جیفری ڈی ہویلینڈ: پادری کا بیٹا جسے ہر حال میں امریکہ سے پہلے کمرشل جیٹ طیارہ بنانا تھا

کامٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عمیر سلیمی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

27 جولائی 1949 کو برطانیہ میں پہلے کمرشل جیٹ طیارے کی کامیاب آزمائشی پرواز اڑائی گئی اور اس طرح برطانیہ نے ہوائی سفر کی دوڑ میں امریکہ پر سبقت حاصل کر لی۔

اسے ایئر لائنز کی صنعت کا انقلابی موڑ تصور کیا جاتا ہے کیونکہ جیٹ کی اس آزمائش نے پرواز کا دورانیہ نصف کر دیا۔ جیٹ ٹیکنالوجی سے لیس طیارے زیادہ بلندی پر جا کر برق رفتار سے اڑنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

جیٹ انجن کا مقصد طویل فاصلے طے کرنے کے لیے بہتر رفتار دینا ہے۔ نیوٹن کے تیسرے لا کے تحت جہاز کے آگے بڑھنے کے لیے اسے پیچھے سے ایندھن خارج کرنا ہوتا ہے۔ یوں متعدد جیٹ انجنز کی مدد ہوا میں جہاز کی بلندی اور رفتار کنٹرول کی جاتی ہے۔

کامٹ نامی اس کمرشل طیارے کو برطانوی موجد سر جیفری ڈی ہویلینڈ نے ڈیزائن کیا تھا۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے ایوی ایشن کی صنعت کی بنیاد رکھی۔ برطانوی ایوی ایشن انڈسٹری میں ان کا اتنا ہی نام ہے جتنا امریکہ میں رائٹ برادرز کا ہے۔

رائل ایئر فورس میوزیم کے مطابق سنہ 1882 میں وہ ایک پادری کے گھر پیدا ہوئے اور ان سے یہ امید کی جا رہی تھی کہ وہ بھی ایک پادری ہی بنیں گے۔

لیکن ہویلینڈ اور ان کے بھائی آئیون نے مکینکس کے شعبے کو زیادہ پسند کیا۔ ابتدائی طور پر انھوں نے موٹر سائیکل اور بسیں ڈیزائن کیں۔

سنہ 1908 میں جب ہویلینڈ نے دیکھا کہ ولبر رائٹ نے ایک طیارہ بنایا ہے تو انھوں نے فیصلہ کیا کہ اب وہ بھی طیارے بنائیں گے۔ اس کے لیے انھیں اپنے نانا سے ایک ہزار پاؤنڈ کا ادھار لینا پڑا۔

رائٹ برادرز نے اپنی پہلی اور مشہور پرواز شمالی کیرولائنا میں سنہ 1903 میں اڑائی تھی۔ لیکن جیفری ہویلینڈ کا پہلا طیارہ 1909 میں حادثے کا شکار ہوا تھا۔

ہویلینڈ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنہویلینڈ

ہویلینڈ کو پہلی کامیابی سنہ 1910 میں ملی جب انھوں نے خود اپنا پہلا طیارہ ڈیزائن کیا۔ یوں تو ہوائی سفر اس وقت تک خطرناک سمجھا جاتا تھا لہٰذا وہ خود پائلٹ بن کر اپنے آزمائشی طیارے ٹیسٹ کیا کرتے تھے۔

اس سے وہ مقبول ہوئے اور انھوں نے کئی ایئر کرافٹ کمپنیوں کے ساتھ کام کیا۔ مگر پھر 1920 میں انھوں نے اپنی کمپنی کی بنیاد رکھی۔

ہویلینڈ کی کمپنی جلد ایوی ایشن کی صنعت میں لیڈر بن گئی کیونکہ اس نے ہلکے انجن والے تیز جیٹ طیارے ڈیزائن کیے۔

برطانیہ میں اس وقت جنگی جہازوں کی ضرورت تھی۔ سنہ 1939 میں پہلا آزمائشی جیٹ طیارہ جرمنی میں اڑایا گیا۔ دوسری عالمی جنگ میں جرمنی وہ پہلا ملک تھا جس نے جیٹ طیارہ استعمال کیا تھا۔

ہویلینڈ کئی برسوں تک برطانیہ کے لیے فائٹر جیٹ بناتے رہے۔ انھوں نے 1944 میں ایوی ایشن کی صنعت میں اپنی خدمات کے لیے نائٹ کا خطاب دیا گیا۔

جنگ کے بعد ہویلینڈ کی توجہ کمرشل جیٹ طیارے بنانے کی طرف گئی۔

کامٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دی ہویلینڈ انٹرپرائزز کی تاریخ پر اپنی کتاب میں گراہم سیمنز بتاتے ہیں کہ سنہ 1943 کے دوران کمپنی تمام لوگ یہ جان چکے تھے کہ اتحادی فوج جنگ جیتنے والی ہے، لہٰذا ٹرانسپورٹ کی صنعت میں یہ امکان پیدا ہو گیا تھا کہ جیٹ انجن کی مدد سے جنگ کے دوران امریکی سبقت کو ختم کیا جاسکتا ہے۔

کمرشل پروازوں کے لیے کامٹ طیاروں کی تیاری کو خفیہ رکھا گیا تھا۔ انجینیئرنگ ٹیم کا دھیان کمرشل فلائٹ میں رفتار کے ساتھ اس کی اڑان آسان بنانا تھا۔

ستمبر 1946 میں ایک پریکٹس پرواز کے دوران حادثہ پیش آیا اور ہویلینڈ کے بیٹے کی موت ہو گئی جو ان کے لیے بہت بڑے صدمے کا باعث بنا۔

لیکن انھوں نے امید نہیں ہاری۔ 27 جولائی کی آزمائشی پرواز میں جان کننگہیم پائلٹ بنے اور 36 سیٹوں والے جہاز میں عملے کے بس تین لوگ سوار تھے۔

سنہ 1949 میں کامٹ کی پہلی ٹیسٹ پرواز کی کامیابی کے بعد اسے تین مزید برسوں تک ٹیسٹ کیا جاتا رہا۔ ہویلینڈ کے لیے یہ بھی اہم تھا کہ وہ پریشان مسافروں کو تسلی دیں کہ طیارے محفوظ ہیں اور ان کے ذریعے تیز رفتار سفر بہت زیادہ اہمیت حاصل کرنے والا ہے۔

پھر 1952 میں برطانوی اوورسیز ایئر کرافٹ کارپوریشن نے 44 سیٹوں پر مشتمل کامٹ طیارے استعمال کرتے ہوئے پہلی کمرشل جیٹ ایئر سروس شروع کی۔ پہلی پرواز دو مئی کو لندن اور جوہانسبرگ سے اڑائی گئی۔

اس کامٹ کی رفتار 480 میل فی گھنٹہ تھی اور اس وقت اسے سب سے تیز سمجھا جاتا تھا۔

تاہم ابتدائی کمرشل ایئر سروس قلیل مدتی رہی۔

کامٹ، ہوائی سفر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکامٹ، ہوائی سفر

سنہ 1953 اور 1954 میں متعدد طیارے حادثے پیش آئے اور اس طرح تمام کامٹ طیارے گراؤنڈ کر دیے گئے۔ اس میں ایک حادثہ کینیڈین پیسیفک ایئر لائنز کے ایک کامٹ طیارے کو چار مارچ 1953 کو کراچی میں پیش آیا تھا۔

لندن سے سڈنی اور راستے میں کئی ایئرپورٹس پر رکنے والا یہ طیارہ ممکنہ خریداروں کو متاثر کرنے کے لیے لایا گیا تھا۔

مگر کراچی ایئرپورٹ پر اس طیارے نے ٹیک آف کی کوشش کی تو ایک خوفناک دھماکے سے یہ پھٹ گیا۔ اس میں پانچ کینیڈین اور چھ برطانوی شہریوں کا عملہ جھلس گیا اور ان کی لاشیں بھی پہچان میں نہ آ سکیں۔

برطانوی ٹیکنیشن ایچ واٹرز، کو اس حادثے میں مارے گئے تھے، وہ 27 جولائی 1949 کی کامیاب آزمائشی پرواز پر بھی موجود تھے۔

تفتیش کاروں نے بالآخر یہ وضاحت پیش کی تھی کہ اس طیارے میں دھات دباؤ برداشت نہیں کر سکا تھا۔ کمپنی نے جب چار سال بعد کامٹ کے بہتر طیارے بنا لیے تو اس وقت تک امریکی ایئر لائنز بوئنگ اور ڈگلس پہلے سے مارکیٹ میں اپنا اثر و رسوخ قائم کر چکے تھے۔ انھوں نے زیادہ کارآمد اور برق رفتار جیٹ طیارے بنا لیے تھے جو ایوی ایشن کی صنعت پر چھا گئے تھے۔

سنہ 1980 کے اوائل میں کامٹ طیارے، جو ایک وقت تک سب کی پسند تھے، اب آؤٹ آف سروس ہو چکے تھے۔

مگر اس سے پہلے ہی سنہ 1965 میں ہویلینڈ کی وفات ہو چکی تھی۔ ان کی آخری رسومات اسی مقام پر ادا کی گئیں جہاں انھوں نے پہلی ٹیسٹ فلائٹ اڑائی تھی۔