جیف بیزوس: صارفین سے لگاؤ رکھنے والے ایمازون کے بانی اور سربراہ نے اپنا عہدہ چھوڑ دیا

Jeff Bezos

،تصویر کا ذریعہReuters

    • مصنف, جیمز کلیٹن
    • عہدہ, نامہ نگار برائے ٹیکنالوجی، شمالی امریکہ

سنہ 2004 میں، جیف بیزوس اور ان کے تکنیکی معاون کولن برائیر اکٹھے ٹیکوما شہر گئے جو ریاست واشنگٹن میں سیاٹل کے جنوب میں ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔

اس وقت ایمازون کمپنی کی مالیت اربوں ڈالر تھی۔ البتہ وہ دونوں ایمازون کے کسٹمر سروسز سینٹر یعنی صارفین کی سہولیت کے لیے قائم مرکز جارہے تھے، جہاں انھیں دو دن کسٹمر سروس ایجنٹ کی حیثیت سے گزارنا تھے۔

برائیر کا کہنا ہے کہ ’جیف بیزوس خود فون کالز کا جواب دے رہے تھے۔‘

اس وقت کو یاد کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ ایک پراڈکٹ کے متعلق مسلسل شکایت آ رہی تھی اور جیف کی آنکھیں مزید کھلنے لگیں۔‘

جیف بیزوس مایوس تھے۔ پراڈکٹ میں یقیناً کچھ خرابی تھی، لیکن اس کا حل نہیں نکالا گیا تا۔ اس دن کے آخر میں انھوں نے خراب مصنوعات کی نشاندہی کرنے کے زیادہ موثر طریقے بتانے کے لیے سب کو ایک ای میل بھیجی۔

A product sits on a conveyer belt in an Amazon warehouse

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بیزوس نے ایمازون کی بنیاد رکھنے کے ٹھیک 27 سال بعد، پیر کے روز کمپنی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

اس عرصے میں انھوں نے غیر معمولی قائدانہ صلاحیتوں (اصولوں) کا مظاہرہ کیا ہے۔۔۔

کچھ لوگوں کا ماننا ہے یہی اصول ان کی کامیابی کی دلیل ہیں۔ جبکہ دیگر افراد کا خیال ہے کہ یہ بنیادی اصول ہر بڑی ٹیکنالوجی کمپنی میں غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ایمازون میں کام کرنے والے کسی بھی شخص سے بات کر لیں، آپ کو زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا اور یہ جملہ سننے کو ملے گا: ’گاہک کے تجربے کو بہتر کرنے کا جنون‘۔

بیزوس کے نزدیک، منافع بعد کی بات تھی لیکن ایک کمپنی کو کامیاب ہونے کے لیے کسی بھی قیمت پر گاہک کو رکھنے کی ضرورت ہے۔

نادیہ شورابورا نے 2004 میں ایمازون کے لیے کام کرنا شروع کیا۔ انھیں ایمازون کے مینیجرز یعنی سینیئر مینیجر بورڈ کی ایلیٹ ’ایس ٹیم‘ میں مدعو کیا گیا۔ لیکن کام کے آغاز میں انھیں لگا کہ شاید وہ جلد ہی کمپنی سے نکال دی جائیں گی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’کرسمس سیلز کے عروج کے دنوں میں، میں نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی۔‘

نادیہ نے ایسی بہت ساری مصنوعات منگوا لیں جنھیں گودام میں رکھنا پڑا۔ گودام سے اشیا نکالنے میں وقت اور رقم درکار ہوتی ہے۔

’میں نے کم سے کم پیسے ضائع کرنے کا ایک چالاک طریقہ نکالا جس سے یہ مسئلہ بھی حل ہو جاتا۔ لیکن جب میں نے جیف سے اس بارے میں بات کی تو انھوں نے میری طرف دیکھا اور کہا ’تم اس سب کے بارے میں غلط طریقے سے سوچ رہی ہو۔‘

’تم یہاں پیسے کمانے کا طریقہ سوچ رہی ہو۔ جاؤ اور جا کر پہلے صارفین کے لیے مسئلہ حل کرو اور پھر کچھ ہفتوں بعد مجھے آ کر کل خرچ بتاؤ۔‘

دھماکہ خیر انکشافات کے دعوے

بیزوس کے بہت سارے نقاد بھی ہیں۔

گذشتہ ماہ پروپولیکا کے ایک دھماکہ خیز انکشافات سے بھرپور مضمون میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ انھوں نے بیزوس کے ٹیکس گوشوارے دیکھے ہیں اور بیزوس نے مبینہ طور پر 2007 اور 2011 میں کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا تھا۔

یہ دنیا کے سب سے امیر آدمی کے بارے میں ایک حیرت انگیز دعویٰ تھا۔

ایمازون کے بارے میں پھیلنے والی دیگر منفی کہانیاں، کمپنی کی بے رحمانہ پالیسی اور ان کے اجارہ دارانہ رویے کے دعوے، یہ سب بیزوس کی ساکھ کے لیے کوئی اچھی باتیں ثابت نہیں ہوئیں۔

تاہم ان کے ساتھ کام کرنے والے بہت سارے لوگوں کا کہنا ہے کہ جیف لاپرواہ یا خود غرض نہیں ہیں۔

وہ سمجھتے ہیں کہ بیزوس دور اندیش شخصیت ہیں۔۔۔ ایک ایسا شخص جس کی توجہ صرف اور صرف ایک چیز پر مرکوز ہے اور جس نے کام کرنے کے بے مثال اصول وضع کیے ہیں۔ وہ تقریباً 18 کھرب ڈالر مالیت کی کمپنی کے بانی اور سربراہ رہے ہیں۔

Jeff Bezos

دو پیزے کھلانے‘کا اصول

بیزوس چھوٹی ٹیم پسند کرتے ہیں۔ ان کے پاس میٹنگز کو نتیجہ خیز بنانے کا ایک اصول ہے: اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ پورے گروہ کو دو پیزے کھلا سکیں۔

انھیں پاور پوائنٹ پریزنٹیشنز سے نفرت ہے، اس کے بجائے وہ انتظامیہ سے گفتگو کے لیے تحریری یادداشتوں کو ترجیح دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

وہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی میٹنگ میں غالب شخصیات دوسروں پر زیادہ دباؤ نہ ڈال سکیں۔ یہ ممکن بنانے کے لیے وہ بعض اوقات میٹنگ کے دوران ہر شخص کے پاس جا کر پوچھتے ہیں کہ کسی سوال کے متعلق وہ کیسا محسوس کرتے ہیں۔

ان سے واقف لوگ متفق ہیں کہ وہ ایسے لوگوں کو پسند کرتے ہیں جو ان کی مخالفت میں سامنے آئیں۔ نادیہ کہتی ہیں کہ ’ہم بحث کرتے تھے، بلکہ ایک دوسرے پر چیختے تھے۔‘

’ہر بات کھل کر ہوتی ہے، میز پر ہی۔ اور گفتگو کافی تلخ اور بہت پُرجوش ہوجاتی ہے۔ لیکن یہ کسی شخص کے بارے میں نہیں بلکہ عنوان پر ہوتی ہے۔‘

ایمازون نے رہنمائی کے 14 اصول وضع کیے ہیں۔ ان میں سے ایک ’اختلاف کی صلاحیت رکھنا‘ ہے۔

اور بیزوس چاہتے ہیں کہ اعلیٰ سطح پر بھی یہ روایت بنے۔ ایک اصول کے مطابق ’اپنے لوگوں سے تعلقات برقرار رکھنے کی خاطر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔‘

تاہم یہ سوال اٹھتے رہے ہیں کہ آیا ایمازون میں ہر کوئی یہ فلسفہ صحیح سمجھ پایا ہے۔

سنہ 2015 میں نیو یارک ٹائمز کی ایک خبر کے مطابق ایمازون کے سابقہ ملازمین نے وہاں کام کی غلط روایات کا دعویٰ کیا تھا۔

بیزوس انجینیئرنگ، تجدید اور مشینوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ ہر چیز میں ناپ تول کا خاص خیال رکھتے ہیں جو لاجسٹکس کے شعبے میں اہم ہے۔ مگر ناقدین کہتے ہیں کہ اس جنون نے انسانوں کو نقصان پہنچایا ہے، خاص کر ایمازون کے سینکڑوں گوداموں میں۔

آلاباما کے شہر بسمر میں جب ایمازون کے ملازمین کی یونین بنانے کی کوشش ناکام ہوئی تو میں نے کچھ ملازمین سے بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود کو ’غیر اہم‘ سمجھنے لگے ہیں۔ کچھ کو لگتا تھا کہ ان کی ’ہر وقت نگرانی کی جاتی ہے۔‘

اینڈی جیسی 1997 سے ایمازون کے ساتھ کام کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناینڈی جیسی 1997 سے ایمازون کے ساتھ کام کر رہے ہیں

لیکن اعلیٰ سطح پر بیزوس کی رہنمائی کا طریقہ الگ رہا ہے۔ وہ پسند کرتے ہیں کہ ان کی ٹیم بااختیار ہو اور اس سے کام میں تجدید آسکتی ہے۔

ایمازون کی کامیاب کلاؤڈ کمپیوٹنگ سروس ایمازون ویب سروسز (اے ڈبلیو ایس) کا براہ راست کمپنی کے ای کامرس کے کاروبار سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

مگر بیزوس نے اس خیال کی حمایت کی۔ انھوں نے اپنے قابل اعتماد مینیجر اینڈی جیسی کو آزادی اور پیسے دیے تاکہ وہ کمپنی کے اندر مزید ایک کمپنی کھڑی کرسکیں۔

وہ جانتے تھے کہ جیسی صرف ان کے مینیجر نہیں بلکہ خود کاروبار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ اہم وجہ ہے کہ بیزوس کے بعد اب جیسی ایمازون کے سربراہ ہوں گے۔

نادیہ کے مطابق ’جب آپ کی کمپنی سٹارٹ اپ ہو تو بہادری دکھانا آسان ہوتا ہے۔ مگر یہ مشکل سے مشکل ہوتا جاتا ہے کیونکہ خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ جیف بیزوس نے ہمیشہ ہمت دکھائی ہے۔‘

برائیر کہتے ہیں بیزوس نے ہمیشہ کسی پیچیدگی کا حل اس سے پیش آنے والی مشکل کو سمجھ کر تلاش کیا ہے۔ ’ایمازون میں یہ طرز خاص رہا ہے۔‘

منصوبہ بندی کی سطح پر ٹیمیں ریورس ٹائم لائن بناتی ہیں، یعنی وہ سوچتے ہیں کہ کوئی پراڈکٹ یا سہولت کیسی لگے گی اور پھر پیچھے کی طرف آتے ہوئے اس کے مراحل طے کرتے ہیں۔

’ٹیم سب سے پہلے ایک پریس ریلیز لکھتی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو باقی کمپنیاں آخر میں کرتی ہیں۔‘

اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بیزوس کے لیے وقت کی اہمیت کیا ہے۔ وہ اس بارے میں کچھ زیادہ سوچتے ہیں۔

انھوں نے ٹیکساس میں ایک کھوکھلے پہاڑ کے اندر چار کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی لاگت سے ایک گھٹریال لگایا ہے جو اگلے 10 ہزار سال تک وقت بتائے گا۔ اس کا مقصد ’طویل مدتی سوچ‘ کی طاقت کو نمایاں کرنا ہے۔

بیزوس نے اپنے کاروبار کو ہمیشہ طویل مدتی مقابلے کے تناظر میں دیکھا ہے۔ ان کے قریب لوگ کہتے ہیں کہ وہ ’اپنے بنائے اصولوں پر چلتے‘ ہیں، یعنی وہ شخص جس کے لیے قلیل مدتی منافع سے زیادہ صارفین سے لگاؤ اہم ہے۔

جیف بیزوس

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجیف بیزوس اپنی کمپنی بلیو اوریجن کی خلا کے سفر کے لیے شروع کی جانے والی پہلی انسانی پرواز میں اپنے بھائی کے ساتھ سفر کریں گے

انھیں ہمیشہ سے خلا کے سفر میں بھی دلچسپی رہی ہے۔ وہ اپنی کمپنی بلیو اوریجن کی خلا کے سفر کے لیے شروع کی جانے والی پہلی انسانی پرواز میں اپنے بھائی کے ساتھ سفر کریں گے۔

مگر ان سے متعلق ایک ایسی درخواست پر ڈیڑھ لاکھ لوگوں نے دستخط کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ انھیں خلا سے واپس آنے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے۔

آپ انھیں پسند کریں یا ان سے نفرت کریں، اس میں کوئی شک نہیں کہ بیزوس نے خود کو ایک کامیاب رہنما کے طور پر ثابت کیا ہے۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جنھوں نے ٹیکنالوجی سمیت ہر شعبے کی بڑی کمپنی کا ماحول بدل کر رکھ دیا ہے۔