ہاتھیوں کا عالمی دن: جنوبی انڈیا میں ہاتھی اور انسان ایک ساتھ کیسے گزر بسر کرتے ہیں؟

    • مصنف, سوامیناتھن نٹراجن
    • عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس

یہ چند سال پہلے کا واقعہ ہے جب ترش تھیکیکارا انڈیا میں ایک تنگ پہاڑی راستے پر گاڑی چلاتے جا رہے تھے کہ اچانک انھوں نے ایک ہاتھی کو اپنی جانب دوڑتے ہوئے دیکھا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس راستے پر یوٹرن لینے کی جگہ نہیں تھی، اس لیے میں نے گاڑی وہیں کھڑی کی اور دوسری سمت میں دوڑ لگا دی۔‘

لیکن مقامی بچے جو اس وقت اس تنگ پہاڑی سڑک کے کنارے کنارے چل رہے تھے وہ ترش کی گھبراہٹ دیکھ کر قہقہے لگانے لگے۔

’انھوں (بچوں) نے مجھ سے کہا کہ گھبراؤ نہیں، یہ ہاتھی ایک بھینس کی طرح ہے۔ یہ یہاں پانی پینے آ رہا ہے، یہ تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔‘

اور وہ صحیح کہہ رہے تھے۔

ترش تھیکایکارا یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اس ہاتھی نے انھیں مکمل طور پر نظر انداز کیا اور پانی پینے کے لیے آگے بڑھ گیا۔

تھیکےکارا جو ہاتھیوں پر تحقیق کر رہے ہیں اُس وقت جنوبی انڈیا کے گدالور جنگلات ڈویژن میں کام کر رہے تھے اور انھیں اس ہاتھی کا رویہ خاصا عجیب لگا۔ انھوں نے سوچا کیوں نہ اس بارے میں مزید جاننے کی کوشش کی جائے۔

ایسے ہاتھی جو آبادیوں کی طرف آتے ہیں۔۔۔ اور پھر وہیں رک جاتے ہیں

تھیکیکارا کو کچھ ہی دیر میں یہ پتہ چلا کہ مقامی افراد نے اُس ہاتھی کا نام ہندو دیوتا گنیش کے نام پر رکھا ہوا ہے۔

دنیا کے اکثر علاقوں میں ہاتھی اکثر انسانی آبادیوں میں خوراک اور پانی کی تلاش میں آتے ہیں۔

عام طور پر کچھ دنوں بعد وہ واپس جنگلوں کو چلے جاتے ہیں۔ تاہم جنوبی انڈیا میں گنیشا جیسے جنگلی ہاتھی انسانوں کے ساتھ رہنا سیکھ رہے ہیں اور وہ سال کا زیادہ تر حصہ جنگلات سے متصل قصبوں میں گزرانا پسند کرتے ہیں۔

گدالور نامی قصبے اور اس سے متصل دیہات میں ڈھائی لاکھ افراد بستے ہیں۔ پانچ سو مربع کلومیٹر پر موجود جنگل کے اردگرد چائے کے کھیت بھی موجود ہیں اور یہ علاقہ لگ بھگ 150 ہاتھیوں کا مسکن بھی ہے۔

کچھ ہاتھی اب شہری زندگی کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ جب ان کے آس پاس آتش بازی ہو یا اُن کے قریب ڈھول بجایا جائے تو بھی وہ گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوتے اور نہ حملہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تھیکیکارا بتاتے ہیں کہ ’یہ ہر اس بات کے برعکس تھا جو مجھے ہاتھیوں کے رویوں کے بارے میں معلوم تھی۔ گنیشا حملہ کرنے یا وہاں سے بھاگنے کی کوشش نہیں کر رہا تھا۔‘

ویسے تو ہاتھیوں کی ویلفیئر کے لیے کام کرنے والے گروپس انھیں (جنگلی ہاتھیوں) سدھانے کی سخت مخالفت کرتے ہیں لیکن اب بھی یہ عمل دنیا کے اکثر ممالک میں ہوتا ہے۔

سدھانے کا عمل قدرے پیچیدہ اور طویل ہوتا ہے اور اس دوران ہاتھیوں کو قید میں بھی رکھا جاتا ہے اور اُن پر تشدد بھی کیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ’اپنے ہینڈلر (سدھانے والا) کا احترام کرنا نہیں سیکھ لیتے۔‘

تاہم تھیکیکارا کی دریافت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہاتھیوں میں خود سے ہی انسانوں کے ساتھ گزربسر کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

پانی کی ٹینکیوں سے پانی پینا اور کھانا چرانا، لیکن کسی کو نقصان نہ پہنچانا

گدالور میں ہاتھیوں کی نگرانی کے تحقیقاتی منصوبے کے سربراہ کی حیثیت سے تھیکیکارا نے اس علاقے میں تمام ہاتھیوں پر تحقیق کرنے کی ٹھانی اور انھوں نے 90 جنگلی ہاتھیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا شروع کیں جن میں سے پانچ انسانوں کے ساتھ رہ رہے تھے۔

اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن ہاتھیوں نے آبادیوں میں جا کر پناہ لی وہ بوڑھے نر ہاتھی تھے اور انھوں نے خود سے ہی انسانوں کے قریب رہنے اور خوراک اور پانی حاصل کرنے کے بارے میں وقت کے ساتھ ساتھ سیکھا۔

’ہم نے تین سالوں تک گنیشا کی نگرانی کی۔ اس دوران وہ کبھی جنگل میں نہیں گیا۔ اس نے یہ تمام وقت انسانوں میں گزارا۔‘

’وہ باقاعدگی سے سڑکوں کے کناروں پر سونے لگا۔ کبھی کبھار وہ بسوں میں اپنی سونڈ گھسا لیتا اور اس نے ایک مرتبہ ایک گاڑی کی ونڈ شیلڈ بھی توڑ دی۔ اس نے کچھ رکشوں پر بھی حملے کیے۔‘

اسے گھروں میں موجود پانی کی ٹینکیوں سے پانی پینے کی بھی عادت ہو گئی تھی۔

کبھی کبھار اس کی وجہ سے چائے کے کھیتوں میں کام کرنے والوں کا دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا، وہ ٹریفک بلاک کر دیتا، یا کبھی ٹھیلوں سے پھل اور سبزیاں اٹھا کر لے جاتا، لیکن اس نے کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچایا۔

گدالور رینج دراصل نلگرس بائیوسفیئر ریزرو کا حصہ ہے جو تین ریاستوں پر پھیلا ہوا ہے۔ وہاں موجود جنگلات چھ ہزار ایشیائی ہاتھیوں کا مسکن ہیں۔ اس پہاڑی علاقے میں ٹائیگرز کی بھی ایک بڑی آبادی موجود ہے اور یہ انڈیا کے سب سے زیادہ محفوظ جنگلات تصور کیے جاتے ہیں۔

تھیکیکارا کا اندازہ ہے کہ جنوبی انڈیا میں تقریباً 20 ہاتھی اب قصبوں میں رہنے لگے ہیں۔ ایسے ہی ایک ہاتھی کا نام ریوالڈو ہے جو اوٹی کے مقبول سیاحتی مقام پر پایا جاتا ہے۔

حالیہ دنوں میں ریوالڈو کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں وہ ایک شخص چکن بریانی چھینتے اور پھر اسے کھاتے دکھائی دیتا ہے۔ اس ویڈیو نے بہت سارے افراد کو تجسس میں ڈال دیا ہے۔

تاہم تھیکیکارا کو یہ ویڈیو دیکھتے ہی سب سمجھ آ گئی۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’اصل میں ہاتھیوں کو چاول اور نمک پسند ہوتا ہے، مرغی کا گوشت کھانا حادثاتی طور پر ہو سکتا ہے کیونکہ ہاتھی سبزی خور ہوتے ہیں۔

جنگلی ہاتھی اپنا زیادہ تر وقت کھانے اور پانی کی تلاش میں گزارتے ہیں۔ تھیکیکارا کا کہنا ہے کہ آبادیوں میں رہتے ہوئے ان کی ضرورت دو گھنٹوں سے بھی پہلے پوری ہو جاتی ہے۔

’جب وہ فصلوں سے اور پکا پکایا کھانا کھاتے ہیں تو اس میں کیلوریز بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ اس لیے انھیں بہت زیادہ نہیں کھانا پڑتا۔‘

تاہم اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس کھانے میں غذائیت کم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے انھیں لمبے سفر کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔

’یہی وجہ ہے کہ یہ دن کا زیادہ تر حصہ چپ چاپ بیٹھ کر گزارتے ہیں اور ورزش نہیں کرتے۔ اس لیے یہ جسامت کے اعتبار سے اتنے بڑے ہیں۔‘

اسی بارے میں

انسانوں کو بھی جگہ دینی ہو گی

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی نے بھی یہ بات سمجھ لی ہے کہ انھیں ہاتھیوں کے ساتھ ہی زندگی گزارنی ہے۔

بھردان ان بڑے ہاتھیوں میں سے ایک ہے جو انسانی آبادی والے علاقوں میں دکھائی دیتے ہیں۔ وہ گدالر کے چھوٹے سے قصبے تھوراپلی میں اکثر دکھائی دیتا ہے۔ یہاں اس کی آمد کا مقصد ایک ریستوران کا رخ کرنا ہوتا ہے جس کا مالک اس کے کھانے کے لیے کچھ نہ کچھ جمع رکھتا ہے۔

ریستوران کا مالک بھردان کے لیے بچی کچھی سبزیاں اور کیلے کے وہ استعمال شدہ پتے جمع رکھتا ہے جن پر رکھ کر اس کے گاہک کھانا کھاتے ہیں۔

تھیکیکارا کو یاد ہے کہ کیسے انھوں نے اس ریستوران میں کھانا کھاتے ہوئے وہاں بھردان کو آتے ہوئے دیکھا تھا۔

’جب ہاتھی نے کھانا شروع کیا تو ایک ہجوم اکٹھا ہو گیا۔ کچھ لوگ تصاویر لینے لگے۔ ایک شرارتی بچے نے تو اس کی دم پکڑ کر اسے ہلانے کی کوشش بھی کی تاکہ اچھی تصویر بن سکے۔ وہ چاہتا تھا کہ ہاتھی اس کی طرف دیکھے تو وہ اس کی تصویر لے۔

’جب اس نے ہاتھی کی دم کھینچی تو ہاتھی نے اپنی ٹانگ چلائی مگر اس کی دولتی بچے کو لگی نہیں۔ یہ حرکت کرنے کے بعد ہاتھی ایک بار پھر پتے کھانے میں مصروف ہو گیا۔ اس نے باقی لوگوں پر حملہ نہیں کیا۔‘

اسی پرسکون طبعیت کی وجہ سے بھردان کو مقامی لوگ ’اچھا بچہ‘ سمجھتے ہیں اور اس سے کسی پالتو جانور جیسا سلوک کرتے ہیں۔

تھیکیکارا کے مطابق بھردان تک تو بات ٹھیک تھی لیکن پھر وہاں دو اور جوان ہاتھی آ گئے اور پھر حالات بدل گئے۔ ان دونوں نے دکانوں کے شٹر اور کھڑکیاں توڑ کر پھل اور سبزیاں کھانی شروع کر دیں۔

یہی نہیں بلکہ بھردان کے برعکس یہ دونوں ہاتھی لوگوں کا پیچھا بھی کرتے رہے جس سے خوف اور ڈر کی فضا بن گئی۔

محکمۂ جنگلات کے حکام کو خدشہ تھا کہ اگر یہ جنگلی ہاتھی حملہ کرتے تو اس واقعے میں انسانی جانیں بھی جا سکتی تھیں۔ اس لیے ریوالڈو کے معاملے میں انھوں نے کئی بار اسے واپس جنگل میں چھوڑنے کی کوششیں کی ہیں۔

تھیکیکارا کے مطابق ’ریوالڈو نے اوٹی کے قصبے میں اس وقت آنا شروع کیا جب ایک شخص نے کٹھل کے پھل ہاتھیوں کے لیے رکھنے شروع کیے۔‘

لیکن ریوالڈو پھل کھانے کے بعد بھی واپس نہیں جاتا تھا۔ پھر علاقے کے تفریحی مقامات کے مالکان نے اسے خوراک دینا شروع کی، اسے سیاحوں کے تفریح کا سامان بنا لیا اور ریوالڈو کو بھی جیسے اس کردار کو نبھانے میں کوئی اعتراض نہ تھا۔

بظاہر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی اور ہاتھی دونوں کو ایک دوسرے سے ڈر لگنا بند ہو گیا ہے۔

تاہم محکمۂ جنگلات کے اہلکاروں کو اب بھی خدشہ ہے کہ کسی بھی دن ہاتھی انسانوں پر حملہ کر سکتے ہیں اس لیے وہ انھیں واپس جنگل میں بھیجنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں جس کے لیے وہ سدھائے ہوئے ہاتھیوں کی مدد لے رہے ہیں۔

انھوں نے ایسے ہاتھیوں کی مدد سے ایک مرتبہ ریوالڈو کو پکڑ کر گھنے جنگل میں چھوڑا بھی لیکن اگلے ہی دن وہ 40 کلومیٹر کا سفر کر کے دوبارہ اوٹی آن پہنچا۔

تھیکیکارا کا کہنا ہے کہ ریوالڈو کو اوٹی میں رہتے اب کوئی 15 برس ہو چکے ہیں اور وہ اس علاقے میں انسانوں کے ساتھ زندگی گزارنے کا ڈھنگ سیکھنے والا پہلا ہاتھی تھا۔

جنگلی جانور انسانوں کو مار ڈالتے ہیں

گذشتہ آٹھ برس میں گدالر کے جنگل میں ہاتھیوں نے 75 افراد کی جان لی ہے لیکن ان میں سے صرف ایک جان ایسے ہاتھی کی وجہ سے گئی جو کسی شہری علاقے میں رہ رہا تھا۔

وہ ہاتھی اب بھی لوگوں کے ساتھ ہی رہتا ہے کیونکہ لوگوں نے اس واقعے کو ہاتھی کی جانب سے جان بوجھ کر انسانی جان لینے کی کوشش کے طور پر نہیں بلکہ ایک حادثے کے طور پر دیکھا۔

’حتیٰ کہ جب جنگلی ہاتھی انسانوں کی جان لیتے ہیں تو اس وقت بھی لوگ اس کا غصہ اپنے ساتھ رہنے والے ہاتھیوں پر نہیں نکالتے۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ ہاتھی پرامن ہیں۔‘

مستقبل میں انسانوں اور ہاتھیوں کے ساتھ رہنے میں اضافہ

انڈیا میں اس وقت 27 ہزار ہاتھی ہیں جن میں سے بہت سے جنگلات سے باہر رہ رہے ہیں.

تھیکیکارا سمجھتے ہیں کہ آنے والے وقت میں ہاتھیوں اور انسانوں کے ساتھ ساتھ رہنے کا چلن ہاتھیوں کی نسل کے تحفظ میں مدد دے گا۔

’علمِ حیاتیات کے مطابق جانوروں کا ایک مخصوص رویہ ہوتا ہے لیکن اب ہمیں انفرادی طور پر ہاتھیوں کی شخصیت کا جائزہ لینا ہو گا تاکہ ہم انھیں بہتر طریقے سے سمجھ سکیں۔‘

آکسفرڈ سے تعلیم یافتہ محقق کو امید ہے کہ وہ اس عمل کے ذریعے ہنگامہ کرنے والے ہاتھیوں کو الگ کرنے میں کامیاب رہیں گے۔

ان کے خیال میں ہاتھیوں کا جنگل چھوڑ کر انسانوں کے ساتھ شہروں میں رہنے کا چلن بڑھ رہا اور ان کی پیشنگوئی ہے کہ یہ چلن جاری رہے گا۔

’اب ہمارے پاس دو ہتھنیوں اور ایک بچے پر مشتمل گروپ ہے جو انسانی آبادی میں رہ رہا ہے۔ ہتھنیاں اتنی پرسکون نہیں ہوتیں کیونکہ وہ اپنے بچے کے تحفظ کے لیے بےچین رہتی ہیں لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ سڑک کنارے پرامن انداز میں رہ رہی ہیں۔‘

فی الوقت ان پرامن ہاتھیوں نے مقامی آبادی کے دل بھی جیت لیے ہیں۔

بدقسمتی سے گنیشا، وہ پہلا ہاتھی جو تھیکیکارا کو برسوں پہلے تنگ پہاڑی راستے پر ملا تھا اب اس دنیا میں نہیں اور ایک پہاڑی سے گر کر مر چکا ہے۔

محکمۂ جنگلات کی جانب سے گنیشا کی تدفین کے بعد مقامی آبادی نے اس کے لیے دعائیہ تقریب منعقد کی جو آٹھ برس تک ان کے ساتھ رہنے والے گنیشا کے لیے ان کی محبت کا مظہر تھی۔