیا اور اس کے بعد سے انھیں اس پرائیویٹ اراضی پر داخلے کی اجازت نہیں مل پائی۔

،تصویر کا ذریعہPunjab Government
جنگل ’سمارٹ‘ کیسے بنتا ہے؟
ایسا آئی او ٹیز یعنی ’انٹرنیٹ آف تھنگز‘ کے ذریعے ممکن ہوتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ ایسی ’آلات‘ کا ایک جال ہوتا ہے جو انسان یا کمپیوٹر کی مدد کے بغیر ایک نیٹ ورک کے ذریعے ڈیٹا یا معلومات ایک دوسرے تک بھیج سکتی ہیں۔
زراعت یا شجرکاری کی صورت میں یہ ’آلات‘ پودوں یا ان کے ارد گرد ماحول میں نصب سینسر ہوتے ہیں جو انٹرنیٹ سے منسلک ہوتے ہیں۔ یہ سینسر جو معلومات حاصل کرتے ہیں، انٹرنیٹ کی مدد سے وہ ایک ایسے آلے تک بھیجتے ہیں جس پر نگرانی کرنے والا فرد انھیں دیکھ سکتا ہے۔ یہ آلہ اس کا موبائل فون ہوتا ہے۔
عمیر رزاق آئی او ٹیز کے ماہر ہیں اور آئی او ٹیز کے مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جن میں زراعت بھی شامل ہے۔ وہ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) کی طرف گذشتہ برس شروع کیے گئے سمارٹ فارمنگ کے ایک پائلٹ پراجیکٹ پر کام کر چکے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عمیر رزاق نے بتایا کہ کھیت یا پودوں کے ماحول میں زمین کی سطح کے اوپر اور نیچے چند سینسرز نصب کر دیے جاتے ہیں۔
زمین کے نیچے والے سینسر یہ معلومات اکٹھی کرتے ہیں کہ وہاں نمی کا تناسب کیا ہے یعنی پودوں کو ملنے والے پانی کی سطح کہاں تک پہنچ چکی ہے یا پھر زمین میں معدنیات کا تناسب کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
’اس طرح زمین کے اوپر والے سینسر آپ کے لیے یہ معلومات جمع کرتے ہیں کہ پودوں پر حشرات کا حملہ تو نہیں ہوا اور اگر ہوا ہے تو کیڑوں کی تعداد کتنی ہے یعنی وہ کتنا نقصان کتنے وقت میں پہنچا سکتے ہیں۔‘
عمیر رزاق کے مطابق اسی طرح کچھ سینسرز آپ کو بتا سکتے ہیں کہ ہوا میں نمی کا تناسب کیا ہے اور یہ کہ موسمی حالات کیسے ہیں، کیا بارش ہو سکتی ہے یا طوفان آنے کے امکانات تو نہیں ہیں۔
ان معلومات کا فائدہ کیا ہوتا ہے؟
آئی او ٹیز ان تمام معلومات کو ڈیجیٹل شکل میں حاصل کرتے ہیں اور ایک تجزیے کے بعد انھیں ایسی زبان میں تبدیل کر دیتے ہیں جو ایک عام آدمی کے لیے سمجھنا آسان ہوتا ہے۔
اون اِٹ کے مالک کلیم اللہ عمر کے مطابق ان معلومات کی روشنی میں آپ اپنے پودوں کی صحت سے ہر وقت باخبر رہتے ہیں۔
’آپ وقت پر انھیں پانی اور کھاد وغیرہ دیتے ہیں اور یہ دونوں چیزیں آپ بالکل صحیح تناسب میں دیتے ہیں کیونکہ ٹیکنالوجی آپ کو بتا دیتی ہے کہ پودوں کو کتنا پانی چاہیے یا کتنی خوراک چاہیے۔ اس طرح آپ کے زیادہ سے زیادہ پودے مرنے سے محفوظ رہتے ہیں۔‘
کلیم اللہ عمر کا کہنا تھا کہ آئی او ٹیز کے نظام میں یہ بھی ممکن تھا کہ ایک خودکار نظام کے ذریعے جنگل یا پودوں کو پانی بھی دے دیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سینسرز پودوں کو پانی کیسے دے سکتے ہیں؟
کلیم اللہ عمر کے مطابق ڈرپ اریگیشن نظام کے تحت ہر پودے کو انفرادی طور پر پانی پہنچایا جاتا ہے۔ ’سمارٹ فاریسٹ میں اسی ڈرپ اریگیشن سسٹم کو سینسرز کے ذریعے اس نظام سے جوڑ دیا جاتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پودوں کی نگرانی کرنے والے شخص کو جب معلوم ہوتا ہے کہ پودوں کو پانی کی ضرورت ہے تو وہ اپنے موبائل فون پر ایک ایپلیکیشن کے ذریعے ڈرپ اریگیشن کے نظام کو چلا سکتا ہے۔
آئی او ٹیز کے ماہر عمیر رزاق کے مطابق انھوں نے لاہور میں گذشتہ برس کیے جانے والے پائلٹ پراجیکٹ میں ایسا نہیں کیا تھا تاہم ایسا کرنا ممکن ضرور ہے۔ ’ایپلیکیشن کی مدد سے اس ڈرپ اریگیشن سسٹم کو چلایا یا روکا جا سکتا ہے۔‘
تاہم کیا جھوک رکھ میں لگائے جانے والے تین ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر بنائے جانے والے سمارٹ جنگل میں اس نوعیت کا خودکار نظام موجود ہو گا؟ آر آئی یو ڈی کے ترجمان شیر افضل کے مطابق ’پورے جنگل میں نہیں لیکن ایک چھوٹے حصے پر ڈرپ اریگیشن کا نظام لگایا جائے گا۔‘
جنگل کو سمارٹ بنانے کے فوائد کیا ہوں گے؟
ماہرین کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جنھیں موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کا سامنا ہے اور آنے والے دنوں میں پانی کی کمی اور خوراک کی قلت جیسے مسائل درپیش ہو سکتے ہیں۔
ایسے حالات میں ماہرین ٹیکنالوجی کے استعمال سے زراعت اور شجرکاری میں جدت لانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ لیکن ٹیکنالوجی یا سمارٹ زراعت پاکستان کی مدد کیسے کر سکتی ہے؟
ٹیکنالوجی کے استعمال سے ایک سمارٹ جنگل میں زیادہ سے زیادہ درختوں کو مرنے سے بچایا جا سکتا ہے۔ آئی او ٹیز کے علاوہ ڈرون کیمروں کی مدد سے بھی ایسے جنگلوں کی نگرانی کی جاتی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہاں سے غیر قانون کٹائی نہیں ہو رہی۔
یوں زیادہ بڑے علاقے پر جنگل پھیل سکتا ہے اور جتنا بڑا جنگل ہو گا وہ اتنی ہی زیادہ فضا میں موجود کاربن یا کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کو جذب کر پائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تناسب کم سے کم رہے، درخت انسانی ضرورت کے لیے آکسیجن بھی مہیا کرتے ہیں۔
پانی کی بچت
ایک مصنوعی طور پر روایتی انداز میں اگائے گئے کھیت یا جنگل کے مقابلے میں سمارٹ جنگل میں پودوں کو صرف ضرورت کے وقت اور ضرورت کے مطابق پانی ملتا ہے۔ یوں پانی کی ایک بہت بڑی مقدار جو روایتی طریقہ آبپاشی میں ضائع ہو جاتی اسے بچا لیا جاتا ہے۔
آر آئی یو ڈی کے ترجمان کے مطابق ’سمارٹ جنگل میں زیادہ تر مقامی درخت لگائے جائیں گے جن کو پانی کی ضرورت کم ہوتی ہے اور ان کے ذریعے لکڑی کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے۔‘
اس طریقے سے بچایا جانے والا پانی زیرِ زمین پانی کے ذخیرے کو ختم ہونے سے بچا سکتا ہے اور خوراک اگانے کے لیے میسر ہو گا۔
پیداوار میں اضافہ
جھوک رکھ میں اگائے جانے والے سمارٹ جنگل میں ایک حصہ باغات اور کھیتوں پر بھی مشتمل ہو گا۔ آئی او ٹیز کے ماہر عمیر رزاق کے مطابق سمارٹ زراعت یا شجرکاری کے ذریعے کھیتوں میں کم خرچ پر زیادہ پیدوار حاصل کی جا سکتی ہے۔
’پاکستان میں فصلوں وغیرہ کو عام طور پر یا تو زیادہ پانی لگا دیا جاتا ہے یا پھر کم پانی لگتا ہے کیونکہ یہ اندازے پر ہوتا ہے۔ جدید نظام کے ذریعے آپ فصلوں کو ان کی ضرورت کے مطابق پانی دیتے ہیں۔‘
اسی طرح کھاد بھی انھیں ضرورت کے مطابق دی جاتی ہے اور صحیح قسم کی کھاد دی جاتی ہے۔ اس طرح نہ صرف کسان کا خرچ بچتا ہے بلکہ پودے کی صحت اچھی ہونے کی وجہ سے اس کی پیداوار میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔
زراعت میں سمارٹ طریقوں کے استعمال سے پاکستان خوراک کی کمی جیسے مسائل سے نمٹ سکتا ہے۔








