امریکی فضائی کمپنی کا سنہ 2029 تک سپر سونک مسافر پروازیں شروع کرنے کا منصوبہ

،تصویر کا ذریعہUnited/Boom
- مصنف, کرس فوکس
- عہدہ, ٹیکنالوجی رپورٹر
امریکی فضائی کمپنی یونائٹیڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ پندرہ نئے سپر سونک (آواز کی رفتار سے تیز) جہاز خریدنے اور سنہ 2029 تک 'فضائی سفر کی دنیا میں آواز کی رفتار سے تیز سفر کی واپسی' کا ارادہ رکھتے ہیں۔
سپر سونک یعنی آواز کی رفتار سے تیز سفر کرنے والی مسافر فضائی پروازوں کا اختتام سنہ 2003 میں ہوا تھا جب ایئر فرانس اور برٹش ایئر ویز نے کونکورڈ جہازوں کو ریٹائر کر دیا تھا۔
اس نئے اورچر نامی سپر سونک طیارے کو امریکی شہر ڈینیور کی ایک بوم نامی کمپنی نے تیار کیا ہے جس کی ابھی سپر سونک پرواز کا تجربہ کرنا باقی ہے۔ امریکی فضائی کپمنی یونائٹیڈ کا نئے سپر سونک طیارے خریدنے کا معاہدہ اس کے حفاظتی معیار سے مشروط ہے۔
سپر سونک پرواز کیا ہے؟
سپر سونک پرواز اس کو کہتے ہیں جب طیارہ آواز کی رفتار سے تیز پرواز کرتا ہے۔ یعنی ساٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر 1060 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز پرواز کرنا۔ ایک عام مسافر طیارہ 900 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کر سکتا ہے لیکن توقع ہے کہ اورچر نامی سپر سونک طیارہ 1805 کلومیٹر فی گھنٹہ کے رفتار سے پرواز کرے گا۔
اس رفتار سے لندن اور نیو یارک جیسے شہروں کے درمیان مسافت کا دورانیہ آدھا رہ جائے گا۔ اورچر بنانے والے کمپنی بوم کا کہنا ہے کہ یہ لندن سے نیویارک ساڑھے تین گھنٹے میں پہنچ سکتا ہے یعنی عمومی وقت سے تین گھنٹے کم لگیں گے۔
کونکورڈ نامی سپر سونک جہاز جو مسافر بردار فضائی سروس میں سنہ 1976 میں متعارف کروائے گئے تھے اس سے بھی تیز رفتار پر اڑ سکتے تھے۔ ان کی رفتار 2180 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔
چیلنجز کیا درپیش ہیں؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مسافر بردار سپر سونک جہازوں سے متعلق دو مسائل کا سامنا ہے، ایک آواز اور دوسرا آلودگی۔ آواز کی رفتار سے تیز سفر سے ایک سونک بوم بنتا ہے جس سے زمین پر ایک دھماکے یا زوردار گرجتے بادل کی طرح کی آواز آتی ہے۔ اور اسی چیز کی بنا پر کمپنی نے اپنا نام بوم رکھا ہے۔
کمپنی بوم کا کہنا ہے کہ وہ جہازوں کو اس بات کے لیے محدود کر سکتے ہیں کہ وہ کہاں پر آواز کی رفتار سے تیز پرواز کر سکتے ہیں۔ عام طور پر انھیں شہری علاقوں کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے اپنے رفتار کم کرنا چاہیے تا کہ شہری زور دار دھماکے کی آواز سے پریشان نہ ہو۔ جہاز سمندروں یا ایسے علاقوں میں اپنی رفتار بڑھا سکتے ہیں جہاں انسانی آبادی نہ ہو۔

،تصویر کا ذریعہReuters
یہ بھی پڑھیے
طیارہ ساز کمپنی بوم کا کہنا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ اڑان بھرتے وقت یا لینڈنگ کے وقت ان کے جہازوں کی آواز روایتی مسافر بردار طیاروں سے زیادہ نہیں ہو گی۔ کمپنی طیارے کے ڈیزائن میں بھی بہتری کی امید کرتی ہے۔ کونکورڈ اس کو آواز میں کمی لانے میں بھی مدد دے گا۔
دوسرا بڑا مسئلہ ایندھن کی زیادہ کھپت ہے۔
بوم کمپنی کے چیف کمرشل آفیسر کیتھی ساویٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ سپر سونک پرواز کے لیے آپ کو زیادہ طاقت کی ضرورت ہو گی، آپ کو مزید ایندھن کی ضرورت ہوگی۔' لیکن وہ امید کرتی ہیں کہ اورچر زیرو کاربن پیدا کرنے والا طیارہ ہو گا جو ماحول کو کم سے کم آلودہ کرے گا۔
کیا سپرسونک سفر واقعی مستحکم ہے؟
بوم کمپنی کا منصوبہ ہے کہ اورچر کو مکمل طور پر سسٹین ایبل ایویشن فیول پر چلایا جائے؟ کرین فیلڈ یونیورسٹی میں ہوا بازی اور ماحولیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر گائے گریٹن اس کی وضاحت کرتے ہیں کہ یہ ایندھن فارمنگ سے لے کر ہائی انرجی والی فصلوں تک اور ہر قسم کے فضلے اور جانوروں کی چربی سے لے کر بنائے گئے 'پوش بایوڈیزل' سے حاصل ہو سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ لیکن اس میں ایک مسئلہ ہے کہ 'دنیا ابھی بھی اس قسم کے تیل کی مطلوبہ پیداوار سے کوسوں دور ہے جو پوری طرح فضائی صنعت کے ایندھن کی ضرورت کو پورا کر سکے۔'
بوم نے 'توانائی سے مائع' عمل کی پیش گوئی کی ہے ، جہاں قابل تجدید توانائی جیسے ہوا کے ذریعے توانائی حاصل کرنے کا استعمال مائع ایندھن تیار کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ بوم کپمنی کے عہدیدار ریمنڈ رسل کہتے ہیں کہ 'ہم توقع کرتے ہیں کہ ہمارے ضرورت سے پہلے ہی اس کی صنعتی بنیادوں پر دستیابی ہو گی۔'
ان کا کہنا ہے کہ اس شعبے میں دونوں فضائی کمپنی کے معاہدوں اور سرمایہ کاری میں اربوں ڈالر لگے ہیں۔' لیکن یہ وہ صنعت ہے جس میں بہتری کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر گریٹن سوال کرتے ہیں کہ کیا ' آپ کو اچانک سستی قیمتوں پر پائیدار بجلی کی بے تحاشا اضافی فراہمی مل سکتی ہے؟' ان کا کہنا ہے کہ 'میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ایسا ہو نہیں سکتا، ایسا بالکل ہو سکتا ہے لیکن یہ اب تک ہوا نہیں ہے۔'
کیا سپر سونک سفر کی مانگ ہے؟
آج سے 50 برس قبل کونکورڈ جہازوں کی تیاری میں بے تحاشہ اخراجات آنے کے باوجود یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے آپریشن کے آخری چند برسوں میں برٹش ایئر ویز کے لیے منافع بخش تھا۔
کونکورڈ میں سفر کرنا امارت کی نشانی سمجھا جاتا تھا کیونکہ اس کی فضائی سفر کا ٹکٹ روایتی مسافر طیارے کی بزنس کلاس سے مہنگا ہوتا تھا۔
ڈاکٹر گریٹن کا کہنا ہے کہ آج رئیس مسافر شاید کمرشل پروازوں میں دیگر مسافروں کے ساتھ فرسٹ کلاس میں سفر کرنے کے بجائے ذاتی جہازوں کو ترجیح دیں جو انھیں ان کی مرضی کے ایئرپورٹس پر پہنچا سکتی ہے اور ٹکٹ کاؤنٹر کی بھیڑ سے بچ کر وہ مسافت کا وقت بھی کم کر لیتے ہیں۔
مس ساویٹ کا کہنا ہے کہ بوم کی تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ مسافر تیز رفتار سفر چاہتے ہیں اور تیز رفتار طیارے 'انسانی روابط کو گہرا اور بہتر کاروباری تعلقات بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔' کونکورڈ کے برعکس، کمپنی کو توقع ہے کہ اورچر طیارہ ایئر لائنز کے لیے منافع بخش ہو گا، یہاں تک کہ اگر اس کے ٹکٹ کی قیمت بھی ایک روایتی مسافر جہاز کے بزنس کلاس کے برابر رکھی جائے۔
آخر کار یہ فیصلہ امریکی فضائی کمپنی یونائٹیڈ نے کرنا ہے کہ اس کے سفر کے ٹکٹ کی قیمت کیا ہو گی لیکن یقیناً وہ اپنے دو سو ملین ڈالر کے جہاز پر منافع کمانا چاہیے گی۔










